امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان 2 روزہ سربراہی ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے الگ الگ بیانات جاری کیے جن میں کئی اہم معاملات پر واضح اختلاف سامنے آیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑے تجارتی معاہدے طے پائے ہیں جبکہ چین نے اپنی توجہ تائیوان، ایران جنگ اور خطے کے امن پر مرکوز رکھی۔
امریکی بیان کے مطابق چین نے امریکی کمپنی بوئنگ سے 200 طیارے خریدنے پر آمادگی ظاہر کی تاہم چین اور بوئنگ نے اس معاہدے کی تصدیق نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق ملاقات میں امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری اور امریکی کمپنیوں کو چینی مارکیٹ تک زیادہ رسائی دینے پر بھی بات ہوئی مگر چینی بیان میں کسی مخصوص تجارتی معاہدے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
منشیات اسمگلنگ کے معاملے پر امریکا نے کہا کہ دونوں ممالک نے فینٹانائل کی ترسیل روکنے پر اتفاق کیا ہے لیکن چین کے سرکاری بیان میں اس موضوع کا کوئی ذکر شامل نہیں تھا۔
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے معاملے پر بھی دونوں ممالک کے بیانات مختلف رہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار نہیں ملنے چاہئیں جبکہ چین نے صرف یہ کہا کہ ایران جنگ شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی، مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکا نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک نے اس اہم بحری راستے کو کھلا رکھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ چین نے صرف عالمی توانائی سپلائی اور تجارت پر جنگ کے منفی اثرات کا ذکر کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے مسئلے کو امریکا چین تعلقات کا سب سے حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ غلط پالیسی دونوں ممالک کے درمیان تصادم کا باعث بن سکتی ہے جبکہ امریکی بیان میں تائیوان کا کوئی ذکر شامل نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملاقات میں امریکا چین تعلقات، ایران جنگ اور عالمی استحکام جیسے اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی اور کئی نئے مشترکہ نکات پر اتفاق کیا گیا۔