زندگی دھوپ چھاؤں کی ایک مسلسل کہانی ہے، کبھی دھوپ زندگی بخش محسوس ہوتی ہے تو کبھی چھاؤں قرار و سکون کا سبب بنتی ہے۔انسان کی تمام تر حرکت،سفر اور ہجرت بھی دراصل اسی دھوپ اور چھاؤں کی تلاش اور تعاقب کا دوسرا نام ہے۔ گرمی اور سردی کے مختلف ذائقوں سے لبریز ایک طویل سفر کے بعد جب ائیرپورٹ سے باہر نکل کر اپنی دھرتی پر قدم رکھا تو گرم اورا سموگ سے لدی ہوا نے استقبال کیا مگر اپنی مٹی میں لوٹ آنےکا احساس مسرت انگیز تھا۔پی او اے ایف یورپ کی دعوت پر یورپ میں جشنِ آزادی کی مناسبت سے منعقد ہونے والی مختلف تقریبات میں شرکت کے لیے گئی تھی۔ناروے سے شروع ہونے والا یہ سفرا سپین، ہالینڈ، جرمنی، پراگ، لکسمبرگ، آسٹریا، ڈنمارک اور سوئٹزر لینڈ سے ہوتا ہوا دوبارہ جرمنی میں اختتام پذیر ہوا۔اس پورے سفر میں پی او اے ایف کے سربراہ بھائی اعجاز حسین پیارا نے جس محبت، عزت اور بھرم کے ساتھ میزبانی کا حق ادا کیا،اس کا شکریہ الفاظ میں ادا کرنا ممکن نہیں۔جرمنی میں شازیہ نورین اور وحید شاہ کی میزبانی اور رفاقت نے سیروسیاحت کا لطف دوبالا کیا۔مختلف ملکوں میں ہونے والے جشن آزادی پروگراموں اور استقبالیہ تقریبات میں اوورسیز کی پاکستان سے محبت نے متاثر کیا ،شازیہ نورین طاہر عدیم اور سید فاخر رضوی نے میرے لیے خصوصی ادبی محفلوں اور ملاقاتوں کا اہتمام کر کےشعر و ادب سے وابستہ بہت سے نئے دوستوں سے ملنے اور مختلف فکری زاویوں کو جاننے کا موقع عنایت کیا ۔مجھے یاد ہے جب پہلی مرتبہ برطانیہ گئی تھی تو ہر خریداری کے وقت پاؤنڈ اور پاکستانی روپے کا حساب ذہن میں چلتا رہتا تھا۔بعد ازاں بھارت جانے کا موقع ملا تو اُس وقت پاکستانی روپیہ بھارتی کرنسی کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں تھا،اس لیے خریداری کرتے ہوئے خوشی بھی محسوس ہوتی تھی اور ایک طرح کا قومی مان بھی مگر اس بار میرا پیمانہ کچھ اور تھا،میں نے ایک طالب علم اور محقق کی حیثیت سےسفر کرتے ہوئے یورو اور کرون کا پاکستانی روپے سے تقابل نہیں کیا بلکہ جمہوری اصولوں، قانون کی پاسداری، تعلیم ، صحت ،فصلوں، سبزے، جنگلات، عوامی سہولتوں، ٹرانسپورٹ کے نظام اور مجموعی معیارِ زندگی کے حوالے سے فرق کو جانچنے کی کوشش کی۔وہاں کے افسر اور وزیر مجھے اپنے افسران اور وزراء کے مقابلے میں عجیب حد تک سادہ اور بیچارے محسوس ہوئے۔کئی ممالک میں وزراء اور منتخب نمائندے سائیکل چلاتے دکھائی دیے،بعض پارلیمانوں اور سرکاری دفاتر کے دورے کے دوران معلوم ہوا کہ ارکان اور افسران کے پاس ذاتی عملے کی فوج نہیں ہوتی۔کئی مقامات پر میزبان خود مرکزی دروازے تک مہمان کو خوش آمدید کہنے آئے اور اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر پیش کی۔ان مناظر کے سامنے اپنے معاشرے کے شاہانہ انداز، پروٹوکول اور مصنوعی فاصلے یاد آئے تو دل میں ایک ہلکی سی شرمندگی نے جنم لیا، ہم وہ لوگ ہیں جو زبان سے محنت کی عظمت کے قصیدے پڑھتے ہیں، محنت کرنے والے کو رب کا دوست قرار دیتے ہیں،صفائی کو نصف ایمان کہتے ہیں مگر عملی زندگی میں اکثر ان اصولوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔یورپ کے کئی ممالک میں آج بھی علامتی آئینی بادشاہت موجود ہے لیکن ان کے رویے جمہوری اور عوام دوست ہیں۔دوسری طرف ہمارے ہاں آئینی طور پر جمہوری نظام موجود ہے مگر سب کےرویوں میں بادشاہت کا رنگ جھلکتا ہے۔ان ممالک میں حکومتیں اپنے عوام کے لیے بہتر زندگی کی فراہمی کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتی ہیں،انسان کو محض ایک ووٹر یا ٹیکس دہندہ نہیں بلکہ ایک باوقار شہری کے طور پر دیکھا جاتا ہے،شاید اسی لیے وہاں کی ترقی کا راز صرف دولت یا ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ انسان کے احترام، قانون کی بالادستی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس میں پوشیدہ ہے۔یورپ میں ایک چیز جس نے مجھے بے حد متاثر کیا، وہ سائیکل کلچر تھا۔ خصوصاً ڈنمارک میں جہاں سڑکوں پر گاڑیوں سے زیادہ سائیکلیں دکھائی دیتی تھیں۔راجہ عامر شہزاد کے ساتھ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے دورے کے دوران ہر طرف سائیکلوں سے بھرے اسٹینڈ نظر آئے،طلبہ، اساتذہ، خواتین، مرد، بزرگ اوربچے سبھی روزمرہ آمدورفت کے لیے سائیکل استعمال کرتے دکھائی دیے۔سائیکل سواروں کے لیے الگ اور محفوظ لینیں موجود ہیں اور ان کے تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔اکثر والدین اپنے چھوٹے بچوں کو بھی سائیکل پر اسکول چھوڑتے ہیں ۔میرے خیال میں یورپ کی خوبصورتی کا راز صرف خوشگوار موسم نہیں بلکہ اس کے وسیع جنگلات، سرسبز کھیت اور ایسی منصوبہ بندی ہے جو زمین اور ماحول کو محفوظ رکھتی ہے،اس کے برعکس ہمارے ہاں گاڑی اکثر سماجی حیثیت کی علامت سمجھی جاتی ہے اور مختصر فاصلے بھی گاڑی پر طے کیے جاتے ہیں،اگرچہ پاکستان کے موسمی حالات مختلف ہیں لیکن صبح و شام چند کلومیٹر کے فاصلے کے لیے سائیکل یا پیدل چلنے کی عادت نہ صرف پٹرول کی بچت اور بہتر صحت کا ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ ماحول کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔یورپ کا اصل سبق سائیکل نہیں بلکہ وہ طرزِ فکر ہے جس میں صحت، ماحول اور اجتماعی مفاد کو ذاتی نمائش پر ترجیح دی جاتی ہے۔ میرا سفر خوبصورت مناظر کے ساتھ ایک فکری تجربہ اور پاکستانی کمیونٹی سے رابطہ تھا۔ واپسی پر میرے ساتھ سوغات کے طور پر چند تصویریں، کچھ یادیں اور بہت سے سوال آئے ہیں۔ایسے سوال جو ہر محبِ وطن پاکستانی کے دل میں پیدا ہونے چاہئیں کہ آخر ہم بھی وہی انسان ہیں،ہمارے وسائل بھی کم نہیں،پھر ہم اپنے ملک کو وہی نظم، احترام اور آسودگی کیوں نہیں دے پاتے جس کا خواب ہم سب دیکھتے ہیں۔ حیران ہوں کہ اکثر باہر ملکوں کے دوروں پر رہنے والے ہمارے حکمران دوسرے معاشروں سے سادگی، کفایت شعاری اور عوام و ماحول دوستی کیوں نہیں سیکھ سکے؟