پروفیسر ارم خالد
نئے صوبے بنانے کی بحث کوئی نئی نہیں، کبھی جنوبی پنجاب، کبھی بہاولپور، کبھی ہزارہ اور کبھی کراچی کے حوالے سے آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے موجودہ چار صوبے واقعی اتنے بڑے ہوچکے ہیں کہ انہیں مزید صوبوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے یا اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی ہے۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ نئے صوبے بنانا صرف نقشے پر ایک لکیر کھینچ دینے کا نام نہیں، اس کے لیے پورا انتظامی ڈھانچہ درکار ہوگا۔ یعنی اخراجات بھی بڑھیں گے اور حکومت کی ایک نئی سطح بھی وجود میں آئے گی۔دوسری طرف اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آبادی اور مسائل میں بہت اضافہ ہوچکا ہے۔ ایک صوبائی حکومت کے لیے بہت بڑے رقبے اور کروڑوں لوگوں کے مسائل کو یکساں توجہ دینا آسان کام نہیں۔
دور دراز علاقوں کے لوگوں کو اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ فیصلے ان کے علاقے سے بہت دور ہوتے ہیں، ان کی آواز مرکزِ صوبہ تک پہنچتے پہنچتے کمزور ہوجاتی ہے۔اسی لیے نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹ حکومت کو عوام کے قریب لاسکتے ہیں، تعلیم، صحت، سڑکوں، روزگار اور دوسری بنیادی سہولتوں کی فراہمی زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے۔
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بڑے صوبوں کو چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کرنے سے انتظامی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے۔لیکن بنیادی سوال پھر بھی یہ ہی ہے،کیا صرف صوبہ چھوٹا ہوجانے سے حکومت عوام کے قریب آجائے گی؟ اختیار پھر بھی چند بڑے دفاتر تک محدود رہے تو عام آدمی کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟
اگر ضلعی حکومت کے پاس اپنے اسکول، اسپتال، سڑک اور صفائی کے مسائل حل کرنے کا اختیار اور وسائل ہی نہ ہوں تو صوبہ چھوٹا کرنے سے مسئلہ کہاں تک حل ہوگا؟حقیقت یہ ہے، چھوٹے صوبے بااختیار مقامی حکومتوں کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ ماضی میں بھی اختیارات کی تقسیم کے تجربات کیے گئے ہیں۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن یہ اختیارات ضلعی اور مقامی سطح تک کتنے پہنچے؟ عام شہری کو اگر اپنے محلے کی سڑک، پانی، صفائی، اسکول یا اسپتال کے لیے صوبائی دارالحکومت کی طرف دیکھنا پڑے تو کیا مسائل حل ہو جائیں گے۔
اس لیے اگر نئے صوبے بنانے کی بات آگے بڑھتی ہے تو سب سے پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ بنیاد کیا ہوگی؟ آبادی، رقبہ،انتظامی سہولت یا ان سب کا کوئی متوازن مجموعہ۔ایک اور اہم سوال وسائل کی تقسیم کا ہے۔ موجودہ صوبائی محکموں کی تقسیم کیسے ہوگی، این ایف سی میں حصہ کس طرح طے ہوگا، نئے صوبوں کے اخراجات کون برداشت کرے گا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ اعداد و شمار اور آئینی طریقۂ کار سے دینے ہوں گے۔آئین بھی اس معاملے کو معمولی انتظامی تبدیلی نہیں سمجھتا۔ کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے کے لیے آئینی طریقۂ کار درکار ہے، جس میں متعلقہ صوبائی اسمبلی کا کردار بھی شامل ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ کسی ایک حکومت یا چند سیاسی رہنماؤں کی خواہش سے نہیں ہوسکتا، وسیع سیاسی اور آئینی اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔
اس لئے بحث یہ نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان میں چار صوبے رہیں یا دس، بارہ یا پندرہ ہوجائیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ عام آدمی تک حکومت کتنی جلدی اور کتنی مؤثر طریقے سے پہنچ سکتی ہے۔اگر نئے صوبے اس مقصد کو پورا کرتے ہیں تو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ لیکن اگر نئے صوبے صرف نئی اسمبلیاں، نئے دفاتر اور نئے عہدے پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائیں اور مسائل پھر بھی حل نہ ہوں تو نقشہ ضرور بدل جائے گا، نظام نہیں۔ اسی طرح اگر مضبوط بلدیاتی نظام کے ذریعے یہی مقصد کم خرچ اور زیادہ مؤثر انداز میں حاصل ہوسکتا ہے تو اس راستے کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
سب سے بہتر راستہ شاید یہی ہوگا کہ جذبات کو ایک طرف رکھ کر ملک کے انتظامی نقشے کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ ہر علاقے کی آبادی، رقبہ، وسائل، آمدنی، مسائل اور عوامی خواہشات کو سامنے رکھا جائے،پھر دیکھا جائے کہ کہاں نیا صوبہ ضروری ہے اور کہاں مضبوط ڈویژن، ضلع یا بلدیاتی حکومت کافی ہوسکتی ہے۔ حکومت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اس کے نقشے پر کتنی اکائیاں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ شہری کو اپنے گھر سے نکل کر اپنا مسئلہ حل کرانے کے لیے کتنے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں۔
نقشہ چھوٹا ہو یا بڑا، اگر حکومت عوام سے دور ہے تو فاصلے قائم رہیں گے۔ اور اگر اختیار واقعی عوام تک پہنچ جائے تو شاید ایک عام شہری کے لیے صوبے کی تعداد سے زیادہ اہم یہ ہوگا کہ اس کا کام کتنی آسانی سے ہوجاتا ہے۔ اسی لیے نئے صوبوں کی بحث کو صرف سیاسی نعرہ بنانے کے بجائے پاکستان کے پورے انتظامی نظام پر ایک سنجیدہ قومی مکالمہ ہونا چاہیے۔ فیصلہ جو بھی ہو، اس کا مرکز سیاست دان، نقشہ یا عہدے نہیں بلکہ عام آدمی ہونا چاہیے۔
نئے صوبے یا مضبوط بلدیاتی حکومت؟
بلدیاتی حکومت وہ سطح ہے جس سے عام شہری کا روزمرہ واسطہ پڑتا ہے۔ایک عام آدمی کو اگر گلی میں پانی کھڑانظر آئے، نالی بند ہو، سڑک ٹوٹ جائے، کچرا نہ اُٹھے، محلے میں بنیادی صحت یا صفائی کا فقدان ہو تو وہ وزیراعلیٰ یا صوبائی اسمبلی کے رکن کے پاس نہیں جاتا۔ اسے اپنے ٹاؤن، ضلع یا یونین کونسل کی سطح پر جانا پڑتا ہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ، صوبائی حکومتیں وفاق سے زیادہ اختیارات مانگتی ہیں، لیکن اکثر یہی اختیار بلدیاتی حکومتوں کو دینے میں ہچکچاتی ہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بہت سے شعبوں میں زیادہ اختیار ملا، مگر اس اختیار کا بڑا حصہ اضلاع، شہروں اور مقامی حکومتوں تک نہیں پہنچ سکا۔ اصل مسئلہ صوبوں کا بڑا ہونا نہیں بلکہ صوبوں کے اندر اختیارات کا ارتکاز ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر آج چار بڑے صوبوں کے اندر موجودہ بلدیاتی اداروں کو واقعی بااختیار نہیں بنایا جاسکا تو نئے صوبے بننے کے بعد کیا ضمانت ہے کہ نئے صوبے اپنے اختیارات مزید نیچے منتقل کردیں گے۔ فرض کیجیے ایک بڑا صوبہ تین صوبوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ پہلے ایک وزیراعلیٰ تھا، اب تین ہوں گے۔ پہلے ایک صوبائی اسمبلی تھی، اب تین ہوں گی۔
نئے گورنر، نئے سیکریٹریٹ، نئے محکمے اور دوسرے انتظامی اخراجات بھی ہوں گے۔ اس تقسیم کے کچھ انتظامی فوائد ہوسکتے ہیں، لیکن یہ لازماً ثابت نہیں کرتا کہ عام شہری کی گلی، محلے یا یونین کونسل کا مسئلہ خود بخود حل ہوجائے گا۔اسی لیے نئے صوبے اور مضبوط بلدیاتی حکومت کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھنا بھی درست نہیں۔ ایک ملک میں دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر کوئی صوبہ آبادی، رقبے یا انتظامی پیچیدگی کے اعتبار سے اس قدر بڑا ہو کہ مؤثر طور پر چلانا مشکل ہو تو نئے صوبے کی ضرورت پر سنجیدگی سے غور ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر صوبے کے اندر بااختیار بلدیاتی نظام بھی ضروری ہے۔ دونوں اصلاحات کو ایک ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔
اگر نیا صوبہ بننے کے بعد بھی سڑک کے لیے صوبائی دارالحکومت، اسپتال کے لیے صوبائی محکمہ، اسکول کے لیے صوبائی دفتر اور صفائی کے لیے صوبائی نظام کی طرف دیکھنا پڑے تو صرف صوبے کی سرحد بدلنے سے عام آدمی کی زندگی میں کتنی تبدیلی آئے گی؟سوچنے والی بات یہ ہے۔
اس کے برعکس اگر ایک منتخب میئر یا ضلعی حکومت کے پاس اپنا بجٹ ہو، اپنے محکمے ہوں، واضح اختیارات ہوں اور وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو جواب دہ ہو تو بہت سے مسائل وہیں حل ہوسکتے ہیں۔
یہاں پیسے کا سوال سب سے اہم ہے۔ صرف بلدیاتی نمائندے منتخب کردینا کافی نہیں۔ اگر اختیار ہو لیکن خزانہ صوبائی حکومت کے ہاتھ میں ہو تو مقامی نمائندہ اپنے فیصلے پر عمل کیسے کرے گا؟ اسی لیے آئین میں صرف سیاسی نہیں بلکہ مالی اختیارات کی منتقلی کی بات بھی کی گئی ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ، مقامی حکومتوں کو فنڈز براہِ راست دیے جائیں تاکہ وہ صوبائی حکومتوں کی محتاج نہ رہیں۔
اس لئےصوبے تقسیم کرنے سے پہلے اختیار تقسیم کرکے دیکھ لیا جائے۔یعنی اصل سوال نقشے پر کتنی لکیریں ہوں نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اختیار کہاں تک پہنچتا ہے۔
موجودہ قومی بحث میں بھی یہی نکتہ نمایاں ہورہا ہے کہ انتظامی ڈھانچے کی کوئی بھی تبدیلی عوامی خدمت، مالی استطاعت، آئینی تقاضوں اور عوامی ضروریات کو سامنے رکھ کر ہونی چاہیے۔ پاکستان کو صرف نئے صوبوں کی نہیں، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی ضرورت ہے۔