پاور بینک سفر کے دوران موبائل فون اور دیگر ڈیوائسز کو چارج رکھنے کے لیے انتہائی کارآمد ہیں لیکن ہوائی جہاز میں انہیں ساتھ لے جانے کے حوالے سے سخت حفاظتی اصول موجود ہیں۔
پاور بینکس میں لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں جو کم جگہ میں زیادہ توانائی ذخیرہ کرتی ہیں لیکن اگر بیٹری کو نقصان پہنچے، وہ زیادہ گرم ہو جائے یا شارٹ سرکٹ کا شکار ہو تو اس میں آگ لگنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
بیٹری کے تیزی سے گرم ہونے اور آگ پکڑنے کے اس عمل کو ’تھرمل رَن اوے‘ کہا جاتا ہے۔
پاور بینک کو جہاز میں ساتھ لے کر جانے کی اجازت ہوتی ہے لیکن اسے لازمی طور پر ہینڈ بیگ یا کیبن بیگ میں اپنے ساتھ رکھنا چاہیے۔
زیادہ تر ایئر لائنز ایک مسافر کو زیادہ سے زیادہ 100 واٹ آور کی گنجائش والے 2 پاور بینکس رکھنے کی اجازت دیتی ہیں۔
بین الاقوامی فضائی رہنمائی اور متعدد ایئر لائنز کے قواعد کے مطابق پاور بینک کو دورانِ پرواز چارج کرنا ممنوع ہے۔
برٹش ایئر ویز کے مطابق جہاز کے سیٹ پر موجود پاور سپلائی ذاتی الیکٹرانک ڈیوائسز کے لیے استعمال کی جانی چاہیے، پاور بینک چارج کرنے کے لیے نہیں۔
اس کے علاوہ ٹیکسی، ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران پاور بینک کو کسی دوسرے آلے کو بجلی فراہم کرنے کے لیے بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
کئی ایئر لائنز مسافروں کو پاور بینک کے ذریعے موبائل فون یا دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز چارج کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتیں۔
پاور بینک کو ایسی جگہ رکھنا بہتر ہے جہاں ضرورت پڑنے پر اسے آسانی سے دیکھا اور نکالا جا سکے، مثلاً سیٹ کی جیب یا پھر اس بیگ میں جو سامنے والی سیٹ کے نیچے رکھا ہو۔
اگر کسی پاور بینک میں بیٹری پھولنے، نقصان پہنچنے یا غیر معمولی حد تک گرم ہونے کی علامات ہوں تو اسے جہاز میں نہیں لے جانا چاہیے۔
پاور بینکس میں موجود لیتھیم بیٹریاں عام حالات میں محفوظ ہوتی ہیں لیکن نقصان پہنچنے، زیادہ درجۂ حرارت یا شارٹ سرکٹ کی صورت میں ان میں آگ لگ سکتی ہے۔