• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرزبرگ کی یادیں دل میں بس گئی ہیں،یہ ایک چھوٹا اور اُجلا شہر ہے جہاں انسان گُم نہیں ہوتا فطرت سے ہم کلام ہو کر خود کو دریافت کرتا ہے ،پیچھے بُلند پہاڑ پر ساتویں صدی کا وسیع قلعہ اور اُس کے آس پاس قدیم عمارتوں ، گلی کوچوں اور ڈھلوانوں کا سلسلہ ، نیچے چھوٹا سا خوبصورت بازار ، آمنے سامنے دکانیں ، کیفے اور اوپر ہوٹل ،لیکن کوئی عمارت تین منزل سے بُلند نہیں ، تمام عمارتیں اپنی پرانی وضع قطع اور تاریخی شناخت کیساتھ قائم ہیں۔نہ کوئی شاپنگ پلازہ ہے، نہ فلک بوس عمارت ، نہ دھواں اگلتی فیکٹری نہ کوئی اور بے ہنگم شور ، زیادہ تر گھر لکڑی کے بنے ہوئے ہیں ، شہر نے اپنی صدیوں پرانی ثقافت اور طرزِ زندگی کو بڑی محبت سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔

میرزبرگ فطرت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی والا شہر ہے ، انسانی سرگرمیوں کی آلودگی یہاں کم سے کم دکھائی دیتی ہے۔اس کے سامنے پھیلی ہوئی سمندر جیسی جھیلِ بودین میں ہر وقت کشتیاں اور جہاز رواں دواں رہتے ہیں لیکن فطرت کے فلٹر نے اسے برداشت کرتے ہوئے پانی کی شفافیت اور ماحول کی تازگی کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ جرمنی کا یہ جنت نظیر شہر چار ملکوں سے جُڑا ہوا ہے، چوہدری افتخار احمد اور بطینہ احمد نے کم وقت میں ارد گرد علاقے کے علاوہ آسٹریا اور سوئٹزر لینڈ کا ایک روزہ دورہ کروا کر سیر کا لطف دوبالا کر دیا۔

سوئٹزرلینڈ تو ویسے بھی خوبصورتی، نظم و ضبط اور شہری شعور کی علامت سمجھا جاتا ہے، چند برس پہلے اٹلی کی جانب سے سوئٹزرلینڈ کے چند شہروں کو دیکھنے کا موقع ملا تھا۔جب ایک بینک کے سامنے کھڑے ہو کر میں نے صرف ایک دعا مانگی تھی کہ کاش جو دولت غریب ملکوں سے نکل کر یہاں کے بینکوں میں پہنچی ہے وہ ایک دن واپس اپنے اصل وطن لوٹ جائے اور انہی لوگوں کی فلاح پر خرچ ہو جن کا اس پر حق ہے۔

اس بار زیورخ اور اس کے گردونواح کی سیر کی پہلے جھیل رائن اور پھر زیورخ جھیل کا نظارا کیا۔پانی صرف ایک قدرتی نعمت نہیں بلکہ شہری حسن، نقل و حمل، ماحولیات اور تفریح کا حصہ بھی ہے، بودین جھیل اور دیگر دریاؤں جھیلوں کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اعلیٰ دماغوں نے اپنے لوگوں کی تفریح اور سیاحت کی ترویج کے ساتھ پانی کو نقل وحمل کا وسیلہ بھی کیا ہوا ہے۔یورپ میں جگہ جگہ ایسے عوامی مقامات موجود ہیں جہاں شہری اور سیاح بھاری ٹکٹ ادا کرکے تاریخی ورثے، جھیلوں، باغات، عجائب گھروں اور ثقافتی مراکز سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔سیاحت معیشت کا بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔

لیکن جب دھیان اپنے ملک کی طرف جاتا ہے تو دل میں ایک عجیب سا دکھ بھی جاگ اٹھتا ہے اور ایک خواہش بھی سر اٹھاتی ہے کہ کاش ہم بھی اپنے خوبصورت وطن کو اس مقام تک پہنچا سکیں جس کا وہ حق دار ہے، پاکستان قدرتی حسن، زرخیز زمینوں، بلند پہاڑوں، دریاؤں، سمندر ، رنگا رنگ ثقافتوں اور بے پناہ انسانی صلاحیتوں سے مالا مال ملک ہے مگر ہم ابھی اُس کا حُسن نکھار کر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ناکام ہیں۔ یہاں کئی لوگوں نے مجھ سے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان بعض ممالک کی مدد کرتا تھا انہیں قرضے دیتا تھا اور آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان خود قرضوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے،اس سوال کا جواب ایک جملے میں نہیں دیاجا سکتا نہ کسی ایک فرد کو ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے ۔ہمیں ایک مضبوط سماجی نظام کی ضرورت ہے جو اچھے انسان اور معاشرے کا امین ہو۔ ڈنمارک میں راجہ فرہاد کوکب نے تصوف پر گفتگو اور سوال و جواب کی محفل کا اہتمام کیا تو بہت سے لوگوں کی تصوف کے حوالے سے دلچسپی سے آگاہی دیکھ کر خوشی ہوئی ۔

دنیا بھر کی سیر کی جا سکتی ہے، نئے ملک، نئی تہذیبیں ، نئے معاشرے اور پردیس کی خوبصورتی متاثر ضرور کرتی ہے مگر اپنے دیس کی فکر ہمیشہ ساتھ چلتی ہے۔ہر خوبصورت شہر کو دیکھ کر یہی خیال آتا ہے کہ کاش میرے ملک کے شہروں کا ماحول بھی ایسے صاف، منظم اور انسان دوست ہو، میرے لوگوں کے رویے انسانی قدروں کے پرچارک ہوں۔قانون سب کیلئے برابر ہو، طبقاتی فرق کم سے کم ہو اور ہر شہری کو عزت کے ساتھ جینے کا حق اور موقع میسر ہو۔ تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار بنیادی حقوق سمجھے جائیںجہاں کوئی شخص محرومی، بے بسی اور ناامیدی کے اندھیروں میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہو،جہاں ترقی کا معیار چند لوگوں کی خوشحالی نہیں بلکہ عام انسان کی آسودگی ہو۔شاید یہی احساس ہر سفر کے بعد میرے ساتھ واپس لوٹتا ہے کہ دنیا کے خوبصورت مقامات دیکھنے کے باوجود دل آخرکار اپنے وطن ہی میں ایک بہتر، خوشحال اور باوقار مستقبل تلاش کرتا ہے۔ جس طرح سوئٹزر لینڈ میں مصنوعی نہردیکھ لاہور کی نہر یاد آگئی۔درختوں کے سائے، بہتا پانی اور شہر کے بیچوں بیچ پھیلی یہ نہر لاہور کی شناخت کا حصہ ہے۔اگر اس پر مزید توجہ دی جائے تو یہ ایک شاندار تفریحی اور سیاحتی مقام بن سکتی ہے۔

لاہور میں پہلے سے موجود پارکس میں مزید دلچسپی کے سامان، ثقافتی سرگرمیاں، خاندانی تفریح کے مواقع اور بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تو نہ صرف شہریوں کو معیاری تفریح میسر آئے گی بلکہ حکومت کیلئے آمدنی کے نئے ذرائع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ہر بڑے شہر نے ایک معروف بازار یا گلی پیدل چلنے والوںکیلئے مختص کی ہوئی ہے جہاں سیاحوں کا رش بھی رہتا ہے اور زندگی کی رونق کا سامان بھی۔کیا ہی اچھا ہو اگر گلبرگ اور مال روڈ کا کچھ حصہ اگر پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں اور خاندانوںکیلئے مختص کر دیا جائے تاکہ لوگ اس سڑک پر موجود تاریخی مقامات ، کیفے، چھوٹے ثقافتی مراکز اور دیگر نظاروں سے لطف اندوز ہوں۔

تازہ ترین