• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اِن دِنوں دنیا ایک مشکل صورت حال سے گزررہی ہے۔ جنگیں اور تنازعات کسی خاص علاقے یا خِطّے میں جاری ہیں، لیکن اس کے اقتصادی اثرات دنیا کے ہر کونے تک پہنچ رہے ہیں۔ ویسے تو ماضی میں بھی جنگوں اور تنازعات کے اثرات پُرامن علاقوں تک بھی پہنچتے تھے، لیکن اس وقت ان کی رفتار اور اثرات آج کی نسبت بہت کم ہوتے تھے۔صنعتی انقلاب اور تیل کی دریافت کے بعد جہاں دنیا میں دیگر بہت سی انقلابی تبدیلیاں آئیں وہیں فاصلے بھی سمٹنے لگے۔

دخانی کشتیوں کے بعد کوئلے سے چلنے والےانجن نے یہ کام کیا،پھر ڈیزل انجن نے ان کی جگہ لے لی۔اس کے بعد چل سو چل، موٹر کاریں، موٹر سائیکلز آئیں، دیو ہیکل ہوائی اور بحری جہاز بننے لگے۔ یوں رکازی ایندھن دنیابھر میں نقل و حمل اور تعمیر و ترقّی کا استعارہ بن گیا۔ آج اسی رکازی ایندھن کے ہوش ربا نرخوں نے دنیا بھر کے لوگوں کی زندگیوں میں زہر گھول رکھا ہے۔

آج دنیا ایسے دور سے گزر رہی ہے جس میں جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں۔ یوکرین سے فلسطین، ایران سے یمن، شام سے لبنان تک جاری یا پھیلتے ہوئے تنازعات نے انسانی زندگی، عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں، سرکاری بجٹ اور اقتصادی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ عالمی سطح پر مسلح تنازعات کی تعداد بھی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے۔

آبنائے ہرمز سے باب المندب تک

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ آبنائے خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے بڑے تیل و گیس پیدا کرنے والے ممالک کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں معمولی نوعیت کی رکاوٹ بھی عالمی توانائی کی منڈیوں، تجارت اور معیشت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ 2026ء کے بحران میں آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت تقریباً رکنے سے اس اہمیت کی عملی مثال سامنے آئی ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے مطابق 2025ء کی پہلی ششماہی میں اوسطاً 20.9 ملین بیرل یومیہ تیل اور پیٹرولیم کی مصنوعات آبنائے ہرمز سے گزریں، جو دنیا کی پیٹرولیم اور اس کی مصنوعات کی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ تھا۔ اس مقدار کا تقریباً 89 فی صد ایشیائی منڈیوں کی طرف جاتا تھا اور چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا بڑے خریداروں میں شامل تھے۔

اس آبنائے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس کے متبادل راستوں کی گنجائش محدود ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے پاس پائپ لائنز اور بندرگاہوں کے ذریعے کچھ تیل کو آبنائے سے باہر منتقل کرنے کے متبادل موجود ہیں، لیکن یہ راستے آبنائے سے گزرنے والے پورے حجم کا متبادل نہیں بن سکتے۔ EIA کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بعض پائپ لائنز کی مجموعی متبادل گنجائش تقریباً 4.7 ملین بیرل یومیہ ہے۔اور اب سعودی عرب کی مشرق۔ مغرب پائپ لائن بھی حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے شدید طورپر متاثر ہوچکی ہے۔

آبنائے ہرمز صرف خام تیل کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ مائع قدرتی گیس (LNG) کی عالمی تجارت میں بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ 2024ء میں دنیا کی تقریباً 20 فی صد ایل این جی اسی آبنائے سے گزری، جس کا بڑا حصہ قطر سے برآمد ہوتا تھا۔ چین، بھارت اور جنوبی کوریا سمیت ایشیائی ممالک اس گیس کے بڑے خریدار ہیں۔

اس لیے اس آبنائے کی طویل بندش سے صرف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ہی متاثر نہیں ہوتیں بلکہ بجلی پیدا کرنے، کارخانے چلانے اور گھریلو ضروریات کے لیے استعمال ہونے والی گیس کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ 2026ء میں قطر کی ایل این جی کی برآمدات میں رکاوٹ نے ایشیائی خریداروں کو عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں یورپی خریداروں کے ساتھ مقابلے پر مجبور کیا۔

آبنائے ہرمز کی بندش کا فوری اثر عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ 2026ء کے بحران کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور ایک مرحلے پر 118 ڈالر تک پہنچی۔ بعد میں جنگ بندی کی خبر کے بعد قیمت میں کمی آئی۔

