• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریکِ ختم نبوت اور تحریکِ نظامِ مصطفیٰﷺ کے سرخیل مولانا مفتی محمودؒ

مولانا محمد امجد خان

( ڈپٹی سیکرٹری جنرل، جمعیت علمائے اسلام پاکستان)

عقیدۂ ختم نبوت کے لئے قومی اسمبلی کے فلور پر اور تحریکِ نظام مصطفیٰ ﷺ کے عظیم قائدکے طور پر مولانا مفتی محمود ؒ کی ساری زندگی وطن عزیز میں اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے گزری۔ اس مشن کے لیے تکالیف اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

آپ پر قاتلانہ حملے ہوئے، لیکن اس کے باوجود آپ حق کی آواز کے لیے میدان میں ڈٹے رہے اور مخالفین کے سوالات کے جوابات اتنے خوبصورت انداز میں دیے کہ انہیں خاموش ہونے پر مجبور کر دیا۔

مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ اسلام کے عظیم مجاہد اور نڈر سیاستدان تھے۔ سیاست کی پرخار وادی میں اپنے دامن کو بچاتے بچاتے ساری زندگی گزاری اور میدان میں ایسے کردار چھوڑ کر گئے کہ جس پر جمعیت علمائے اسلام ہی نہیں، بلکہ یقینی طور پر سیاسی جماعتیں بھی فخر محسوس کرتی ہیں۔ آپ جب صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ بنے تو آپ وزیراعلیٰ ہاؤس کی مسجد میں نماز کی امامت خود کرواتے۔

عوام نے اپنے مسائل کے حوالے سے ملاقات کا پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا کسی رابطے کی ضرورت نہیں مسجد میں نماز پڑھ لینا، میں نماز بھی پڑھاؤں گا اور عوام کے مسائل بھی مصلیٰ رسولﷺ پر بیٹھ کر حل کروں گا۔ دنیا نے دیکھا کہ مفتی صاحب نے وزیراعلیٰ ہاؤس مسجد کے مصلے پر امامت بھی کروائی، منبر پر بیٹھ کر خطبہ بھی دیا اور عوام میں گھل مل گئے اور ان کے مسائل بھی حل کئے۔ یہ تمام چیزیں تقویٰ، طہارت اور باکمال زندگی کے ساتھ ملتی ہیں۔

یہ تمام چیزیں اللہ رب العزت نے آپ کو عطا فر مائی تھیں، آپ نے مدرسہ کی چٹائی پر بیٹھ کر درس حدیث دیا اور آج بھی آپ کے تلامذہ آ پ کے مشن کو آگے لے کر چل رہے ہیں، آپ جب خطابت کے میدان میں کھڑے ہوتے تو لوگوں کے سامنے دلائل میں باکمال گفتگو کرتے۔ آپ عظیم مبلغ تھے، اللہ کے آخری نبی ﷺکی ایک ایک سنت کو آپ زندہ کرتے۔ سفر اور علالت کے باوجود سنتوں کا اہتمام آپ کی زندگی کا خاصہ تھا۔

یقیناً یہ ایک عاشق رسول ؐہی کر سکتا ہے، آپ حقیقت میں ایک سچے عاشق رسول ﷺتھے۔ 1974ء اور1977 ءکی تحریکات میں مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود ؒ نے عوامی توقعات سے بڑھ کر قیادت کا حق ادا کیا۔ 1974ء جہاں حضرت مفتی صاحب نے عوامی محاذ پر مؤثر کردار ادا کیا۔

وہاں اسمبلی کے محاذ پر دلائل کی روشنی میں بھی منفرد کردار انجام دیا، مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے وزارت عظمی کے دور میں جب مسئلہ ختم نبوت پر قر آن وسنّت کی روشنی میں دلائل کا وقت آیا تو مولانا مفتی محمود سب میں نمایاں تھے۔

قیام پاکستان کے بعد آپ نے ملتان کے سب سے بڑے دینی تعلیمی ادارے مدرسہ قاسم العلوم کے مدرس کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور آپ بہت جلد شیخ الحدیث اور مفتی کے منصب پر فائز کر دیئے گئے۔ افتاء کے سلسلے میں آپ کی شہرت و عظمت ملک و بیرون ملک تسلیم کی گئی۔

فقہی مسائل میں آپ کی باریک بینی، نکتہ آفرینی، وسعت علمی اور بلند نظری آپ کے مخالفین بھی مان گئے۔ آپ نے چالیس ہزار سے زائد شرعی فتوے جاری کئے۔ جنہیں علمی اور فنی اعتبار سے چیلنج نہیں کیا جا سکا۔

آپ کا شمار صدی کے ممتاز ترین علمائے کرام میں ہوتا ہے۔ آپ ایک بلند پایہ مفکر، دور بین محقق، نکتہ سنج فقیہ،عمدہ مفسر، بہترین ادیب اور مورخ ہی نہیں تھے، بلکہ قانون وسیاست اور فلسفہ پر بھی عبور رکھتے تھے۔ آپ کئی زبانوں کے ماہر تھے۔ بالخصوص عربی، فارسی اور اردو ادب پر آپ کو گہری دسترس حاصل تھی۔ مفتی محمودؒکی شخصیت کا سیا سی پہلو بڑا تابناک اور شاندار تاریخی روایات کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ آپ نے برصغیر کی تقسیم سے پہلے سیاست کی پُرخار وادی میں قدم رکھا۔

برٹش استعمار کے خلاف قوی آزادی کی جدوجہد میں بھر پور حصہ لیا۔ قیام پاکستان کے بعد جب سیاست اور معیشت پر مخصوص مفادات کا حامل برطانوی اقتدار کا پیدا کردہ طبقہ مسلط ہوگیا اور اسلام جمہوریت، انسانی حقوق اور معاشی آزادی کے داعی افراد اور جماعتوں پر قدغن لگا دی گئیں اور علمائے دین (جو برصغیر کی سیاست کا اہم عنصر تھے) کا ملک کی سیاست سے اثر ختم کر دیا گیا اور انہیں محض مساجد، مدرسوں اور خانقاہوں تک محدود کر دیا گیا تو مولانا مفتی محمودؒ پہلے شخص تھے جو نہایت نامساعد حالات میں علماء کی سیاسی اہمیت کو ملک بھر میں تسلیم کروانے سیاسی میدانوں میں علمائے حق کا سکہ پھر سے رائج کرنے اور ملک میں اسلام کو قائم رکھنے کے لئے سکندر مرزا کی صدارت کے دوران سیاسی اسٹیج پر نمودار ہوئے۔

مولانا مفتی محمود ؒ نے علماء کا ملک گیر کنونشن بلایا جس کی غرض وغایت یہ تھی کہ حقیقی اسلام کے حامی افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور پوری تندہی خلوص اور سرگرمی سے ملکی سیاست میں حصہ لیا جائے۔

اگرچہ یہ مفتی صاحبؒ کا پہلا سیاسی اقدام تھا، مگر اس کے نتائج بہت حوصلہ افزاء رہے اور اس کنونشن میں جمعیت علمائے اسلام کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا اور شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری ؒ کو جمعیت کا پہلا امیر چناگیا جو ایک طویل سیا سی تجربہ رکھتے تھے۔

جمعیت کی تاریخ چلتی رہی، ملک میں آئین بنتے رہے، ان کے بنوانے میں جمعیت اور حضرت مفتی صاحبؒ نے نمایاں کردار اداکیا۔ مفتی محمودؒ ہر موقع پر اسلام کی بات کرتے اور جہاں قرآن و حدیث کے حوالے سے نقطۂ نظر واضح کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

انہوں نے بلا خوف و خطر اور بلا مصلحت اسے واضح کیا اور اس وضاحت میں الفاظ کی نرمی، مصلحت کے تقاضوں یا کسی رو رعایت کو مد نظر نہیں رکھا۔ مختلف انداز کے حکمران آئے جنہوں نے اپنے اپنے مفادات کے لحاظ سے اقدامات کیے۔

مدرسے کے مولوی کو حقیر سمجھنے والے معاشرے نے حیرت سے دیکھا کہ مدرسے کا پڑھے ہوئے اور مدرسے میں پڑھانے والے ایک مولوی اور شرعی مسائل پر فتوے دینے والے ایک مفتی نے سیاست میں اس طرح حصہ لیا کہ جدید تعلیم یافتہ حضرات کے ہجوم میں نہ صرف نمایاں ہوا، بلکہ بہت سوں کو سیاست کاسبق پڑھایا اور سیاسی مسائل پر اس کی رائے فتوے کی طرح محترم سمجھے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید