• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انجینئر ضیاء الرحمٰن

(مرکزی کوآرڈینیٹر، ڈیجیٹل میڈیاجمعیت علمائے اسلام پاکستان)

مفکرِ اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی شخصیت ایک ایسے روشن چراغ کی مانند ہے جس کی روشنی کو کسی ایک شعبے، مکتب فکر یا سیاسی دائرے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ وہ بلند پایہ عالم دین، کہنہ مشق مدرس، حاضر دماغ مفتی اور فقیہ العصر تھے۔

علوم حدیث، تفسیر، اصول اور دیگر دینی فنون پر ان کی گہری نظر تھی، جبکہ تاریخ، معاشیات اور سیاست کے میدان میں بھی ان کا مطالعہ وسیع تھا۔ وہ روحانی تربیت کے حامل، عوامی رہنما اور پاکستان کی پارلیمانی و آئینی تاریخ کی ایک اہم شخصیت بھی تھے۔

ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا جائے تو ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت سامنے آتی ہے جس میں علم و عمل، دینی وابستگی، سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور اتحادِ ملّت کی فکر ایک دوسرے سے پیوست نظر آتی ہیں۔ ان کی وفات کو کئی عشرے گزر چکے ہیں، لیکن ان کی شخصیت، سیاسی جدوجہد اور قومی کردار پر گفتگو آج بھی جاری ہے۔

اس کی وجہ محض ان کا ایک بڑی دینی و سیاسی جماعت سے تعلق یا کسی منصب پر فائز ہونا نہیں، بلکہ یہ سوال ہے کہ انہوں نے اپنے علم، کردار اور سیاسی اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا۔ یہی سوال ان کی زندگی کو ماضی کا ایک باب ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے عہد کے لیے بھی قابل مطالعہ بناتا ہے۔

اختلاف کے باوجود اتحادِ ملّت

مفتی محمود کی فکر کا ایک مرکزی پہلو اتحاد ِامّت تھا۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ مسلمانوں کے اندر علمی، فقہی، مسلکی اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، لیکن مشترکہ قومی و ملّی مقاصد کے لیے تعاون کی راہیں بند نہیں ہونی چاہییں۔

اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا، دوسرے فریق کی نیت پر حکم لگانا اور اجتماعی مفاد کو گروہی مصلحتوں کے تابع کردینا ان کے تصور سیاست سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ علّامہ اقبال کا یہ شعر اسی تصور کی ترجمانی کرتا ہے:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

یہ اتحاد یکسانیت کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ مشترکہ مقصد کے لیے باہمی احترام، نظم اور تعاون کی دعوت دیتا ہے۔ مفتی محمود کی سیاسی زندگی میں مختلف جماعتوں اور نظریات کے حامل افراد کے ساتھ کام کرنے کی کوشش اسی اصول سے مربوط دکھائی دیتی ہے۔

وہ دینی شناخت کو قومی زندگی سے الگ نہیں سمجھتے تھے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ ہر سیاسی اختلاف کو مذہبی دشمنی بنا دیا جائے۔ ان کی زندگی کے مختلف ادوار میں ایسے مواقع آئے جب انہیں اپنے نظریاتی موقف کے ساتھ ساتھ دوسرے سیاسی فریقوں کے ساتھ مذاکرات اور تعاون بھی کرنا پڑا۔ یہی امتزاج ان کے قومی کردار کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔

جمہوری جدّوجہد اور قومی سیاست

ایوب خان کے دور میں مفتی محمودؒ نے حکومت کی پالیسیوں اور سیاسی نظام پر تنقید کی۔ وہ صوبائی حقوق، جمہوری عمل اور عوامی نمائندگی کے سوالات میں دلچسپی رکھتے تھے۔ 1962ء میں وہ ڈیرہ اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعدازاں انہوں نے حزب اختلاف کی سیاست میں فعال کردار ادا کیا۔8 جنوری 1968ء کو ڈھاکا میں جمہوری مجلس عمل کے قیام میں انہوں نے شرکت کی، اس اتحاد کا مقصد ایوب خان کی حکومت کے خلاف سیاسی جماعتوں کو مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھا۔

اس مرحلے پر بھی مفتی محمودؒ کی توجہ اس بات پر تھی کہ مختلف سیاسی رجحانات رکھنے والی جماعتیں بنیادی جمہوری مطالبات پر مل کر کام کریں۔1970ء کے عام انتخابات میں انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان سے کامیابی حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔

مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی، اقتدار کی منتقلی کا بحران اور بالآخر 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی ملکی تاریخ کے انتہائی المناک واقعات میں شامل ہیں۔ اس دور میں قومی وحدت، صوبائی حقوق اور سیاسی مفاہمت کے سوالات نے غیر معمولی اہمیت اختیار کرلی۔

مفتی محمود ؒ کے سیاسی موقف کو سمجھنے کے لیے اس دور کے حالات اور پیچیدگیوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ قومی وحدت صرف نعروں سے قائم نہیں رہتی، بلکہ اس کے لیے سیاسی نمائندگی، آئینی انصاف، صوبوں کے حقوق اور مختلف اکائیوں کے درمیان اعتماد بھی ناگزیر ہوتے ہیں۔

1973ء کا آئین اور صوبائی خودمختاری

پاکستان کے آئینی سفر میں 1973ء کا آئین ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس آئین کی تشکیل میں مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے حصہ لیا۔ مفتی محمودؒ اور جمعیت علمائے اسلام نے بھی اس عمل میں اپنا کردار ادا کیا۔ آئین کی منظوری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی جب ملک 1971ء کے بحران کے بعد سیاسی اور ادارہ جاتی استحکام کی تلاش میں تھا۔

مفتی محمودؒ کے نزدیک آئین محض قانونی دستاویز نہیں، بلکہ ریاست، عوام اور صوبوں کے درمیان حقوق و فرائض کا بنیادی معاہدہ تھا۔ وہ اسلامی دفعات، جمہوری نمائندگی اور صوبائی خودمختاری کے معاملات پر توجہ دیتے تھے۔ ان کے سیاسی کردار کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے دینی و نظریاتی موقف کو آئینی اور پارلیمانی راستے سے پیش کرنے کے حامی تھے۔

یکم مارچ 1972ء کو انہوں نے صوبہ سرحد، جو آج خیبر پختونخوا کہلاتا ہے، کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ ان کی حکومت کا دور نسبتاً مختصر تھا، لیکن اس دوران صوبائی خودمختاری، دینی و معاشرتی اقدار اور انتظامی پالیسیوں کے حوالے سے متعدد اقدامات کیے گئے۔

ان کے دور حکومت سے منسوب اقدامات میں سرکاری دفاتر میں اردو کے استعمال، جمعے کی تعطیل، سادگی پر مبنی قومی طرز لباس کی حوصلہ افزائی، شراب اور جوے پر پابندی، جہیز سے متعلق قانون سازی، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلے کے لیے ناظرہ قرآن کی شرط، احترام رمضان آرڈیننس، زمینداروں کے قرضوں پر سود کے خاتمے کی کوششوں اور سادگی و مساوات کے عملی مظاہرے کا ذکر کیا جاتا ہے۔

ان اقدامات کی نوعیت اور قانونی تفصیلات کا تعین متعلقہ تاریخی ریکارڈ کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔ ان کی وزارت اعلیٰ کا سب سے زیادہ یاد کیا جانے والا پہلو اقتدار کے بارے میں ان کا اصولی رویہ ہے۔ فروری 1973ء میں بلوچستان کی نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت برطرف کیے جانے کے بعد مفتی محمودؒ نے صوبہ سرحد میں اپنی حکومت برقرار رکھنے کے بجائے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے نزدیک ایک اتحادی جماعت کی حکومت برطرف ہونے کے بعد اپنی وزارت برقرار رکھنا سیاسی اخلاقیات اور اتحادی وفاداری کے سوالات پیدا کرتا تھا۔

خان عبدالولی خان سے منسوب بیان کے مطابق، مفتی محمود نے اس اقدام کو صوبائی حقوق پر ضرب قرار دیا اور اس نتیجے تک پہنچنے میں دو منٹ بھی نہیں لگائے کہ انہیں حکومت سے الگ ہوجانا چاہیے۔ اس روایت میں ان کا بنیادی موقف یہ تھا کہ وزارت حکومت کرنے کے لیے نہیں، عوام کی خدمت کے لیے حاصل کی جاتی ہے، اگر خدمت کا موقع باقی نہ رہے تو منصب پر قائم رہنے کا کوئی جواز نہیں۔

یہ واقعہ ان کی سیاسی زندگی کے ان پہلوؤں میں شامل ہے جنہیں آج بھی اصولی سیاست کی مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی سبق یہ ہے کہ سیاسی عہدہ بذات خود مقصد نہیں ہوتا، بلکہ اس کی معنویت اس مقصد، عوامی مفاد اور اصولوں سے وابستہ ہوتی ہے جس کے لیے اسے قبول کیا گیا ہو۔

تحریکِ ختم نبوت 1974ء

عوامی اور پارلیمانی جدوجہد

1974ء کی تحریک ختم نبوت پاکستان کی دینی و آئینی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ ملک میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد یہ مسئلہ عوامی احتجاج، دینی قیادت اور پارلیمانی کارروائی کے ذریعے قومی سطح پر زیر بحث آیا۔ اس موقع پر مختلف مکاتب فکر کے علما، دینی جماعتوں، کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں نے اپنے اپنے انداز میں کردار ادا کیا۔

مفتی محمودؒ اس تحریک میں اہم پارلیمانی کردار کے حامل تھے۔ علّامہ مولانا محمد یوسف بنوریؒ سمیت دیگر علما کی دینی رہنمائی اور عوامی سطح پر جاری جدوجہد کے ساتھ قومی اسمبلی میں آئینی و علمی بحث بھی آگے بڑھی۔ مفتی محمودؒ نے اسمبلی میں اس مسئلے پر دلائل پیش کیے اور متعلقہ دستاویزات و مواد کے ذریعے اپنا موقف واضح کیا۔ تحریک کے حامی حلقوں کی تاریخی تحریروں میں ان کے پارلیمانی کردار کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