پہلے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی ، بالخصوص تیل اور گیس کی نقل و حمل کو شدید طور پر متاثر کیا اور اب یمن اور سعودی عرب کے درمیان تنازعے نے باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کی سلامتی اور تحفظ کو کسی ممکنہ خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

یمن اور سعودی عرب کا تنازع

یمن اور سعودی عرب کے درمیان تنازعے کو محض دوملکوں کی جنگ سمجھنا اس بحران کی پے چیدگی کو کم کر دیتا ہے۔ یہ دراصل یمن کی خانہ جنگی، سعودی عرب اور ایران کی علاقائی کش مکش، خلیج کی سلامتی، بحیرۂ احمر اور باب المندب کی سمندری گزرگاہ، عالمی توانائی کی تجارت اور بڑی طاقتوں کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق پالیسی کے باہمی ملاپ سے بننے والا ایک کثیرالجہتی بحران ہے۔

2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں فوجی مداخلت کے بعد یہ تنازع کئی برس تک جاری رہا۔ 2022 کی جنگ بندی کے بعد نسبتاً سکون پیدا ہوا، مگر مستقل سیاسی تصفیہ نہیں ہو سکا۔ اب ستمبر2026میں حوثیوں کی نئی عسکری پیش قدمی، سعودی اہداف پر حملوں اور باب المندب کے گرد بڑھتے ہوئے دباؤ نے تنازعے کو ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

یمن کا بحران بنیادی طور پر داخلی سیاسی طاقت کی کش مکش سے پیدا ہوا۔ حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، شمالی یمن میں ایک مضبوط سیاسی و عسکری قوت کے طور پر ابھری۔ 2014میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کیا اور اس کے بعد یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ جنگ شدت اختیار کر گئی۔

سعودی عرب نے2015میں یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے مداخلت کی کہ یمن میں حوثیوں کا غلبہ اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، خصوصاً اس لیے کہ ریاض حوثیوں کو ایران کی حمایت یافتہ قوت سمجھتا تھا۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے فضائی کارروائیاں شروع کیں۔

دوسری جانب حوثیوں نے وقت کے ساتھ میزائل اور ڈرون کی صلاحیتیں بڑھا کر سعودی سرزمین اور تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ چناں چہ یہ تنازع تین سطحوں پر چلتا رہا۔

حوثیوں کو محض ایران کا پراکسی سمجھنا صورت حال کو سمجھنے کے لیے مکمل تصویر نہیں بناتا۔ ان کی اپنی سیاسی، مذہبی، قبائلی اور قومی ترجیحات بھی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں یمن کی نسبتاً منجمد جنگ دوبارہ متحرک ہوئی ہے۔ ستمبر 2026میں حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ یمنی قوتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں اور بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کی۔

حال ہی میں حوثیوں کی افواج نے المخا (Mocha) اور میون/پریم (Mayun/Perim) جزیروں سمیت باب المندب کے قریب واقع اہم علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ اس پیش قدمی نے بحران کو محض یمنی داخلی جنگ سے نکال کر عالمی سمندری تجارت کے مسئلے میں تبدیل کر دیا ہے۔

اس کے ساتھ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں۔ اس طرح 2022 کے بعد پیدا ہونے والا نسبتاً پُرسکون ماحول ختم ہوگیا ہے۔

جنگیں، تنازعات، تیل اور عوام

تیل جدید معیشت کا بنیادی ان پٹ ہے۔ خام تیل کی قیمت بڑھنے سے پیٹرول، ڈیزل، ہوائی ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد یہ اثرات اشیا کی پیداوار اور ترسیل کی لاگت تک پہنچتے ہیں۔ نتیجتاً خوراک، صنعتی مصنوعات اور روزمرہ استعمال کی کئی اشیا منہگی ہوجاتی ہیں۔

عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے خبردار کیاہے کہ آبنائے ہرمز کی رکاوٹ توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے ایک بڑے اوراچانک اقتصادی بوجھ کے مترادف ہے جس سے کم آمدن والے ممالک خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں، کیوںکہ منہگی توانائی اور خوراک کی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے ان کے مالی وسائل محدود ہوتے ہیں۔

ایشیائی ممالک پراس مسئلے کے خصوصی اثرات مرتب ہوئے ہیں،کیوں کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا زیادہ تر تیل اورگیس ایشیا کی طرف جاتا ہے۔ اسی لیے چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے بڑے صنعتی ممالک اس راستے میں کسی رکاوٹ سے بہ راہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔

ایشیا میں تیل اور گیس کی کھپت معیشت کے ایک اہم حصے سے وابستہ ہے اور کئی ممالک بجلی پیدا کرنے اور صنعت کے لیے ایل این جی پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے بھی عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ درآمدی بل، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مجموعی منہگائی پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں مستقل اضافہ عالمی معاشی نمو کو بھی سُست کر سکتا ہے۔

جنگوں اور تنازعات کے بڑھتے مالی بوجھ

عالمی ہلالِ احمر کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں تقریباً 130 مسلح تنازعات موجود تھے، جوپندرہ برس قبل کے مقابلے میں اب دگنے سے زیادہ ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہے کہ دنیا اپنی دولت اور وسائل کا کتنا حصہ جنگوں پر خرچ کر رہی ہے، اور اس کا بوجھ آخرکار کون اٹھا رہا ہے؟

یوکرین اور روس کے درمیان جنگ نے یورپ کی سلامتی، توانائی اور عالمی معیشت کوبُری طرح متاثر کیا ہے۔ یوکرین کے لیے جنگ کا مالی بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ستمبر2026 میں یوکرین نے2027کے لیے تقریباً 110ارب ڈالرزکے دفاعی اخراجات کی تجویز دی ہے، جو مجوزہ مجموعی سرکاری اخراجات کا تقریباً دو تہائی بنتا ہے۔

اسی رپورٹ کے مطابق جنگ کی روزانہ لاگت 2022 کے تقریباً 116ملین ڈالرز سے بڑھ کر 2026میں تقریباً 190 ملین ڈالرز ہو چکی ہے۔ یہ اعدادوشمار صرف بجٹ کی کہانی نہیں سناتے۔ جنگ کے اخراجات بڑھنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ تعلیم، صحت، انفرااسٹرکچر اور سماجی بہبود کے لیے مالی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف جنگ سے تباہ شدہ شہروں، سڑکوں، بجلی کے نظام اور صنعتوں کی تعمیرِ نو کے لیے مزید سرمایہ درکار ہوگا۔

فلسطین، اسرائیل کی بہیمانہ جنگی کارروائیوں کی وجہ سے تباہی کا استعارہ بن چکا ہے۔ خصوصاً غزہ میں جنگ نے انسانی بحران کو انتہائی سنگین شکل دی ہے۔ ہزاروں افراد کی شہادت، گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی کے نظام اور کاروباری ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات نے فلسطینیوں کی زندگی جہنم بنادی ہے ۔عالمی بینک نے بھی غزہ میں جنگ کے نتیجے میں خوراک اور بنیادی اشیا کی قیمتوں اور رسد میں شدید خلل کی نشان دہی کی ہے۔

وہاں اسرائیلی کارروائیوں کی وجہ سے ہونے والا مالی نقصان صرف موجودہ تباہی تک محدود نہیں۔ اگر ایک نسل تعلیم سے محروم ہو جائے، کاروبار ختم ہو جائیں اور بنیادی ڈھانچا تباہ ہو جائے تو اس کے اثرات دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ دراصل کسی بھی علاقے میں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی لوگوں کو گھر، روزگار، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتیں دوبارہ حاصل کرنے کے لیے طویل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔

ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگوں اور عسکری کارروائیوں نے دنیا کو ہلا دیا ہے۔ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی عالمی معیشت کے لیے ایک اہم خطرہ اس لیے بھی ہے کہ یہ خطہ دنیا کی توانائی کی سپلائی اور اہم سمندری تجارتی راستوں کے قریب واقع ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دنیا کے ان ممالک کو بھی متاثر کرتا ہے جو بہ راہِ راست جنگ میں شامل نہیں ہیں۔

یمن اس بات کی واضح مثال ہے کہ جنگ کس طرح کسی ملک کی معیشت کو طویل عرصے تک مفلوج کر سکتی ہے۔ تیل کی برآمدات میں رکاوٹ، کرنسی کی کم زوری، منہگائی اور سیاسی و معاشی تقسیم نے وہاں کے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق یمن کی معیشت 2025 میں بھی سکڑی اور ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

ستمبر2026میں بحیرۂ احمر کے علاقے میں نئی کشیدگی نے اس بحران کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق یمن میں نئی عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی اور خوراک، صحت اور امداد کی فراہمی پر مزید دباؤ پڑا۔ یمن کا مسئلہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ جنگ ختم نہ بھی ہو تو اس کے معاشی اثرات مسلسل جاری رہ سکتے ہیں۔

شام اور لبنان کی صورتِ حال بھی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جنگ یا سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ فوری معاشی بحالی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ طویل تنازعات بنیادی ڈھانچے، اداروں، سرمایہ کاری، روزگار اور انسانی سرمائے کو کم زور کر دیتے ہیں۔ 

لبنان میں اقتصادی بحران، سیاسی عدم استحکام اور علاقائی کشیدگی ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔ شام میں طویل جنگ نے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے حالات میں عام شہری کے لیے جنگ کا مطلب صرف بم باری نہیں بلکہ بجلی کی کمی، منہگی خوراک، بے روزگاری، کم زور کرنسی، نقل مکانی اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی بھی ہے۔

