7 ستمبر 2026ء بروز پیر مجھے یوں عدالت پیش کیا گیا کہ دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑی تھی ۔عدالت آمد پر صحافیوں کی بہت بڑی تعداد اظہار یکجہتی کےلئے موجود تھی۔جج صاحب تشریف لائے اور میرے خلاف چارج شیٹ ان کے سامنے رکھی گئی تو معلوم ہوا کہ نیکٹا میں نیشنل کوآرڈنیٹر کی تعیناتی پر جو وی لاگ اور ٹویٹ کیا اس کی پاداش میں کسی ٹیکنیکل اسسٹنٹ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔میری طرف سے عمران شفیق ایڈوکیٹ ،حبیب حنزلہ اور رضا قریشی نے دلائل دیئے ۔اگلی سماعت پر میری ہمشیرہ صبیحہ غوری ایڈوکیٹ جو ملتان پریکٹس کرتی ہیں ،وہ بھی آئی ہوئی تھیں ۔وکلا نے نشاندہی کی کہ قانون کے مطابق Due Processاختیار نہیں کیا گیا ۔5ستمبر کو وی لاگ منظر عام پر آیا اور اسی روز نہ صرف مقدمہ درج کرلیا گیا بلکہ موکل کو اُٹھالیا گیا ۔کسی قسم کی قابل اعتراض بات نہیں کی گئی لیکن بالفرض محال کسی کو شکایت تھی تو قانون کے مطابق تین نوٹس جاری کئے جاتے ،صفائی کا موقع فراہم کیا جاتا ،عدم تعاون کی صورت میں ایف آئی آر درج کرکے گرفتار کیا جاسکتا تھالیکن یہاں تو قانون کی دھجیاں اُڑائی گئیں ۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر آصف بشیر چوہدری نے جج صاحب کو مخاطب کرکے کہا کہ یہاں ایک شخص کٹہرے میں نہیں کھڑا بلکہ صحافت انصاف کی طلبگار ہے ۔مجھے صورتحال کی مناسبت سے محسن نقوی کا شعر یاد آرہا تھا ـ:
سزا سنانے سے پیشتر منصفوں سے پل بھر جو اِذن ملتا
تو ہم بھی جرم انا کے حق میں کوئی اَدھورا بیان دیتے
بات کرنے کی اجازت طلب کرنے پر پہلے تو انکار کردیا گیا مگر پھر وی لاگ کے متن میں سے کچھ جملوں کی نشاندہی کرتے ہوئے پوچھا گیا کہ کیا یہ آپ ہی کے الفاظ ہیں ؟میں نے اعتراف کرتے ہوئے جواب دیا کہ ان سے جو مطلب اخذ کیا جارہا ہے وہ درست نہیں ۔پیر اور پھر جمعرات کو عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے اپنا مطمح نظر بیان کرنے کی کوشش کی اور بتایا کہ ’’سفید ہاتھی ‘‘یا ’’چلا ہوا کارتوس‘‘کے الفاظ کسی شخصیت سے منسوب نہیں کئے گئے بلکہ نیشنل کائونٹر ٹیرراِزم اتھارٹی یعنی ’’نیکٹا‘‘کی بات ہورہی ہے ۔اس کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ ہو تاکہ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا جاسکے لیکن اس سمت میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔میں نے عرض کیا کہ اس سے پہلے واپڈا ،پی آئی اے ،ریلوے اور اسٹیل ملز کو سفید ہاتھی کہا جاتا رہا ہے ،پارلیمنٹ ہی نہیں عدالتوں میں یہ لفظ استعمال ہوتا رہا تو نیکٹا کو سفید ہاتھی کہنے سے کیسے توہین ہوگئی ؟اگر نیکٹا حکام کو لگتا ہے کہ ان کی شان میں گستاخی کی گئی ہے تو پھر انہیں شکایت درج کروانی چاہئے تھی لیکن اس مقدمے میں تو نیکٹا یا اس کے نئے تعینات ہونے والے نیشنل کوآرڈنیٹر مدعی نہیں ہیں۔یہ بھی بتایا کہ ماضی میں جب ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے ایک نوٹس جاری کیا تھا تو میری پٹیشن پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا ایکٹ کی دفعہ 20کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ اس میں Natural Personکا ذکر ہے لیگل پرسن کا نہیں ۔یعنی چیئرمین سی ڈی اے کو لگے کہ کسی نے ان کی توہین کی ہے تو وہ ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتے ہیں سی ڈی اے بطور ادارہ شکایت درج نہیں کرواسکتا اور یہ نہیں ہوسکتا کہ چیئرمین سی ڈی اے کا کوئی ماتحت اٹھ کر مقدمہ درج کروادے ۔اسی طرح ایک اور جملہ جس پر گرفت کی گئی وہ یہ تھا کہ نیکٹا کے نیشنل کوآرڈنیٹر وہی کریں گے جو انہیں حکم ملے گا ۔جج صاحب نے استفسار کیا کہ کل کو آپ میرے بارے میں بھی یہی کہیں گے میں وہی کروں گا جو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کہے گا ۔میں نے واضح کیا کہ یہ موازنہ درست نہیں ۔فوج ایک منظم ادارہ ہے جہاں چین آف کمانڈ کے تحت حکم کی تعمیل لازم ہے جبکہ عدلیہ میں ہر جج آزاد ہوتا ہے ۔اگلی سماعت پر اس نکتے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک مثال سامنے رکھی ۔میں نے کہا ،لیفٹیننٹ جنرل حمید گل مرحوم میرے دوست تھے ۔جب وہ کورکمانڈر ملتان تھے تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز نے ان کا تبادلہ کردیا اورہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا چیئرمین تعینات کردیا ۔ان کے بھی کچھ خواب تھے ۔وہ سمجھتے تھے کہ یہ عہدہ ان کے شایان شان نہیں ۔انہوں نے کہا ،میں فوج میں ٹینک بنانے نہیں ،ٹینک چلانے آیا ہوں ۔حکم نہ ماننے پر آرمی چیف نے انہیں فوج سے قبل از وقت ریٹائر کردیا ۔جب میں نے یہ وی لاگ کیا تو تب بھی افواہیں زیر گردش تھیں کہ نیکٹا کے نیشنل کو آر ڈنیٹر نئی ذمہ داریاں قبول کریں گے ؟میں نے تو رجائیت پسندی کا اظہار کرتے ہوئے یہ توقع ظاہر کی کہ ضرور کریں گے لیکن جنہوں نے یہ مقدمہ درج کروایا ،شاید وہ انتشار کے خواہاں تھے اور چاہتے تھے کہ وہ یہ حکم ماننے سے انکار کردیں۔
ان سب دلائل کے باوجود پہلے تین اور پھر دو دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا گیا ۔میں چیختا رہا ،میرے وکلا دہائی دیتے رہے کہ کیسی برآمدگی ؟کوئی آلہ قتل برآمد کرنا ہے ؟وہ وی لاگ اور ٹویٹ جس پر مقدمہ درج کیا گیا ،میں اس سے انکار ی نہیں ،موبائل فون ،لیپ ٹاپ ،ٹیبلٹ سمیت تمام الیکٹرانک ڈیوائسز NCCIAحکام کے پاس ہیں ،سب سوشل میڈیا اکائونٹس اور یوٹیوب چینل کے پاسورڈ لے لئے گئے ہیں اب تو میرے منہ میں زبان باقی ہے ،اسے گدی سے کھینچ کر نکال لیں ۔گویاـ:
زباں کاٹ بھی دو گے تو حق محصور نہ ہوگا
یہ دستور زباں بندی اب منظور نہ ہوگا
عدالت میں بھی اس رجحان کی نشاندہی کی گئی اور میں یہاں بھی اس بات کو اجاگر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر ایک بار کسی شخص کو غیر قانونی طور پر اُٹھالیا گیا تو پھر اسے جسمانی ریمانڈ اور جیل کا طواف کرنے کے بعد ہی رہائی ملے گی ،چاہے وہ بے گناہ ہی کیوں نہ ہو،یہ تاثر بہت خوف ناک ہے ۔ٹرائل کورٹس کا کام متعلقہ اداروں کی سہولت کاری کرنا نہیں بلکہ کٹہرے میں کھڑے شخص کو انصاف فراہم کرنا ہے۔