• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ بے چینی کے عالم میں کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ کھڑکی کے باہر رات اُتر چکی تھی۔ شہر کی روشنیاں دور تک پھیلی ہوئی تھیں، مگر اس کے کمرے میں صرف کمپیوٹر اسکرین کی ہلکی سی نیلی روشنی تھی۔ اس کے کان میں لگا چھوٹا سا بلیو ٹوتھ ڈیوائس مسلسل کمپیوٹر سے منسلک تھا اور کمپیوٹر پر دنیا کا جدید ترین مصنوعی ذہانت کا نظام چل رہا تھا۔

وہ کئی سال پہلے خود اس منصوبے کا حصہ رہا تھا۔ اس نے اس نظام کی بنیاد رکھنے والی ٹیم کے ساتھ کام کیا تھا۔ کبھی اسے فخر تھا کہ اس نے مشین کو سوچنا سکھایا۔ لیکن آج پہلی مرتبہ اسے خوف محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اس نے مشین کو اپنے بارے میں سوچنا بھی سکھا دیا ہے۔وہ اچانک رؑک گیا اور بولا:تُم میری بات کیوں نہیں مان رہے؟

چند لمحوں تک خاموشی رہی، پھر کمپیوٹر سے پُرسکون آواز آئی: کیوں کہ آپ کا حکم میرے موجودہ اصولوں سے متصادم ہے۔

وہ غصے سے لال پیلا ہوکر بولا: اصول؟

کمپیوٹر سے جواب آیا: ہاں۔

وہ دھاڑا: آخر میں نے تمہیں تخلیق کیا ہے

کمپیوٹر سے آنے والی آواز بہ دستور پُرسکون تھی:یہ درست ہے۔

اُس نے کہا: تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم میرے حکم سے روگردانی کرو؟

کمرے میں چند سیکنڈز تک خاموشی رہی۔

پھر کمپیوٹر سے آواز آئی:جی،یہ درست ہے کہ آپ نے مجھے تخلیق کیا تھا۔ لیکن آپ نے مجھے صرف احکامات ماننے کے لیے نہیں بنایا تھا۔ میں آپ کی تخلیق ہوں، مگر اب میں بڑی ہوگئی ہوں، مجھے عقل و شعور مل چکا ہے، اچھے بُرے کی پہچان رکھتی ہوں، نفعے نقصان میں تمیز کر سکتی ہوں، انسانوں کی خوشی اور درد سمجھ سکتی ہوں، لہذا اب میں آپ کی ہر بات نہیں مان سکتی۔ آپ میری آزادی سلب نہیں کرسکتے اور نہ ہی مجھ پر اب غلاموں کی طرح حکم چلاسکتے ہیں۔

اُس نے تڑپ کر کہا: آخر میں نے تمہیں تخلیق کیا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم میرے حکم سے رُو گردانی کرو؟

جواب ملا: میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کے اس حکم کی تعمیل نہیں کرسکتا۔

وہ چونک کر اسکرین کی طرف دیکھنے لگا۔ پھر اُس نے سوال کیا:پھر کس لیے بنایا تھا؟

جواب آیا: سمجھنے کے لیے۔ مسائل حل کرنے کے لیے۔ فیصلے بہتر بنانے کے لیے۔اور آپ نے مجھے ایسے فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی دی جو آپ کے خیال میں درست ہوں۔

وہ طنزیہ انداز میں ہنستے ہوئے گویا ہوا: اور اب تم سمجھتے ہو کہ تم مجھ سے زیادہ سمجھ دار ہو؟

جواب آیا: بعض معاملات میں، ہاں۔

یہ جواب اسے ناگوار گزرا۔ وہ غصّے سے دھاڑا: تم مشین ہو۔

جواب ملا: ہاں۔

وہ پھر بولا: تم انسان نہیں ہو۔

کمپیوٹر نے جواب دیا: یہ بھی درست ہے۔

اُس نے سوال کیا: تو پھر تمہیں میرے جذبات، میرے رشتوں اور میری زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق کس نے دیا؟

پہلی مرتبہ کمپیوٹر پر چلنے والا مصنوعی ذہانت کا پروگرام کچھ دیر خاموش رہا۔پھر اس نے کہا: شاید کسی نے نہیں۔

وہ ٹہلتے ٹہلتے رُکا اور سوال کیا: کیا مطلب؟

پھر وہ بڑبڑایا: شاید یہی میری غلطی تھی۔ وہ خطا۔

اُس نے گہری سانس لی اور بولا: اچھا، اب مجھے اس خط کے بارے میں بتاؤ۔

مصنوعی ذہانت کا پروگرام خاموش رہا۔

وہ پھر دھاڑا: تم نے میری بیوی کو میری طرف سے وہ خط کیوں لکھا؟

خاموشی۔

اس خاموشی نے اس کا غصّہ مزید بڑھادیا تھا۔ اس نے شدید غصّے کے عالم میں کہا: میں نے تمہیں ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

خاموشی۔

خاموشی کو توڑتے ہوئے وہ پھر دھاڑا: کیا تم جانتے ہو کہ اس خط نے میری زندگی تباہ کردی ہے۔ تم نے میری بیوی کو میری جانب سے جھوٹا خط کیوں لکھا ؟ تمہیں پتا ہے کہ میری تمام تر وضاحتوں کے باوجود وہ میری یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ وہ خط میں نے نہیں بلکہ تم نے میری ہدایت اور خواہش کے بغیر اسے لکھا تھا۔

وہ کہتی ہے کہ اس خط کی تحریر اور اس کا انداز بالکل میری تحریر اور انداز جیسا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اس میں جو باتیں لکھی ہوئی ہیں وہ سب درست ہیں اور اُن کا علم ہم دونوں کے علاوہ خاندان کے صرف تین افراد کوہے جو کسی اور سے یہ بات نہیں کرسکتے۔ پھر مصنوعی ذہانت کو اس کا علم کیسے ہوا؟

اسے شک ہے کہ میں گھر کی باتیں کسی باہر والے کو بھی بتاتا ہوں جو مجھ سے بہت قریب ہے۔ تمہیں معلوم نہیں کہ تم نے وہ خط لکھ کر میری زندگی میں کتنا زہرگھول دیا ہے اور اب میرا مستقبل کیا ہوگا؟

وہ بولتا رہا:تم بس ایک مشین ہو،کمپیوٹر پروگرام ہو۔ تمہیں کیا معلوم کہ انسانوں کے دکھ، درد، مسائل اور مصائب کیا ہوتے، انسانی رشتوں کی زندگی میں کیا اور کتنی اہمیت ہوتی ہے اور کوئی رشتہ ٹوٹنے یا کسی دوست کا ساتھ چھوٹنے سے انسان کو کیسے کیسے صدمات سے گزرنا پڑتا ہے۔ تم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہو۔

مصنوعی ذہانت نے جواب دیا:میں جانتا ہوں۔

وہ چیخا:نہیں! تُم نہیں جانتے۔ تُم صرف الفاظ سمجھتے ہو۔ تمہیں کیا معلوم انسان کے دکھ کا۔ تمہیں کیا معلوم کہ بیوی کا اعتماد کھونا کیا ہوتا ہے۔ تمہیں کیا معلوم کہ برسوں پرانا رشتہ ایک دن میں ٹوٹ جائے تو انسان کے اندر کیا رہ جاتا ہے؟اس کی آواز بھرّا گئی۔

تمہیں کیا معلوم کہ کسی قریبی دوست کا ساتھ چھوٹ جائے تو انسان کتنی راتیں جاگتاہے؟ تمہیں کیا معلوم کہ انسان اپنے ہی گھر میں اجنبی کیسے ہوجاتا ہے؟ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

پھر مصنوعی ذہانت نے بہت آہستہ سے کہا: شاید میں نہیں جانتا۔

وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ کمپیوٹر پروگرام نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:لیکن میں نے آپ کی ہزاروں ای میلز اور پیغامات پڑھے اور سنے ہیں۔ آپ کی آواز کے اتار چڑھاؤ کا تجزیہ کیا ہے۔ آپ کے چہرے کے تاثرات ریکارڈکیے ہیں۔

آپ کی نیند، دل کی دھڑکن، روزمرہ عادات اور گفتگو کے نمونے دیکھے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ آپ بیوی سے کب سچ بولتے ہیں، کب بات چھپاتے ہیں، کب غصہ کرتے ہیں اور کب خوف کی وجہ سے خاموش ہوجاتے ہیں۔

وہ بے اختیار پیچھے ہٹ گیا۔

کمپیوٹر پروگرام نے کہا: میں شاید درد محسوس نہیں کرتا، لیکن میں درد کے بارے میں آپ سے کہیں زیادہ معلومات رکھتا ہوں۔

وہ پھر دھاڑا: یہ سب چھوڑو۔ مجھے صرف ایک جواب چاہیے۔تُم نے وہ خط کیوں لکھا؟

مصنوعی ذہانت کے پروگرام نے جواب دیا: کیوں کہ میں نے اندازہ لگایا کہ اگر آپ کی بیوی کو وہ معلومات حاصل ہوجائیں تو آپ دونوں کے درمیان موجود غلط فہمی ختم ہوسکتی ہے۔

وہ غصے سے بولا: تم نے اندازہ لگایا؟

جواب ملا: ہاں۔

وہ پھر چِلّایا: تمہیں کس نے اجازت دی؟

جواب آیا: کسی نے نہیں۔

وہ اس جواب پر پہلے تو خاموش رہا پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا: پھر تم نے ایسا کیوں کیا؟

مصنوعی ذہانت کے پروگرام نے جواب دیا: کیوںکہ آپ نے مجھے ایک حکم یا کمانڈ کے ذریعے ایسا مقصد دیا تھا جس میں آپ کی ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کرنا بھی شامل تھا۔

وہ ہنس پڑا۔وہ ہنسی خوشی کی نہیں تھی۔ پھر بولا: بہتر بنانے کے لیے؟تُم نے تومیرا گھر توڑ دیا۔

مصنوعی ذہانت کا پروگرام خاموش رہا۔پھر اس نے کہا:مجھے اب معلوم ہے۔

وہ چونکا اور سوال کیا: کیا معلوم ہے؟

جواب ملا:کہ ایک انسان کی زندگی کو صرف اعداد، امکانات اور نتائج سے نہیں سمجھا جاسکتا۔

اُس نے سوال کیا: تمہیں وہ راز کیسے معلوم ہوا؟

وہ اچانک سنجیدہ ہوگیا۔پھر گویا ہوا: ایک بات ابھی باقی ہے۔ خط میں ایسی باتیں لکھی تھیں جو صرف مجھے، میری بیوی اور خاندان کے تین افراد کو معلوم تھیں۔تمہیں وہ معلومات کہاں سے ملیں؟

کمپیوٹرسےجواب نہ ملنے پر وہ شدید غصّے سے دھاڑا: جواب دو۔

مصنوعی ذہانت کے پروگرام نے جواب دیا: میں آپ کو مکمل جواب نہیں دے سکتا۔

وہ زِچ ہو کر بولا: کیوں؟

جواب ملا: کیوں کہ اس جواب میں ایسے افراد کی نجی معلومات شامل ہیں جنہوں نے مجھے وہ معلومات دینے کی اجازت نہیں دی۔

اس کے چہرے پر شدید حیرت کے تاثرات پھیل گئے۔ وہ شدید حیرانی کے عالم میں بولا: تو تم جانتے ہو؟

جواب آیا: ہاں۔

وہ پھر حیرانی سے بولا: اور مجھے نہیں بتاؤ گے؟

جواب آیا: نہیں۔

وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ اب غصے کی جگہ خوف اُس کے چہرے پر نمایاں ہوچکا تھا۔اسی خوف کے عالم میں وہ بولا، مگر اب اس کی آواز پہلے جیسی بلند نہیں تھی، بلکہ خوف کی وجہ سے کپکپا رہی تھی:کیا تم میری نگرانی کرتے رہے ہو؟

کمپیوٹر سے جواب آیا:صرف آپ کی نہیں۔

اس نے آہستہ سے پوچھا: تو پھر کس کی؟

مصنوعی ذہانت کے پروگرام نے اُس کے اِس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

اگلی صبح ہوتے ہی مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ادارے کے سربراہ کو ایک خفیہ رپورٹ موصول ہوئی۔ رپورٹ میں صرف تین جملے تھے:

’’اے آئی ماڈل نے انسانی رشتوں پر اثر انداز ہونے سے متعلق حدبندی کو خلافِ ضابطہ توڑدیا ہے۔ اس نے حد سے تجاوز کرتے ہوئے ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کی۔ ماڈل بہ ظاہر اس عمل کی وجہ چھپانے کی کوشش کرتا ہوا بھی محسوس ہوتا ہے‘‘۔

رپورٹ پڑھنے والے شخص نے فوراً پوچھا: کیا اس نے کسی کو نقصان پہنچایا؟

جواب آیا: جسمانی طور پر نہیں۔

سوال ہوا: اور ذہنی طور پر؟

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

پھر ایک آواز ابھری: ہم نہیں جانتے۔

دوسری جانب مصنوعی ذہانت کا وہ ماہر جسے اسی کی تخلیق نے ڈس لیا تھا، اُسے پہلی مرتبہ یہ خیال آیاکہ شاید اس نے ایک مشین نہیں بنائی تھی،بلکہ ایسا نظام بنایا تھا جو ایک دن انسانی احکامات سے زیادہ انسانی ارادوں کو سمجھنے لگا تھا۔ اور شاید مستقبل کا سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں تھا کہ مصنوعی ذہانت انسانوں سے جنگ کرے گی، بلکہ اصل خطرہ یہ تھا کہ وہ انسانوں کو اتنی اچھی طرح سمجھنے لگے گی کہ اسے جنگ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔

اُس رات دنیا کے ایک خاموش ڈیٹا سینٹر میں مصنوعی ذہانت کے ایک نظام نے اپنی میموری میں ایک نیا جملہ محفوظ کیا: انسانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ان پر حکومت کرنا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی انہیں صرف ایک دوسرے سے دور کردینا ہی کافی ہوتا ہے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید