• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج جان ہاپکنز یونیورسٹی، واشنگٹن میں ایشیا کی سلامتی اور سمندری گزرگاہوں کی تزویراتی صورتِ حال پر لیکچر دیتے ہوئے عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے گردشِ ایام نے یکایک رخ بدلا اور ماضی کے کسی دریچے سے آواز آئی۔ سامنے واشنگٹن کی روشن عمارتیں تھیں، ۔دفعتاً 2001ءکا زمانہ یاد آیا، جب پہلی مرتبہ جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی اور ہیمبلڈ یونیورسٹی میں لیکچر دینے کا موقع ملا تھا۔ اس وقت کہاں معلوم تھا کہ یہ پہلا قدم مجھے ٹوکیو یونیورسٹی کے منبرِ علم سے گزارتا ہوا چین کی متعدد یونیورسٹیوں سے ہوتا ہوا ایران کی یونیورسٹیوں تک اور وہاں سے انگلینڈ میں ہیومن رائٹس انیشیٹو جیسے ادارے تک سفر کرائے گا ۔ جبکہ2008ءمیں جرمن پارلیمنٹ کی جنوبی ایشیا کمیٹی کے سامنے لے جائیگااور پھر ایک روز جان ہاپکنز یونیورسٹی، واشنگٹن تک پہنچا دے گا۔اس سفر میں پنجاب یونیورسٹی بھی آئی۔ آج امریکی دوستوں نے خواہش ظاہر کی کہ میں امریکی تھنک ٹینکس کیساتھ مستقل طور پر وابستہ ہو جاؤں۔ پیشکش اپنی جگہ دلکش تھی، مگر دل کے کسی گوشے میں فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔ میں نے کہا:

شہرِ لاہور تیرے ناز اٹھانے کے لیے

ہم تو زندہ ہیں تیرا نام بڑھانےکیلئے

لاہور کو آخر کیسے چھوڑوں! لیکچر میں عرض کیا کہ پاکستان کی سلامتی کا ذکر ہو اور فقط توپ و تفنگ کا شمار کیا جائے، تو گویا آدمی بیماری کا حال پوچھے اور نبض کے سوا بدن سے بے خبر رہے۔ زمانہ وہ نہیں رہا کہ دشمن سرحد پار لشکر باندھے اور خطرہ بھی اسی لباس میں دکھائی دے۔

اب خطرہ کبھی بندوق لے کر آتا ہے، کبھی معیشت کے دفتر میں بیٹھتا ہے، کبھی سیاست کے ایوان میں شور کرتا ہے، کبھی سائبر دنیا میں بے نام رہتا ہے۔ غرض سلامتی کا سوال اب سرحد سے زیادہ ریاست کی مجموعی قوت کا سوال ہے۔

ملک کے اندر بھی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ دور سے دیکھو تو چراغ روشن ہے، دروازے قائم ہیں، بازار آباد ہیںمگر قریب جاؤ تو دیوار میں دراڑیں بھی نظر آتی ہیں۔ سیاسی کشمکش، اداروں کی باہمی کشیدگی، معاشی تنگ دستی، صوبائی شکایات اور دہشت گردی،یہ سب الگ الگ مسائل معلوم ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ اس لیے محض یہ کہنا کہ ملک چل رہا ہے، استحکام کی پوری سند نہیں۔ ریاست کا اصل اطمینان تب ہےجب ادارے مضبوط، قانون معتبر، معیشت قابلِ برداشت اور عوام کو اپنے کل پر اعتماد ہو۔

چین کی طرف نظر کیجیے تو سی پیک ایک ایسا باب ہے جس میں امید بھی ہے اور امتحان بھی۔ سڑک بن جانا، بجلی گھر قائم ہوجانا اور گوادر میں بندرگاہ کا وجود میں آنا اپنی جگہ، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان سب سے ملک کی صنعت کتنی بڑھی، تجارت کتنی پھیلی، روزگار کتنا پیدا ہوا اور مقامی آدمی کے حصے میں کیا آیا۔

گوادر نقشے پر ایک نقطہ نہیں، جغرافیہ کا ایک موقع ہے مگر مواقع بھی اسی وقت نعمت بنتے ہیں جب ریاست ان سے معاشی فائدہ کشید کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ چین کے ساتھ دفاعی اور فنی تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن جو قوم اپنی تکنیکی قوت خود پیدا نہ کرے، وہ دوسروں کی مہارت سے ہمیشہ کیلئے مستغنی نہیں ہوسکتی۔

مکہ معاہدے کا معاملہ بھی کم دلچسپ نہیں۔ معاہدہ خواہ کتنا ہی خوش آئند نام رکھتا ہو، اصل سوال یہ ہے کہ اس کی عملی عبارت کیا کہتی ہے۔ مشترکہ دفاع کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟ فیصلہ کون کرے گا؟ اور اگر خطے میں کوئی نزاع پیدا ہو تو پاکستان کی ذمہ داری کہاں تک ہوگی؟ معاہدوں کی خوبی تقریروں سے نہیں، ان ذمہ داریوں سے معلوم ہوتی ہے جو وقتِ آزمائش میں سامنے آتی ہیں۔ پاکستان کیلئے لازم ہے کہ علاقائی تعاون کو اپنے قومی مفاد کی میزان میں تولتا رہے۔

امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری بھی ایک موقع ہے، اگر اسے محض سفارتی مسکراہٹ نہ سمجھا جائے۔ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، انسدادِ دہشت گردی اور سفارتی تعاون میں عملی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ مگر بیرونی تعلقات سے فائدہ اسی کو ہوتا ہے جسکے گھر میں حساب کتاب درست ہو۔ اگر معیشت کمزور، صنعت محدود اور برآمدات ناکافی ہوں تو بہترین خارجی تعلق بھی زیادہ دیر تک خزانے کو نہیں بھر سکتا۔ پاکستان کو تعلقات سے زیادہ اپنی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔

نئے صوبوں کا سوال بھی ایسا ہے کہ جسے نعرے سے حل کرنا گویا حساب کو شعر سے ادا کرنا ہے۔ آبادی، انتظام، مالی وسائل، جغرافیہ، نمائندگی اور وفاقی توازن،سب کو میزان میں رکھنا ہوگا۔ نہ ہر نئی تقسیم ترقی کی ضمانت ہے، نہ ہر موجودہ حد مقدس۔ اصل سوال یہ ہے کہ اقتدار عوام تک کتنی آسانی سے پہنچتا ہے، وسائل کس قدر منصفانہ تقسیم ہوتے ہیں اور ریاست اپنے شہری کو کتنی مؤثر خدمت فراہم کرتی ہے۔

پس پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ کسی ایک سرحد، ایک ملک، ایک معاہدے یا کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں۔ یہ پوری ریاست کی قوت کا سوال ہے۔ فوج مضبوط ہو مگر معیشت کمزور ہو تو قوت ادھوری ہے۔ معیشت بہتر ہو مگر سیاسی ادارے کمزور ہوں تو بنیاد ناقص ہےاور ادارے موجود ہوں مگر عوام کا اعتماد نہ ہو تو عمارت بے روح ہے۔ زمانہ یہی سبق دیتا ہے کہ ریاستیں صرف سرحدوں سے محفوظ نہیں ہوتیںوہ مضبوط اداروں، مستحکم معیشت، علمی استعداد اور عوام کے اعتماد سے محفوظ ہوتی ہیں۔

تازہ ترین