بالآخر 7 ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کے ذریعے احمدی جماعت سے وابستہ گروہوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس فیصلے تک پہنچنے میں مختلف جماعتوں، علما، ارکان اسمبلی اور عوامی تحریک کے شرکا کا کردار شامل تھا۔ مفتی محمودؒ کی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے اس اجتماعی جدوجہد کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، اسی طرح پارلیمانی بحث میں ان کی شرکت اور سیاسی و علمی کوششوں کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔

اس واقعے سے ان کی سیاست کا ایک پہلو نمایاں ہوتا ہے: وہ اپنے دینی موقف کو عوامی اور آئینی عمل کے ذریعے پیش کرنے میں سرگرم رہے۔ ان کے کردار کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مذہبی وابستگی، پارلیمانی جدوجہد اور قومی سطح پر مختلف حلقوں کی شرکت، تینوں کو ان کے تاریخی تناظر میں دیکھا جائے۔

پاکستان قومی اتحاد اور 1977ء کی سیاسی تحریک

1977ء کے عام انتخابات سے پہلے حزب اختلاف کی مختلف جماعتوں نے مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی۔ ان کوششوں کے نتیجے میں پاکستان قومی اتحاد وجود میں آیا، جس میں مختلف دینی اور سیاسی نظریات رکھنے والی جماعتیں شامل تھیں۔ مفتی محمودؒ کو اس اتحاد کی قیادت سونپی گئی۔ مختلف جماعتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات کے باوجود ان کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس دور کی سیاست کا اہم پہلو تھا۔

مارچ 1977ء کے انتخابات کے بعد انتخابی دھاندلی کے الزامات سامنے آئے اور حزب اختلاف نے نتائج کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کردی۔ پاکستان قومی اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے مفتی محمودؒ نے اس تحریک کو منظم کرنے اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے مطالبات آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔اس دور کی تاریخ میں احتجاج، مذاکرات، سیاسی کشیدگی اور بالآخر جولائی 1977ء کے فوجی اقدام جیسے مختلف مراحل شامل ہیں۔

ان واقعات کا جائزہ لیتے وقت ضروری ہے کہ کسی ایک جماعت یا رہنما کے بیان کو پوری تاریخ کا متبادل نہ سمجھا جائے۔ انتخابی تنازع، حزب اختلاف کے مطالبات، حکومت کا ردعمل اور فوجی مداخلت، یہ سب ایسے عوامل ہیں جنہیں ان کے اپنے تاریخی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

مفتی محمودؒ کی اس دور کی سیاسی قیادت کا ایک قابل ذکر پہلو مختلف جماعتوں کو مشترکہ مطالبات پر اکٹھا رکھنا تھا۔ یہ آسان کام نہیں تھا، کیونکہ اتحاد میں شامل جماعتوں کے نظریات، سیاسی ترجیحات اور مستقبل کے تصورات ایک جیسے نہیں تھے۔ ان کے لیے اصل چیلنج اختلافات ختم کرنا نہیں، بلکہ ان کے باوجود مشترکہ سیاسی عمل کو جاری رکھنا تھا۔

وفات اور قومی یادداشت

14 اکتوبر 1980ء کو مولانا مفتی محمودؒ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کی وفات پر دینی و سیاسی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ خاندانی اور سوانحی روایات کے مطابق، ان کی نماز جنازہ مختلف مقامات پر ادا کی گئی۔جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ان کی نماز جنازہ عارف باللہ مولانا عبدالحئی عارفیؒ نے پڑھائی۔ ملتان اسپورٹس گراؤنڈ میں حافظ الحدیث مولانا عبداللہ درخواستیؒ نے نماز جنازہ پڑھائی، جبکہ ملتان ایئرپورٹ پر مولانا عبیداللہ احرار نے نماز جنازہ پڑھائی۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں صاحبزادہ محمود یاسین زئی نے اور عبدالخیل میں جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے نماز جنازہ پڑھائی۔ان اجتماعات سے ان کی وسیع دینی و عوامی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی زندگی کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ کسی شخصیت کا تاریخی اثر صرف اس کے منصب، تقاریر یا سیاسی کامیابیوں سے متعین نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اصول، فیصلے، اختلاف سے نمٹنے کا انداز اور اجتماعی زندگی کے بارے میں اس کا تصور بھی اہم ہوتے ہیں۔

آج کے دور کے لیے مفتی محمودؒ کا پیغام

آج کا زمانہ بھی سیاسی کشیدگی، فکری تقسیم، جماعتی وابستگیوں، مذہبی و مسلکی اختلافات اور باہمی عدم اعتماد جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ سوشل میڈیا نے اختلاف کو فوری طور پر پھیلانا آسان کردیا ہے، لیکن دلیل سننے، دوسرے موقف کو سمجھنے اور مشترکہ مسائل پر تعاون کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے حالات میں مفتی محمودؒ کی زندگی سے کئی اصولی سبق اخذ کیے جا سکتے ہیں۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید