• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ، عجیب ملک ہے ! آدمی ایک گلی سے نکلتا ہے تو دوسری دنیا سامنے آ کھڑی ہوتی ہے؛ ایک طرف دولت کی ریل پیل، دوسری طرف سیاست کے اکھاڑے، کہیں سفارت کاری کے داؤ پیچ اور کہیں دنیا بھر سے آئے ہوئے آدمیوں کا ایسا ہجوم کہ آدمی حیران ہو کر اپنے ہی وجود کی گنتی بھول جائے۔ ایسے ہی ہنگامۂ روزگار میں ایک روز امریکی کانگریس مین ٹام شوازی سے ملاقات کا وقت مقرر تھا۔ملاقات سے پہلے ایک بزرگ اور جہاں دیدہ ڈیموکریٹ سیاستدان سے ملاقات ہوئی۔ باتوں باتوں میں جب میں نے عرض کیا کہ اگلا پڑاؤ ٹام شوازی کا دفتر ہے تو بزرگ نے ایسی بات کہی کہ یکایک شوازی سے ملاقات معمولی ملاقات نہ رہی۔ کہنے لگےکہ ڈیموکریٹ جماعت کے جن ناموں کا ذکر مستقبل کے صدارتی امیدواروں کے حوالے سے کیا جا رہا ہے، شوازی بھی ان میں شامل ہیں۔اب یہ کوئی اعلانِ سلطانی نہ تھا نہ کسی پارٹی نے نقارہ بجایا تھا، ایک تجربہ کار سیاست دان کا سیاسی مشاہدہ تھا۔ مگر صاحب! تجربہ کار آدمی کی بات ایسی ہوتی ہے کہ ذہن کے بند دریچے کھول دیتی ہے۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ آج جس شخص سے ملاقات ہونے والی ہے، اسے ایک کانگریس مین کے ساتھ ساتھ امریکی سیاست کی بساط پر اس مہرے کی جگہ بھی تو دیکھی جائے!

دفتر پہنچا تو ایک اور دلچسپ منظر دیکھا۔ نہ کوئی شاہانہ پروٹوکول، نہ سیاسی درباریوں کا ہجوم، نہ ایسی آمدورفت کہ آدمی سمجھے کوئی بادشاہ سلامت تشریف رکھتے ہیں۔اسٹاف کا بس ایک فرد ، ملاقات سادگی سے آگے بڑھ رہی تھی ۔دل میں خیال آیا کہ جمہوری نظام کا اصل لطف یہی ہے کہ جس شخص کو لوگوں نے منتخب کیا، وہ لوگوں سے ملنے کیلئے دروازہ بند کرکے تخت نشین نہیں ہوتا۔ حلقے کے لوگ، تارکینِ وطن، مختلف برادریاں اور الگ الگ مفادات رکھنے والے شہری، سب اس کے سیاسی روزمرہ کا حصہ ہیں۔ٹام شوازی کی پاکستان کے حوالے سے اہمیت بھی کچھ کم نہیں۔ وہ کانگریس کے پاکستان کاکس کے چیئرمین ہیں اور ایسے حلقۂ انتخاب کی نمائندگی کرتے ہیںجہاں دنیا کے مختلف خطوں سے آنے والی تارکینِ وطن برادریاں آباد ہیں۔ میں نے بات کا سرا پکڑتے ہوئے پوچھا کہ آخر تارکینِ وطن کے مسائل سے اتنی دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟انہوں نے اپنے خاندانی پس منظر کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کہ تارکینِ وطن کے دکھ سکھ اور مسائل کو وہ محض کتابوں میں نہیں پڑھتے بلکہ اس تجربے کو ذاتی طور پر سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مسائل ان کی سیاسی ترجیحات میں جگہ پاتے ہیں۔بات پاکستان تک پہنچی تو پاک بھارت تعلقات کا ذکر بھی آ گیا۔ شوازی نے اس پیچیدہ تعلق کے مختلف پہلوؤںپر گفتگو کرتے ہوئے معمول کے تعلقات کی بحالی کیلئے کوشش جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بات سیدھی تھی مگر وزن رکھتی تھی: دشمنی کی تاریخ کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہو، آخرکار مکالمے کا دروازہ کھولنا پڑتا ہے۔دہشت گردی کا مسئلہ بھی زیرِ بحث آیا۔ پاکستان کی جغرافیائی صورتحال، اس کی پیچیدہ سرحدیں اور خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں گفتگو سے اندازہ ہوا کہ واشنگٹن کے بعض حلقوں میں پاکستان کے مسائل کو محض اعداد و شمار کی عینک سے نہیں دیکھا جاتا۔یہاں پہنچ کر ایک خیال نے مجھے خاصا دیر تک گھیرے رکھا۔ پاکستان کو واشنگٹن میں صرف وائٹ ہاؤس کے دروازے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ کانگریس بھی ہے، تھنک ٹینکس بھی ہیں، میڈیا بھی ہے، کاروباری حلقے بھی ہیں اور سب سے بڑھ کر پاکستانی و دوسری تارکینِ وطن برادریاں بھی ہیں۔ ان سب کے ساتھ مستقل اور ادارہ جاتی رابطہ ضروری ہے۔وجہ صاف ہے۔ امریکی صدور آتے جاتے رہتے ہیں، مگر ادارےاپنی جگہ رہتےہیں۔ اگر پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو صرف کسی ایک صدر یا انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کی کامیابی سمجھ لے تو یہ کامیابی بھی عارضی ہوگی۔ تاریخ میں پریسلر ترمیم جیسے واقعات ہمارے لیے سبق رکھتے ہیں کہ واشنگٹن کو صرف شخصیات کے ذریعے سمجھنا کافی نہیں، اداروں کے مزاج اور فیصلوں کے طریقۂ کار کو بھی سمجھنا پڑتا ہے۔ملاقات ختم ہوئی اور میں دوبارہ ملاقات کے وعدے کے ساتھ دفتر سے نکلا۔ مگر امریکہ کی سڑکوں پر آتے ہی ذہن پھر عالمی سیاست کی طرف جا پہنچا۔ چینی صدر شی جن پنگ کی صدر ٹرمپ سے حالیہ ملاقات، تجارت، مصنوعی ذہانت اور تائیوان کے معاملات، اور دوسری طرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس، صدر شی کا دورہ امریکہ ایک ایسا سگنل ہے کہ چین معاملات کو بہت حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنے کا رویہ رکھتا ہے ، واشنگٹن میں چینی امور کے ماہرین سے جو ملاقاتیں رہی ان میں چینی صدر کے دورے کے حوالے سے بہت مثبت لہریں امریکی سمندر میں موجيں مارتی محسوس ہوئیں، مجموعی تصویر یہ ہے کہ ٹرمپ،شی ملاقات نے امریکہ اور چین کے درمیان فوری کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے میں مدد دی، مگر تجارت، تائیوان، ایران، مصنوعی ذہانت اور دونوں بڑی طاقتوں کے بنیادی اسٹرٹیجک مقابلے جیسے مسائل ابھی حل طلب ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتوں کے تعلقات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ آج کا دوست کل کا حریف بن سکتا ہے اور آج کا اختلاف کل کے مکالمے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کیلئے اصل سوال یہ نہیں کہ واشنگٹن میں کون سا صدر ہمارے لیے زیادہ مفید ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی اہمیت، اپنے مسائل اور اپنی ضرورتوں کو امریکی سیاسی نظام کے مختلف مراکز تک کس قدر مستقل مزاجی، تدبر اور دانش مندی سے پہنچاتا ہے۔واشنگٹن اور نیویارک کی ملاقاتوں سے محسوس ہوا کہ بات صرف وائٹ ہاؤس کے مکین تک محدود نہیں، خارجہ پالیسی محض دارالحکومتوں کے درمیان خط و کتابت کا نام نہیں۔یہ انسانوں، اداروں، پارلیمانوں اور معاشروں کے درمیان تعلقات کا وہ سلسلہ ہے جو خاموشی سے بنتا ہے، وقت لیتا ہے، اور پھر کبھی کبھی تاریخ کا رخ بھی بدل دیتا ہے۔

تازہ ترین