چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈیپ سیک نے ہواوے ٹیکنالوجیز کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے ہواوے کی ایسینڈ چِپس (Ascend chips) کے لیے جدید پروگرامنگ نظام تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ڈیپ سیک نے اپنے سرکاری وی چیٹ اکاؤنٹ پر بتایا ہے کہ ہم ہواوے کے ایسینڈ پلیٹ فارم کے لیے بنیادی سافٹ ویئر نظام اوپن سورس کر رہے ہیں جس میں ٹائل لینگ (TileLang) نامی اعلیٰ سطح کی پروگرامنگ زبان اور متعلقہ کمپیوٹنگ و مواصلاتی لائبریریاں شامل ہیں۔
کمپنی کے مطابق ٹائل لینگ کو اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ پروگرامنگ کو آسان رکھتے ہوئے ہارڈویئر کی مکمل کارکردگی حاصل کی جا سکے۔
ڈیپ سیک کا کہنا ہے کہ یہ نظام این ویڈیا کے کوڈا (Compute Unified Device Architecture) کے مقابلے میں آسان پروگرامنگ ماڈل فراہم کرتا ہے جس سے کوڈا (CUDA) کی پیچیدگی کم اور ترقیاتی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
ڈیپ سیک نے کہا ہے کہ یہ اسٹریٹجک شراکت داری چین میں آزاد اور خود انحصار چِپ و سافٹ ویئر ماحولیاتی نظام کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے جس سے امریکی کمپنی این ویڈیا پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی برآمدی پابندیوں کے باعث چین کی ٹیکنالوجی صنعت مقامی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین اور مصنوعی ذہانت کے لیے مقامی ہارڈویئر و سافٹ ویئر نظام کو تیزی سے فروغ دے رہی ہے۔
دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ڈیپ سیک اور ہواوے کی یہ کوشش جدید بڑے لسانی ماڈلز اور مقامی ہارڈویئر کے درمیان مطابقت بہتر بنانے کے ساتھ مستقبل میں چین میں تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے تربیتی مراکز کی توسیع کی بنیاد بھی فراہم کر سکتی ہے۔