پاکستان میں جب بھی سیاسی بحران شدت اختیار کرتا ہے یا عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو نئے صوبوں کے قیام کی بحث چھیڑ دی جاتی ہے۔ بظاہر یہ مطالبہ انتظامی اصلاحات، عوامی سہولت اور بہتر حکمرانی کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نئے صوبے پاکستان کے مسائل کا حل ہیں، یا یہ صرف اقتدار، وسائل اور اختیارات کی ایک نئی تقسیم کا منصوبہ ہے؟
نئے صوبوں کے حامی اکثر "بڑی آبادی" اور "وسیع رقبے" کا مسئلہ اٹھاتے ہیں، لیکن وہ جان بوجھ کر کچھ بڑی مثالیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بھارت کے صوبے اتر پردیش کی آبادی پورے پاکستان کی کل آبادی کے برابر ہے۔ مگر پورا انتظام ایک ہی صوبائی حکومت کے تحت چل رہا ہے۔ کچھ اور بھارتی صوبوں کی آبادی بھی ہمارے پنجاب کے لگ بھگ ہے اور وہ بہت عمدہ طریقے سے چلائے جا رہے ہیں۔
اسی طرح بنگلا دیش کی آبادی تقریباً اٹھارہ کروڑ ہے، رقبہ ہمارے پنجاب سے بھی کم ہے، لیکن وہاں پاکستان جیسا کوئی صوبائی ڈھانچا موجود نہیں۔ کوئی صوبائی اسمبلی ہے، نہ وزیر اعلی ہے اور نہ صوبائی وزرا اور مشیروں کی افواج اور نہ ان سے وابستہ وسیع سیاسی و انتظامی اخراجات و مراعات۔ پورا ملک مرکزی حکومت اور آٹھ ڈویژنوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
کیا وہاں کوئی انتظامی بحران ہے؟ ہرگز نہیں۔ وہاں معیشت ترقی کر رہی اور غربت کم ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ترقی کا دارومدار صوبوں کی تعدادپر نہیں، نظام کی مضبوطی اور دیانت پر ہے۔پھر ہمارا مغربی ہمسایہ ایران ہے،جس کا رقبہ پاکستان سے دُگنا ہے لیکن وہاں بھی کوئی صوبہ اس مفہوم میں نہیں جیسے پاکستان میں ہیں۔
نہ کوئی صوبائی اسمبلی، نہ صوبائی وزیر اعلیٰ اور نہ کوئی صوبائی وزرا یا مشیروں کی فوجِ ظفر موج۔ ایران میں31استان ہیں، جنھیں براہ راست تہران سے تعینات "استاندار" (گورنروں)کے ذریعے نظام نہایت کامیابی سے کام کر رہا ہے۔
یہ مثالیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مؤثر حکمرانی کا انحصار انتظامی صلاحیت پر ہوتا ہے، نہ کہ لازماً نئے صوبے قائم کرنے پر۔ فاٹا اضلاع کے انضمام سےپہلے’’کےپی ‘‘ایک چھوٹاصوبہ تھا، وہاں دوسرے صوبوں سے زیادہ مسائل تھے، اس کے باوجود ابھی چند سال پہلے فاٹا اضلاع کو کے پی میں شامل کر کے اسے رقبے میں کم و بیش دگنا کر دیا گیا۔
دوسری طرف ایک اور چھوٹا یونٹ آزاد کشمیر ہے،جس کی آبادی پنجاب کے صرف ایک ضلع سیالکوٹ سے بھی کم ہے، مگر وہاں پر وزیراعظم، کابینہ، وزرا، مشیر، بیوروکریسی اور ایک بہت بڑی حکومتی مشینری کام کر رہی ہے۔
پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال بھی اس بحث کا ایک اہم پہلو ہے۔ نئے صوبے بنانے کا مطلب صرف نقشے پر نئی سرحدیں کھینچنا نہیں بلکہ نئی اسمبلیاں، نئے گورنر ہاؤس، نئے وزرائے اعلیٰ کے علاوہ مراعات اور ہزاروں نئی انتظامی آسامیاں پیدا کرنا ہے۔
احوالِ واقعی یہ ہے کہ نئےصوبوں سے سب سے زیادہ فائدہ عام شہری کو نہیں بلکہ سیاسی اشرافیہ کو پہنچے گا۔ اقتدار کے نئے مراکز وجود میں آئیں گے اور ریاستی اخراجات میں ایک طوفانی اضافہ ہو جائے گا۔
پاکستان ایک عرصے سے معاشی بحران میں ہے، ایسے میں انتظامی اخراجات بڑھانا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا ہو گا۔ یہ "عوام کی خدمت" نہیں بلکہ "خاندانی اقتدار" کا پھیلاؤ ثابت ہوگا۔
کچھ ’عقلمندوں‘ کا خیال ہے کہ ملک کے ہر ڈویژن کو صوبہ بنایا جائے تاکہ ملک ترقی کرے. اس وقت ملک کے چاروں صوبوں میں 35 ڈویژن ہیں. عقلمندوں کے فارمولے کے مطابق ملک میں 35 اسمبلیاں، وزرائے اعلیٰ، وزرا اور سیکڑوں نئے منتظمین ہوں گے۔ ان سب کو دفاتر، گاڑیاں اور انتظامی عملہ ملے گا اور اس سے ملک میں ترقی ہوگی۔ ملک میں 35 بجٹ پیش ہوں گے۔
چار صوبے این ایف سی ایوارڈ پر متفق نہیں ہوتے، پھر 35 صوبے غیر متفق ہوں گے۔ چار صوبے پانی کی تقسیم پر لڑتے ہیں پھر 35 صوبے لڑیں گے۔ ارسا میں پانج ممبر پانی کے معاملات پر متفقہ فیصلہ نہیں کر پاتے پھر کیا 35 ممبران اتفاق رائے کریں گے؟ چار صوبوں کے انتظامی اخراجات کی وجہ سے وہاں ترقیاتی بجٹ نہیں بچتے، لیکن 35 صوبے ترقی کریں گے۔
بعض’ دانشور‘، ملکی معیشت پر ترس کھاتے ہوئے فی الحال پینتیس کے بجائے پندرہ صوبے بنانے کی بات کرتے ہیں۔ پندرہ ہوں یا پینتیس۔ نئے صوبوں کا مطلب بے پناہ انتظامی اخراجات اور لامتناہی مراعات کے سوا کچھ نہیں۔ ایسے وقت میں جب ملک مالی استحکام کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، ایسی کسی تجویز پر عمل اس کے لیے معاشی طور پر تباہ کن ہوگا۔
اس لیے ضرورت نئے صوبے بنانے کی نہیں بلکہ ایک مضبوط بلدیاتی نظام قائم کرنے، اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور تمام علاقوں میں یکساں ترقی کو یقینی بنانے کی ہے۔
اگر کسی علاقے میں جغرافیائی وسعت، دشوار گزار خطے، مسلسل امن و امان کے مسائل، دفاعی حساسیت یا انتظامی ناکامی اس حد تک بڑھ جائے کہ مروج نظام مؤثر نہ رہے، تو ایسے علاقے، شہر یا پورٹ کو براہ راست وفاق کے زیر انتظام لیا جا سکتا ہے۔
ہر مسئلے کاحل نئے صوبے قرار دینا نہ تو تاریخی تجربات سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ معاشی حقائق سے۔بےشک پاکستان کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی عدم توازن اور نمائندگی سے متعلق شکایات ہیں، جن کا حل سنجیدہ قومی مکالمے، منصفانہ وسائل کی تقسیم اور مؤثر مقامی حکومتوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
یہ بات بھی مدّنظر رکھنی ضروری ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم میں وفاق سے صوبوں کو کئی اختیارات دلائے گئے تھے، جبکہ عملی صورت حال یہ ہے کہ جو17 وزارتیں صوبوں کو دی گئی تھیں وہ دوسرے ناموں سے اب بھی وفاق کے پاس ہیں اور ان کے ہزاروں ملازمین بھی وفاق ہی کی نوکری کررہے ہیں۔ دوسری طرف صوبوں کو جو اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے اور بلدیاتی الیکشن کروانے کا کہا گیا تھا اس پر بھی کسی صوبے نے عمل نہیں کیا۔ نظام کا ستیاناس تو نظام وضع کرنے والے ہی کررہے ہیں۔
پاکستان ایک وفاق کے طور پر قائم ہوا، جہاں چاروں وفاقی اکائیوں نے متفقہ طور پر ریاستِ پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ دوسرے الفاظ میں، پاکستان کا قیام صوبوں کی اس اجتماعی خواہش کا نتیجہ تھا جو مختلف جمہوری ذرائع سے ظاہر ہوئی۔
یہ ایک تاریخی سچائی ہے کہ پاکستان ایک کثیر النسلی، کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی ریاست ہے، جس کی وحدت اس کے تنوع سے جنم لیتی ہے۔ لہٰذا ایسے تاریخی حقائق کی بنیاد پر قائم ہونے والے صوبوں کو محض انتظامی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
مسائل کا حل آئین 1973 کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آئین میں دی گئی صوبائی خودمختاری پر مکمل عمل درآمد میں ہے۔ نیز آئین میں بیان کردہ اختیارات کی سہہ جہتی تقسیم کے اُصول کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے جس کے مطابق سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنا آئین کا تقاضا ہے۔
اگر صوبوں کی تقسیم کے راستے پر چلا گیا تو وفاق پر سنگین خطرات کے بادل منڈلائیں گے، انتہا پسند قوم پرست قوتیں اُبھر کر سامنے آئیں گی ،قدرتی وسائل کی ازسرِ نو تقسیم کا سوال بھی شدت سے اٹھ کھڑا ہوگا جن میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہوگا۔
سوال یہ نہیں ہے کہ پاکستان کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس تقسیم سے عوام کو فائدہ ہوگا؟ ہر گز نہیں، یقینناً انتظامی اصلاحات کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کا واحد حل نئے صوبے نہیں۔
تاریخ، جغرافیہ اور بین الاقوامی تجربات کو سامنے رکھتے ہوئےیہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو نئے صوبوں کی نہیں، بلکہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک مضبوط، بااختیار اور مالی طور پر خودمختار بلدیاتی نظام عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کر سکتا ہے، جبکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مؤثر احتساب حکمرانی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
اس لئے ضلع اور تحصیل کی سطح پر بلدیاتی حکومتوں کواختیارات اور بجٹ دیا جائے۔ 18ویں ترمیم کے تحت تعلیم، صحت اور مقامی ترقی جیسے محکمے براہِ راست لوگوں کے منتخب نمائندوں کو دیے جائیں۔ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے، نہ کہ دفتری چکاچوند میں وسائل ضائع کیے جائیں۔ قوم کو متحد رکھنا، دفاع کو مضبوط رکھنا اور عوام کو اختیارات دینا ہی ملکی ترقی کا واحد راستہ ہے۔