• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خوابوں سے بھرپور نیند درجنوں بیماریوں کے خطرے کو کم کر سکتی ہے: تحقیق

معیاری اور مناسب نیند صرف جسم اور ذہن کو بحال کرنے تک محدود نہیں بلکہ طویل مدتی صحت پر بھی اثر انداز بھی ہو سکتی ہے۔

ایک نئی برطانوی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خوابوں سے بھرپور نیند، جسے ریپڈ آئی موومنٹ (REM) نیند کہا جاتا ہے، کی زیادہ مقدار 83 بیماریوں کے کم خطرے سے منسلک ہے۔

طبی جریدے ’پی ایل او ایس میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں برطانیہ کے 95559 بالغ افراد کی نیند اور صحت سے متعلق معلومات کا تجزیہ کیا گیا۔ 

محققین کے مطابق گہری نیند کی زیادہ مقدار 7 بیماریوں کے کم خطرے سے منسلک تھی۔

یہ نتائج ان سابقہ تحقیقات میں مزید اضافہ کرتے ہیں جن میں خراب نیند کو صحت کے مختلف مسائل سے جوڑا گیا ہے تاہم، نئی تحقیق میں اس بات کا زیادہ تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے کہ نیند کے مختلف مراحل اور اس کے معمولات بیماریوں کے خطرے سے کس طرح منسلک ہو سکتے ہیں۔

نیند کی زیادہ درست نگرانی

اس تحقیق میں شرکاء کے بیان کے بجائے محققین نے شرکاء کی کلائی پر پہننے والے آلات کے ڈیٹا کا جائزہ لیا، اس کے ذریعے شرکاء کی جسمانی سرگرمیوں کی نگرانی کی گئی اور ان کے نیند کے معمولات کا اندازہ لگایا۔

شرکاء نے یہ آلات ایک ہفتے تک پہنے، جس سے محققین کو نیند کے مجموعی دورانیے کے ساتھ ساتھ نیند کے مختلف مراحل، بشمول ہلکی، گہری اور REM نیند میں گزارے گئے وقت کا جائزہ لینے میں مدد ملی۔

شرکاء کی اوسط عمر 56.2 سال تھی اور ان کی اوسطاً 8.9 سال تک نگرانی کی گئی، اس دوران محققین نے ان میں بیماریوں کی تشخیص اور اموات کا ریکارڈ مرتب کیا۔

REM نیند کا کم بیماریوں کے خطرے سے تعلق

محققین کے مطابق تحقیق کے آغاز میں REM نیند کی زیادہ مقدار 80 سے زائد بیماریوں میں مبتلا ہونے کے کم خطرے سے منسلک تھی۔

ان بیماریوں میں دل کی ناکامی، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بے قاعدہ دھڑکن، شریانوں کی بیماری، پارکنسنزم، ملٹی پل اسکلروسس اور یادداشت و ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کرنے والی متعدد بیماریاں شامل تھیں۔

REM نیند، نیند کا وہ مرحلہ ہے جس کا واضح اور جاندار خواب دیکھنے سے سب سے زیادہ تعلق ہوتا ہے۔ اس دوران دماغی سرگرمی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گہری نیند کی زیادہ مقدار 7 بیماریوں کے کم خطرے سے منسلک تھی، جن میں ٹائپ 2 ذیابیطس، شدید ڈپریشن، نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری (سلیپ ایپنیا) اور پارکنسنز کی بیماری شامل ہیں۔

خراب نیند لازماً بیماری کا سبب نہیں بنتی

محققین نے خبردار کیا ہے کہ تحقیق کے نتائج صرف باہمی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں، یہ ثابت نہیں کرتے کہ نیند کے مخصوص معمولات براہِ راست کسی بیماری کا سبب بنتے ہیں یا اس سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

اس کی ایک ممکنہ وضاحت ’الٹی سمت میں سببیت‘ (reverse causation) ہو سکتی ہے، جس میں پہلے سے موجود کوئی بیماری نیند کو متاثر کرتی ہے، نہ کہ نیند بیماری کا سبب بنتی ہے، مثال کے طور پر ڈپریشن کے شکار افراد میں نیند میں خلل عام ہے، اس لیے نیند میں خرابی ڈپریشن کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے، اس کی وجہ ضروری نہیں۔

اس بنا پر محققین نے کہا کہ نتائج کی تشریح احتیاط سے کی جانی چاہیے اور یہ تحقیق نیند اور بیماری کے درمیان براہِ راست سبب و مسبب کا تعلق ثابت نہیں کرتی۔

ہلکی نیند اور رات میں بیدار رہنا

محققین نے ہلکی نیند اور ابتدائی طور پر سو جانے کے بعد بیدار رہنے کے دورانیے کا بھی جائزہ لیا۔

ہلکی نیند میں زیادہ وقت گزارنا بعض بیماریوں، بشمول شدید ڈپریشن، کے زیادہ خطرے سے منسلک تھا تاہم، اس کا تعلق بعض دوسری بیماریوں کے کم خطرے سے بھی پایا گیا، جن میں دل کی ناکامی اور جلد کو متاثر کرنے والا ایک مخصوص بیکٹیریائی انفیکشن شامل ہے۔

سونے کے بعد زیادہ دیر تک بیدار رہنا 6 بیماریوں کے زیادہ خطرے سے منسلک تھا، جن میں نفسیاتی اثر رکھنے والے مادّوں پر انحصار اور اوسٹیو آرتھرائٹس شامل ہیں۔ نیند کے غیر باقاعدہ معمولات کا تعلق پیٹ کے درد، اضطراب اور شدید ڈپریشن کے زیادہ خطرے سے بھی پایا گیا۔

تحقیق میں مزید معلوم ہوا ہے کہ زیادہ دیر تک سونا 80 سے زائد بیماریوں کے کم خطرے سے منسلک تھا تاہم نیند کے انفرادی مراحل سے متعلق نتائج کی طرح، محققین کے مشاہدات بھی یہ ثابت نہیں کرتے کہ زیادہ دیر تک سونا براہِ راست ان بیماریوں سے بچاؤ کا سبب بنتا ہے۔

تحقیق کے نتائج اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ طویل مدتی صحت اور نیند کے تعلق کا جائزہ لیتے وقت صرف نیند کے مجموعی دورانیے کو نہیں بلکہ نیند کے معیار، اس کی ساخت اور اس کے معمول میں باقاعدگی کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

صحت سے مزید