واشنگٹن میں 24 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات میں تجارت، نایاب معدنیات، مصنوعی ذہانت، ایران اور تائیوان سمیت اہم معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی پر شائع ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا چین سے اپنی مصنوعات کے لیے بہتر منڈی، تجارتی توازن اور نایاب معدنیات کی قابلِ اعتماد فراہمی چاہتا ہے جبکہ چین محصولات میں کمی اور اپنی برآمدات کے لیے زیادہ یقین دہانی کا خواہاں ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق چین دنیا میں نایاب معدنیات کی کان کنی اور خصوصاً ان کی صفائی اور تیاری میں نمایاں برتری رکھتا ہے جس کے باعث یہ معاملہ امریکا کے لیے اہم بن گیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہیں، امریکا چین کو اپنی بڑی تکنیکی حریف طاقت سمجھتا ہے تاہم دونوں ممالک مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی مسابقت کے خطرات کو محدود کرنے کے لیے بات چیت بھی کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران بھی مذاکرات میں اہم معاملہ بن گیا ہے، امریکا چین سے ایران کے ساتھ مالی اور تجارتی روابط محدود کرنے پر تعاون چاہتا ہے جبکہ چین ایران کا اہم معاشی شراکت دار ہے، اس معاملے کا بھارت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ بھارت کے ایران سے توانائی، علاقائی رابطوں اور چابہار بندرگاہ سے متعلق اہم مفادات وابستہ ہیں۔
بھارتی سینئر تجزیہ کار، بریگیڈیئر ریٹائڑد انیل رامن کے مطابق اگر ٹرمپ چین سے نایاب معدنیات، تجارت یا ایران کے معاملے پر اہم رعایتیں حاصل کر لیتے ہیں تو بعض شعبوں میں بھارت کی فوری اہمیت واشنگٹن کی نظر میں کم ہو سکتی ہے۔
بھارت امریکا کے لیے متبادل سپلائی چین، ٹیکنالوجی، دفاع اور بحرِ ہند و بحر الکاہل میں ایک اہم شراکت دار ہے تاہم امریکا کو بعض ضروریات چین سے ہی پوری ہونے لگیں تو بھارت پر انحصار کی ضرورت کچھ شعبوں میں کم ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اگر مذاکرات ناکام یا محدود رہتے ہیں تو چین کے مقابلے میں بھارت کی اہمیت بڑھ سکتی ہے، خصوصاً ٹیکنالوجی، دفاع، مینوفیکچرنگ اور متبادل سپلائی چین کے شعبوں میں تاہم تجارتی اختلافات اور دیگر معاملات پر ٹرمپ انتظامیہ بھارت سے مزید رعایتیں بھی طلب کر سکتی ہے۔
تجزیہ کار کی رائے کے مطابق تائیوان کا معاملہ امریکا اور چین کے درمیان بنیادی اختلاف برقرار رکھتا ہے۔
رپورٹ میں شامل کی گئی دیگر ماہرین کی رائے کے مطابق تجارت یا مخصوص معاملات پر تعاون دونوں طاقتوں کے درمیان وسیع تر مسابقت ختم نہیں کرے گا۔
بھارت کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہو گی کہ ٹرمپ چین سے مذاکرات کے بعد واشنگٹن کی اگلی ترجیحات کیا طے کرتے ہیں اور امریکا کو بھارت کی اقتصادی، تکنیکی اور دفاعی صلاحیتوں کی کتنی ضرورت برقرار رہتی ہے۔