کراچی (طاہر عزیز۔۔اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والوں سے گزارش کروں گا کہ وہ اپنی تحریک کو پر تشدد نہ کرے بدقسمتی سے ان کی ہر کال پر تشدد ہوتی ہےپٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لئے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی بات کی ہےلیوی کے خاتمے کے لئے جماعت اسلامی کے دھرنے اور مارچ کی حمایت کرتے ہیں ایم کیو ایم کو صرف باتوں تک لیتے ہیں کل یہ سندھی بولنے والوں کو تسلی تشفی دے رہے تھے ان کو پہلے اردو بولنے والوں کو تسلی دینا ہو گی ان کو بتائیں کہ بوری بند لاشیں اور بھتے کی پرچیاں نہیں آئیں گی نو مئی کا واقعہ بھولا نہیں جا سکتا مرتضیٰ وہاب کو پارکس کا میئر کہا جاتا ہے انہوں نےشہر میں بے شمار پارک بنا ئے ہیں ہےوزیر بلدیات نے اتوار کو اپنے طویل دورے میں کراچی کے اسکیم 33، ملیر میمن گوٹھ، گلستان جوہرور ملحقہ علاقوں میں جاری اربوں روپے کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کرکے سڑکوں، پلوں، انڈر پاس اور دیگر انفرااسٹرکچر منصوبوں پر جاری کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا، اس موقع پر ڈی جی کے ڈی اے زین العابدین انصاری اور متعلقہ حکام نے صوبائی وزیر کو مختلف منصوبوں پر جاری کام، تکمیل کی مدت، لاگت اور تعمیراتی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی حکام نے بتایا کہ ملیر میمن گوٹھ میں شاہراہ بھٹو کو ملانے کے لئے 11.54 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر جاری ہے جس کی تخمینی لاگت 1428 ملین روپے ہے سڑک کی چوڑائی 7.3 میٹر ہے جبکہ منصوبے میں 125 میٹر طویل فلائی اوور بھی شامل ہے وزیر بلدیات کو اسکیم 33 میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ چار بڑی سڑکوں کی تعمیر جاری ہے جبکہ مجموعی طور پر 24 کلومیٹر طویل دو رویہ سڑک کی تعمیر کے منصوبے کی تخمینی لاگت 1987 ملین روپے ہے اور منصوبے کا تقریباً 70 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، منصوبے کو مقررہ مدت سے قبل مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ تھڈو نالہ کے مقام پر سڑک کی تعمیر کے ساتھ برج بھی تعمیر کیا جارہا ہے سید ناصر حسین شاہ نے منور انڈر پاس جسے ٹریفک کے لئے کھولا جا چکاہے اس کے ایٹ گریڈ کاموں کا جائزہ لیاناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا ترقی اور تعمیر کا واضح وژن ہے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سوال پر وزیر بلدیات نے کہا کہ بلدیاتی الیکش کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے پنجاب اور اسلام آباد میں کوئی بلدیاتی نظام ہی موجود نہیں ہے انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہے، سندھ حکومت چاہتی ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