• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوانوں کا روز مرہ سماجی معاملات میں مصنوعی ذہانت پر زیادہ انحصار

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

حالیہ مطالعات کے مطابق نوجوانوں اور نو عمر افراد کی ایک بڑی تعداد روزمرہ سماجی روابط اور ذاتی گفتگو کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا سہارا لینے لگی ہے، تقریباً 20 فیصد نوجوان تعلقات سے متعلق مشورے اور جذباتی معاونت کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کر رہے ہیں۔

تحقیق کے مطابق نوجوان مشکل ٹیکسٹ پیغامات لکھنے، غیر آرام دہ گفتگو کی مشق کرنے اور مختلف سماجی صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے اے آئی ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے نوجوان ان ڈیجیٹل معاونین کو پیچیدہ انسانی تعلقات سے نمٹنے کا کم دباؤ والا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

متعدد نوجوان مصنوعی ذہانت سے بات کرنا اس لیے پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ ہر وقت دستیاب ہوتی ہے اور مسترد کیے جانے کے خوف کو کم کر دیتی ہے۔

کلینیکل ماہرِ نفسیات جوشوا گڈمین کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس سے گفتگو نوجوانوں کو ایسا محفوظ ماحول فراہم کرتی ہے جہاں وہ ان موضوعات پر بات کر سکتے ہیں جن پر والدین یا دیگر قریبی افراد سے گفتگو کرنا انہیں مشکل محسوس ہوتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل چیٹ بوٹس حقیقی انسانی ہمدردی اور تعلقات کا متبادل نہیں بن سکتے۔

کلینیکل ماہرِ نفسیات میری الوورڈ کے مطابق محفوظ محسوس ہونا حقیقی تحفظ کے مترادف نہیں، کیونکہ چیٹ بوٹس کے ساتھ ہونے والی گفتگو محفوظ کی جاتی ہے اور اس کا تجزیہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

میڈیا ماہرِ نفسیات ڈان گرانٹ کا کہنا ہے کہ چیٹ بوٹس صارف کو چیلنج کرنے یا اختلافی رائے دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جس سے حقیقی زندگی میں سماجی مہارتوں کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو حقیقی دوستوں اور خاندانی روابط کی جگہ مکمل طور پر اے آئی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق روزمرہ زندگی میں لوگوں سے براہِ راست گفتگو کی مشق، اعتماد، مؤثر ابلاغ اور مضبوط جذباتی تعلقات قائم کرنے کے لیے بدستور ضروری ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید