مولانا عبد الغفورحیدری
(جنرل سیکرٹری جے یو آئی پاکستان)
مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خوبیوں سے نوازا ہوا تھا۔ آپ نے علمی، مذہبی، سیاسی، سماجی، معاشرتی اور آئینی محاذوں پر اسلامیان پاکستان کی بہترین رہنمائی کرکے ایک منفرد مثال قائم کی۔
مولانا مفتی محمودؒ کے تقویٰ وطہارت، تدبر وحکمت، متانت وسخاوت اور زندہ دلی وشفقت کی بے شمار داستانیں تاریخ کا حصہ ہیں، وہ بیک وقت جید عالم دین، محدّث، جہاندیدہ سیاست دان، قومی رہنما، فقیہ، مفتی، محقق، مدرس، پارلیمنٹرین اور ہردلعزیز عوامی شخصیت تھے۔ پا کستان میں نظریاتی سیاست کو فروغ دینے میں اپنے اکابرین کے آپ حقیقی وارث تھے، وہ نڈر عالم دین، بے باک خطیب، امّت کے ترجمان، عقیدۂ ختم نبوت کے عظیم مجاہد تھے۔
آپ کو رب کائنات نے بے شمار خوبیوں سے نوازا ہوا تھا، وہ نامور عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ قابل احترام نامور سیاسی شخصیت تھے، قدرت نے آپ کو بڑی بصیرت سے نوازا تھا۔ سیاسی میدان میں آپ ؒ کے فیصلے اس پر شاہد ہیں جن کی اپنوں نے تعریف تو کی ہی ہے، لیکن دیگر بھی حضرت مفتی صاحبؒ کو خر اج تحسین پیش کئے بغیر نہ رہ سکے، آپؒ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے کیا اور اپنے اکا بر کے حکم پر مشہو ر تحریک، ہندوستان چھوڑ دو، میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا، پھر آپ ؒ تھوڑے ہی عرصے میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے رکن بنے جو اس دور میں کسی شخصیت کے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی۔
اس کے بعد 1947ء میں جب اللہ تعالیٰ کے فضل اور مدد سے پاکستان بنا تو مفتی محمودؒ نے پاکستا ن کی سیاست میں جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا اور مختلف ادوار میں جمعیت علمائے اسلام کے مختلف مناصب پر فائز رہے، یہ با ت بھی ایک حقیقت ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کی بنیادوں اور تعمیر و ترقی میں مفتی صاحبؒ کی خدما ت کسی سے مخفی نہیں، شیح التفسیر مولانا احمد علی لاہوری ؒ نے جب جمعیت علمائے اسلام کے احیاء کی ضرورت محسوس کی جس کی بنیاد پاکستان بننے کے بعد شیخ الا سلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ نے رکھی تو حضرت لاہوری ؒ کے سا تھ جن شخصیات نے جمعیت علمائے اسلام کو ملک گیر جماعت بنانے کے لیے بنیادی کردار ادا کیا، ان میں مفکرِ اسلام مولانا مفتی محمو دؒ، حافظ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ درخو استیؒ، مجاہدِ ملّت مولانا غلام غو ث ہزارویؒ، خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خانؒ، مولانا مفتی عبد الواحد ؒ کا نام ہمیشہ سنہری حروف سے در ج کیا جا ئے گا۔
1956ء کا آئین ملک پاکستان کا پہلا آئین تھا، چائیے تو یہ تھا کہ اس آئین کے اندر اسلامی قوانین کا مکمل نفاذ ہوتا، لیکن اس کے با لکل برعکس اس آئین میں اسلام کو صر ف دیباچہ تک محدود رکھا گیا اور غیر اسلا می قوانین کے نفاذ کی کوشش کی گئی، جمعیت علمائے اسلام کی قیادت اس خطرے کو بھانپ گئی اور آئین سے غیر اسلامی دفعا ت کے خاتمے کے لیے حکومت پر زور دیا، چنانچہ مفتی صاحب ؒ کی قیادت میں اس فریضے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے نہ صرف غیر اسلامی شقوں کو بے نقاب کیا اور عوام کو آگاہ کیا، بلکہ اس پر ایک جامع رپورٹ بھی تحریر کی اور مزید یہ کہ اس پر ایک مختصر مگر جامع تبصرہ کرتے ہوئے ساری قلعی کھو ل دی، حضرت مفتی صاحب ؒ نے لکھا کہ مسلمانوں کو اس آئین کے بارے میں کسی خوش فہمی میں مبتلاء نہیں رہنا چاہیے کیونکہ اس آئین میں اسلام کو بطور تمہید ذکر کیا گیا ہے جو قانونا ً دستور کا حصہ نہیں بنتا، 1956ء میں حکومت نے تحفظ حقوق نسواں کے نام سے ایک مسودہ تیا ر کیا جو بعض وجوہات کی بناء پر التوا ء کا شکار رہا۔ 1958ء میں ایو ب خا ن کی فو جی حکو مت نے اس مسودہ کے کچھ مند رجا ت کا آرڈ ینس کے ذریعے نفاذ کردیا جو سراسر اسلامی تعلیمات کے متضاد تھے۔
حضرت مفتی صاحب ؒ نے اس غیر اسلا می مسودے کے خلاف صدائے حق بلند کی اور فرمایا کہ اسمبلی کے اندر میری موجودگی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے دین کے خلاف کو ئی کارروائی کوئی قانون سازی مکمل نہیں ہوسکے گی۔
میں سیّدنا صد یق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس تاریخ ساز خطبے سے راہ نمائی حاصل کرتا ہوں کہ آپ ؓ نے ابتداء خلافت میں دین اسلام کے بارے میں نر می اختیار کرنے کے مشورے کے جواب میں فرمایا تھا کہ حضور پاک ﷺ جو دین چھوڑ کر گئے ہیں، وہ کسی کمی کا شکار ہو جا ئے اور میں زندہ رہوں یہ نہیں ہو سکتا، پھر آپ نے اپنے مدبر انہ اور عالما نہ اندا ز میں قر آن وسنّت کے ذریعے ان قو انین کی دھجیاں بکھیر دیں اور حقیقت کو واضح کر کے رکھ دیا۔
جب ایوب خان نے کما ل عیاری سے بی ڈی سسٹم کے ذریعے ملک پر آمریت مسلط کرنے کی کوشش کی اور 12اپر یل 1962ء کو انتخا با ت کا اعلان کیا تو حضر ت مفتی صاحب ؒ نے سیاسی جماعتوں پر پابندی کی وجہ سے انفرادی طور پر الیکشن میں حصہ لیا اور ڈیرہ اسماعیل خان کی سیٹ پر پہلی مر تبہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے، کو ئی امیدوار بھی مقابلہ نہ کر سکا۔
جب اسمبلی میں حلف لینے کی رسم ادا کی گئی تو حضرت مفتی صاحب ؒ نے حلف کے ان الفاظ کہ دستور کو باقی رکھوں گا کے متعلق واشگاف الفاظ میں فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دستور کو جوں کا توں باقی رہنے دیں گے، بلکہ اس دستور کے ذریعے دئیے ہوئے اختیارات کو بروئے کا رلاتے ہوئے ان جملہ خرابیوں اور خامیوں کو جو قر آن وسنّت سے متصا دم ہو ں گی، ان میں تر میم کر یں گے۔ مرد درویش کے یہ الفا ظ اسمبلی کے ریکارڈ میں شامل کیے گئے۔
70ء کے الیکشن میں حضرت مفتی صاحبؒ نے ذوالفقا ر علی بھٹو مرحوم کو تیرہ ہز ار ووٹوں سے شکست دی، جبکہ اسی الیکشن میں مسٹر بھٹو ملک کے پانچ دیگر حلقوں سے بھاری اکثریت سے جیتے۔ یکم مئی 1972ء کو حضرت مفتی صاحب ؒ نے (صوبہ سرحد) کی وزارت اعلیٰ کا قلمدان سنبھالا اور نو ماہ کی قلیل مدت میں جو دینی اور سیاسی کا رہائے نمایاں انجا م دیئے۔ مخالفین بھی اس کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ صوبہ کی فضاء کو اسلامی بنانے کے لیے انہوں نے وہ تمام اقداما ت کیے جو قانون نے وزیر اعلیٰ کو دئیے تھے۔
مثلا ًشر اپ پر پابندی، مساجد کو زیادہ سے زیادہ آبا د کر نا،صو بے میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات، جمعۃ المبارک کے اجتماعات کو عوام کے لیے ترغیبی اندا ز میں ڈھالنا او ر اس کی تدابیر، اوقاف کی مساجد کے علماء کو با وقار مقام عطا کرنا، سنیما گھروں کی غیر اسلامی حرکات کی موثر روک تھام، اسکول اور کالج میں اسلامی تعلیمات کو فر وغ دینے کے لیے مختلف تدابیر کا استعمال، پاکستان کے جید علماء سے مشاورت کا اہتمام، تا کہ اس کی روشنی میں وفاقی حکومت کو اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے راہ نمائی دی جائے۔
اگر مفتی محمود صاحب ؒ کو کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو زمانہ دیکھتا کہ ان کی جدوجہد سے صو بہ سرحد میں ایک مثا لی طرز کی اسلا می حکو مت قائم ہو تی اور اسلامی نظام کا مکمل نفاذ ہوتا اور ایک بہتر اسلامی اور مثا لی معاشرہ معرض وجود میں آتا، مگر کسی کو بھی مفتی صاحب ؒ کے یہ اقدا ما ت پسند نہ تھے، کیو نکہ آپؒ عوام کو لوٹنے والے نہیں، بلکہ عوام کو ان کی رقم لوٹانے والے مثالی طرز حکمران تھے۔
مفتی صاحب مرحوم کی مذہبی اور سیا سی خدمات میں سب سے قا بل قدر اور عظیم کارنامہ اسمبلی میں مرزائیت کے خلاف آواز حق بلند کر نا ہے۔ دیگر مذہبی وسیاسی راہنماؤں کی معاونت سے مفتی صا حب ؒ نے اسمبلی میں مرزائیت کے خلاف جنگ لڑی اور مر زا ناصر کے ساتھ گیا رہ دن اور لاہوری فرقے کے خلاف سات گھنٹہ اسمبلی کے فلور پر مناظرہ کیا اور انہیں شکست فاش دی اور حضرت مفتی صاحب ؒ اور دیگر زعماء قوم کی محنت رنگ لا ئی اور 7ستمبر 1974ء کو مرزائی اور لاہوری فر قہ اتفاق رائے سے غیر مسلم اقلیت قر ار پائے۔
1977ء میں بھٹو حکومت نے جب قوم کو سیاسی طور پر منتشر دیکھا تو اچانک انتخابات کا اعلان کردیا۔ حضرت مفتی صاحب ؒ اس وقت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے، چنا نچہ آپ نے تمام قومی سیاسی جماعتوں کو اتحاد کی دعوت دی اور نو جماعتی اتحاد وجود میں آیا جس کا نام پا کستان قومی اتحاد تھا۔ آپ ؒ اسی اتحاد کے صدر تھے۔
انتخابا ت میں خوب دھاندلی ہوئی تو پوری قوم شعلہ جوالہ بن گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک نے تحریک نظام مصطفیٰ کا رخ اختیار کر لیا اور پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، بالآخر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔ مفتی محمود ؒ اپنے 32 نکات میں سے 31 نکات ذوالفقارعلی بھٹو سے منوانے میں کا میا ب ہوگئے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں مولانا مفتی محمود ؒ نے اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہر ممکن راستہ اختیا ر کیا اور جو کچھ اسلامی نظام کے لیے ہو سکا۔
ایک مدرسے کے پڑھے ہوئے اور مدرسے میں پڑھانے والے ایک عالم اور شرعی مسائل پر فتوے دینے والے ایک مفتی نے سیاست میں اس طرح حصہ لیا کہ جدید تعلیم یافتہ حضرات کے ہجوم میں نہ صرف نمایاں ہوا، بلکہ بہت سوں کو سیاست کا سبق پڑھایا اور اسلامی سیاست سے روشناس کروایا۔
آپ کی سیاسی مسائل پر رائے فتوے کی طرح محترم سمجھی جاتی تھی، گو یا ملکی تاریخ کو پہلی بار دین وسیاست کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔ مفتی صاحب کی شخصیت اس قدر بلند ہے کہ ان پر جس قدر لکھا جائے، اتنا ہی کم ہے۔