دنیا کا بڑھتا ہوا جنگی بجٹ اور سسکتے انسان

اس پوری صورتِ حال کا سب سے اہم پہلو عالمی عسکری اخراجات میں اضافہ ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق 2025 میں دنیا کے فوجی اخراجات تقریباً 2.9ٹریلین ڈالرز تک پہنچ گئے تھے، جو ریکارڈ بلند سطح تھی۔ یہ عالمی مجموعی پیداوار کا تقریباً2.5فی صد تھا۔ دوسری جانب انسانی ضروریات کے لیے دست یاب وسائل کہیں کم ہیں۔

عالمی ہلالِ احمر کے مطابق2024میں عالمی دفاعی اخراجات تقریباً 2.7 ٹریلین ڈالرزتھے اور دوسری جانب پورے انسانی امدادی نظام نے تقریباً 50ارب ڈالرز کی اپیل کی تھی، لیکن اسے یہ رقم مکمل طور پر پر نہیں مل سکی تھی۔ یہ موازنہ جنگ اور امن کے درمیان انسانوں کی مالی ترجیحات کے انتخاب کا بڑا سوال پیدا کرتا ہے۔ ان اعدادوشمار سے یہ افسوس ناک بات سامنے آتی ہے کہ ہے کہ دنیا کے پاس وسائل موجود ہیں، مگر ان وسائل کا بڑاحصہ ہم تباہی اور بربادی لانے کے لیے خرچ کرنا چاہتے ہیں۔

آج دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جنگ کی قیمت صرف حکومتیں نہیں، بلکہ عوام بھی ادا کرتے ہیں اورجنگ کا خرچ صرف حکومتوں کے بجٹ تک محدود نہیں رہتا۔ جب ریاست دفاعی اخراجات بڑھاتی ہے تو اسے ٹیکس بڑھانے، قرض لینے، ترقیاتی اخراجات کم کرنے یا بیرونی امداد پر انحصار کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

دوسری طرف توانائی اور خوراک منہگی ہونے سے دنیا بھر کے صارفین متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق جنگیں ان ممالک کی پیداوار کو طویل عرصے تک کم کردیتی ہیں جہاں لڑائی ہوتی ہے اور اس کے اقتصادی اثرات دیگر ممالک تک بھی پہنچتے ہیں۔ جنگ کے بعد اقتصادی بحالی بھی عموماً سست اور غیر مساوی ہوتی ہے، اور پائے دار امن اس بحالی کی بنیادی شرط ہے۔

یوں جنگ کا ایک عجیب اقتصادی چکر بنتا ہے۔ جنگ تباہی لاتی ہے، تباہی مزید اخراجات کا سبب بنتی ہے، اخراجات مالی دباؤ بڑھاتے ہیں، مالی دباؤ عوامی خدمات کو متاثر کرتا ہے اورمنہگائی عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دیتی ہے۔

آج کا اصل چیلنج

یوکرین، فلسطین، ایران، یمن، شام اور لبنان کے بحران ایک دوسرے سے بالکل یک ساں نہیں ہیں۔ ہر تنازع کی اپنی تاریخ، سیاسی وجوہات اور فریق ہیں۔ لیکن ان سب میں ایک مشترک حقیقت ضرور دکھائی دیتی ہے، جو یہ ہے کہ جنگ کی قیمت صرف محاذ پر نہیں، بلکہ پوری معاشی اور انسانی زندگی میں ادا ہوتی ہے۔چناں چہ آج دنیا کے لیے اصل چیلنج صرف جنگیں ختم کرنا نہیں بلکہ ایسے سیاسی اور اقتصادی نظام تشکیل دینا بھی ہے جو دوبارہ جنگ کے امکانات کو کم کریں۔

اس کے لیے سفارت کاری، بین الاقوامی قوانین، انسانی امداد، اقتصادی تعاون اور تنازعات کے پُرامن حل تلاش کرنے والے اداروں کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ اگر آج کچھ ممالک کھربوں ڈالرز ہتھیاروں، میزائلوں اور جنگی تیاریوں پر خرچ ہو سکتے ہیں تو دنیا کو اُن سے یہ سوال مسلسل پوچھنا چاہیے کہ کتنے وسائل بھوک ختم کرنے، بچوں کو تعلیم دینے، نئےاسپتال بنانے، روزگارکے مواقعے پیدا کرنے اور تباہ شدہ معاشروں کی تعمیرِ نو کے لیے مختص کیےگئے ہیں ؟ آج دنیا بھرکے لوگوں کو خود سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ جنگ وجدل چاہتے ہیں یا پُر امن دنیا؟

اسپیشل ایڈیشن سے مزید