لاہور( آصف محمود بٹ) پنجاب حکومت نے صوبے میں گداگری کی روک تھام سے متعلق قانون میں اہم ترامیم کرتے ہوئے بچوں کے قانونی تحفظ کی عمر 14 سال سے بڑھا کر 16 سال کردی ہے، جبکہ بچوں کو بھیک منگوانے یا انہیں بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرنے والے والدین اور سرپرستوں کے لیے سزاؤں میں بھی سختی کردی گئی ہے۔بچوں سے بھیک منگوانے والے والدین، سرپرستوں کو 3 سال تک قید، 3 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا ڈی جی سوشل ویلفیئر صوبائی کنٹرولر مقرر۔ انسدادِ گداگری آپریشنز، فلاحی و بحالی مراکز کی نگرانی کے وسیع اختیارات ، بچوں کو بھیک پر لگانے، استعمال کرنے یا روکنے میں ناکامی بھی جرم۔ نئے قانون کے تحت ایسے والدین یا سرپرستوں کو کم از کم 3 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 3 سال قید جبکہ ایک لاکھ سے 3 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکے گی۔ گورنر پنجاب کی جانب سے جاری پنجاب وگرینسی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 کو پنجاب گزٹ میں شائع کردیا گیا ہے، جس کے تحت انسدادِ گداگری کے لیے صوبائی سطح پر کنٹرولر کا نیا انتظامی ڈھانچہ بھی قائم کیا گیا ہے۔ کنٹرولر کو پورے پنجاب میں انسدادِ گداگری آپریشنز کی نگرانی، فلاحی گھروں، حراستی مراکز اور بحالی مراکز کے معائنے، مرکزی ڈیٹا بیس کی تشکیل اور گرفتار یا زیرحراست افراد کی بحالی و معاشرے میں دوبارہ انضمام کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ محکمہ قانون و پارلیمانی امور پنجاب کی جانب سے جاری گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق آرڈیننس آئین کے آرٹیکل 128 کی شق ایک کے تحت نافذ کیا گیا ہے اور اس کا فوری طور پر اطلاق ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس جاری نہیں تھا اور گورنر پنجاب اس امر سے مطمئن تھے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کے باعث فوری اقدام ضروری ہے۔ پنجاب وگرینسی آرڈیننس 1958 کی دفعہ 2 میں ترمیم کے تحت بچوں کے تحفظ کے لیے عمر کی حد 14 سال سے بڑھا کر 16 سال کردی گئی ہے۔ اسی ترمیم کے ذریعے ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال پنجاب کو قانون کے تحت متعلقہ مجاز اتھارٹی بھی قرار دیا گیا ہے۔ آرڈیننس میں نئی دفعہ 3-A شامل کی گئی ہے، جس کے تحت کنٹرولر کو انسدادِ گداگری کے تمام آپریشنز اور اقدامات کی صوبے بھر میں نگرانی، ہدایات اور رابطہ کاری کا اختیار حاصل ہوگا۔ وہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر مجاز اداروں کے تعاون سے کارروائیوں کی منصوبہ بندی، تنظیم اور نگرانی بھی کرے گا۔ نئے انتظامی نظام کے تحت کنٹرولر قانون کے تحت قائم یا نوٹیفائی کیے گئے فلاحی گھروں، حراستی مراکز اور بحالی مراکز کے کام کو منظم، یکساں، معائنہ اور مانیٹر کرے گا اور اسے ان اداروں میں داخل ہونے، معائنہ کرنے اور ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ترمیمی قانون کے تحت کنٹرولر گداگروں کی بحالی، معاشرے میں دوبارہ شمولیت اور سماجی بہبود کے لیے اسکیمیں تیار اور نافذ کرے گا، جبکہ گرفتار، زیرحراست، بحال اور رہا کیے جانے والے افراد کا مرکزی ڈیٹا بیس بھی قائم اور برقرار رکھا جائے گا۔