بات چیت: ندا سکینہ صدیقی
دنیا بھر میں ایسی کئی بیماریاں ہیں جن کے بارے میں کم لو گ جانتے ہیں اور ان بیماریوں کے مریضوں کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ مختلف ڈاکٹرز ان بیماریوں پر تحقیق کرکے ان کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی فراہم کررہے ہیں۔ انہیں بیماری میں ایک جینیاتی بیماری ’’مینڈیبیولو ایکرل ڈسپلیزیا‘‘ ہے۔
یہ بیماری لیمن اے نامی جین میں بگاڑ کے سبب لاحق ہوتی ہے اور کم عمری میں بچّوں کو بوڑھا کردیتی ہیں۔ یہ بیماری کیا ہے؟ کیسے اور کیو ں ہوتی ہے؟ ان سوالوں کے جوابات جاننے کے لیے ہم نے امریکا میں مقیم اور اس بیماری پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر، ارشد پڑھیار سے گفتگو کی۔ انہوں نے ہمیں اس بارے میں جو بتایا اس کی تفصیل نذر قارئین ہے۔
س: سب سے پہلے اپنی تعلیم اور خاندان کے حوالے سے تفصیل سے بتائیں ؟
ج: ابتدائی تعلیم گھر میں ہی حاصل۔ چوتھی جماعت سے کراچی کےایک نجی اسکول میں داخلہ لیا وہی سے میڑک کیا، پھر دہلی کالج سے پری میڈیکل میں انٹر کیا۔ میڈیکل کے شعبے میں آنے کا شوق پچپن سے اس لیے تھا کیوں کہ میرے والد اور خاندان کے دیگر لوگوں کا تعلق میڈیکل سے تھا۔ جب انٹر میں جینیات کے بارے میں پڑھا تو مجھے اس میں دل چسپی پیدا ہوئی تو میں نے اسی میں ماسٹرز کرنے کا ارادہ کیا۔
کراچی یونیورسٹی میں ایک ڈپارٹمنٹ ہے جہاں سے جینیات میں ماسٹرز ہوتا ہے لیکن اس کے لیے آپ بایولوجیکل سائنسز کے کسی بھی شعبےمیں انڈر گریجویٹ ہونا ضروری ہے۔
کراچی یونیورسٹی سے مائیکرو بایولوجی، میں گریجویٹ کیا، پھر جینیات میں ماسٹرز کیا۔ بعدازاں ایک پرائیوٹ یونیورسٹی میں پیڈیاٹرکس ڈپارٹمنٹ میں بہ طور ریسرچ آفیسر خدمات انجام دیں۔ اسی دوران میں اسکالر شپ پر چین پی ایچ ڈی کرنے چلا گیا۔
س: مینڈیبیولو ایکرل ڈسپلیزیا (Mandibuloacral dysplasia) کیا ہے اور یہ کیسے ہوتی ہے؟
ج: یہ ایک نہایت نایاب جینیاتی بیماری (genetic disease) ہے جو دنیا بھر میں بہت کم افراد کو متاثر کرتی ہے۔ انسانی جسم کا جینیاتی نظام ڈی این اے (DNA) پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں چار بنیادی حروف (bases) کے ذریعے اربوں کی تعداد میں ہدایات محفوظ ہوتی ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے چند حروف سے بے شمار الفاظ اور جملے بنائے جا سکتے ہیں۔
اس بیماری میں Lamin A نامی جین میں میوٹیشن (mutation) آ جاتی ہے، جس کی وجہ سے جسم کے خلیات درست طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔ اس کے نتیجے میں بچہ کم عمری میں ہی بوڑھا دکھائی دینے لگتا ہے، ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں، جسم میں چربی کم ہو جاتی ہے، دانت غیر معمولی طور پر نکلتے ہیں اور دل کی بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بیماری کا اثر دماغ پر زیادہ نہیں پڑتا، کیونکہ دماغ میں Lamin A جین عموماً غیر فعال (switch off) ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے خلیات اپنا کام بہتر طریقے سے انجام دیتے رہتے ہیں۔ تاہم جسم کے دیگر حصوں میں تیزی سے بڑھاپے جیسے اثرات ظاہر ہونے کی وجہ سے ان مریضوں کی زندگی عموماً چند سالوں تک محدود رہتی ہے۔
س: اس بیماری کے حوالے سے آپ نے جو تحقیق کی ہے ،اس حوالے سے بتائیں ؟
ج: اس تحقیق کا آغاز اُس وقت ہوا جب کچھ مریض ایسی علامات کے ساتھ اسپتال آئے جو عموماً بڑھتی عمر سے متعلق بیماریوں میں دیکھی جاتی ہیں۔ اسی بنیاد پر اسپتال نے ان کی جینیاتی جانچ (genetic testing) اور سیکوینسنگ (sequencing) کی، جس کے دوران Lamin A جین میں میوٹیشن کی نشاندہی ہوئی۔
اُس وقت اس مخصوص میوٹیشن کے لیے کوئی مؤثر علاج موجود نہیں تھا، جس کے بعد اسپتال نے ہمارے تجدیدی طب (regenerative medicine) کے شعبے سے رابطہ کیا اور ہم سے اس پر تحقیق شروع کرنے کی درخواست کی۔
میں نے اس تحقیق کی قیادت کی، مریضوں سے خون کے خلیات حاصل کیے اور پھر ریورس انجینئرنگ (Reverse engineering) یعنی induced pluripotent stem cell (iPSC) ٹیکنالوجی کے ذریعے ان خلیات کو دوبارہ پروگرام کر کے مختلف اقسام کے سیلز میں تبدیل کیا، تاکہ بیماری کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم نے CRISPR جین ایڈیٹنگ (gene editing) ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اسی میوٹیشن کے ماڈلز بھی تیار کیے اور اسے درست کرنے کی کوشش کی۔ تحقیق کے دوران ہم نے مختلف سیلولر ماڈلز اور حیاتیاتی عملوں کا مطالعہ کیا، جن میں مختلف خلیاتی اقسام (جیسے fibroblasts، mesenchymal stem cells اور اعصابی خلیات)، سیل ڈفرنشی ایشن (cell differentiation) جیسے osteogenesis اور adipogenesis، اور ایپی جینیٹک (epigenetic) تبدیلیاں اور مدافعتی راستے (immune pathways) شامل تھے۔
اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ خلیاتی سطح پر خرابی، خاص طور پر مائٹوکانڈریا (mitochondria) اور ایک مخصوص امیون پاتھ وے کی dysfunction کی وجہ سے ان بچوں کا مدافعتی نظام غیر معمولی طور پر تیزی سے بوڑھا ہو جاتا ہے، جس کے اثرات پورے جسم پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اس بنیاد پر ہم نے نہ صرف بیماری کے میکانزم کو بہتر طور پر سمجھا بلکہ مستقبل میں ممکنہ علاج (therapeutic strategies) کی سمت کی بھی نشاندہی کی۔
س: پاکستان اور امریکا میں اس بیماری کی شر ح کتنی مختلف ہے؟
ج: پاکستان میں 7 سے 8 کیسز رپورٹڈ ہیں جب کہ امریکا میں 40 سے 50 کیسز ہیں۔ تقریباً 10 ملین لائف برتھ میں سےایک برتھ اس بیماری میں مبتلا بچے کی ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں تین سے چار سو بچے اس بیماری میں مبتلا ہیں ۔پاکستان میں اس کا علاج palliative کیا جا تا ہے۔
س: اگر اس بیماری کے لیے باقاعدہ منظوری شدہ علاج موجود نہیں ہے تو مریضوں کو دوا کیسے دی جا رہی ہے؟
ج: اس حوالے سے ہم نے drug repurposing کا طریقہ اختیار کیا ہے، یعنی ایسی ادویات کا استعمال جو پہلے سے دوسری بیماریوں کے لیے منظور شدہ اور استعمال میں ہیں۔ چونکہ یہ ایک نایاب بیماری ہے، اس لیے نئی دوا کو مکمل کلینیکل ٹرائلز کے بعد منظور کروانا ایک طویل اور مشکل عمل ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم نے منظور شدہ ادویات میں سے ایک کو اس بیماری میں استعمال کیا۔
س: کیا اس دوا سےا س بیماری کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے ؟
ج: ڈاکٹرز کے مطابق اس دوا کے استعمال کے بعد اس مرض میں مبتلا بچّوں کے انتہائی متحرک مدافعتی نظام میں بہتری آئی ہے جو کہ بہت خوش آئند بات ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دوا کی کتنی مقدار سے ان کےsurvival کی شر ح میں اضافہ ہوا ہے اورعلامات میں کتنی کمی آئی ہے۔
س: کیا mandibuloacral dysplasia کا کوئی باقاعدہ علاج موجود نہیں ہے ؟
ج: کسی بھی بیماری کے لیے کوئی دوا تیار کرنے میں کا فی وقت لگتا ہے ،کیوں کہ ان کے کینیکل ٹرائلز میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ لہٰذا ہم نے مدافعتی نظام کی موجودہ ادویات کے ٹیسٹ کیے، ان میں سے ایک دوا کے سیلز میں بہت اچھے نتائج ملے، وہ دوا کو ڈاکٹرز کو تجویز کی، اس کے استعمال سے ان بچّوں کا ایجنگ پروسیس آہستہ ہو جائے گا اور مدافعتی نظام بھی بہتر ہو جائے گا۔
اب کئی اسپتالوں میں یہ دوا استعمال کی جارہی ہے ۔ کس بچے کو کتنے وقت تک دوا دینی ہے، اس کا فیصلہ بچے کی کنڈیشن کے مطابق کیا جا تا ہے۔ اس سے قبل palliative treatmentکیا جاتا تھا ،جس سے مریض بچّوں کو وقتی طور پر آرام آتا تھا۔
س: آپ کے خیال میں اس بیماری کے ہونے کی وجہ کیا ہے؟
ج: یہ جینیٹک باؤنڈ بیماری ہے جب جین میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو بچے اس بیماری کا شکار ہو جا تے ہیں اور جب تک جین میں اصلاح نہیں ہوگی، اس کی شرح میں کمی واقع نہیں ہوگی۔
س: یہ بیماری پیدائشی طور پر ہوتی ہے یا ایک مخصوص عمر میں لاحق ہوتی ہے؟
ج: یہ ہوتی پیدائش طور پر ہے لیکن اس بیماری کی علامات پیدائش کے چند سال بعد ظاہر ہوتی ہیں۔
س: پاکستان اور امریکا کے طر یقہ ِعلاج میں آپ کو کیا فرق محسوس ہوتا ہے؟
ج: پاکستان اور امریکا کے طریقۂ علاج میں بنیادی فرق یہ ہے کہ روزمرہ کی طبی سہولیات، جیسے عام بیماریاں یا ہنگامی کیسز، پاکستان میں نسبتاً تیزی سے نمٹا لیے جاتے ہیں کیونکہ یہاں کاغذی کارروائی (paperwork) اور انشورنس کا نظام کم پیچیدہ ہے۔
جبکہ امریکا میں اپائنٹمنٹ اور علاج کے عمل میں دستاویزی تقاضوں کی وجہ سے تاخیر ہو جاتی ہے۔ لیکن خصوصی نوعیت کی بیماریوں، جیسے کینسر یا جینیاتی امراض، میں امریکا کافی آگے ہے۔ وہاں جدید تشخیصی طریقے (advanced diagnostics)، جینیاتی جانچ (genomic sequencing) اور نئی تحقیق کی بنیاد پر ڈاکٹرز بہتر رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور مریضوں کو زیادہ مؤثر اور متنوع علاج کے مواقع ملتے ہیں۔ یعنی پاکستان میں بنیادی طبی سہولیات تیز اور آسانی سے دستیاب ہیں، جبکہ امریکا میں پیچیدہ بیماریوں کے لیے جدید اور تحقیق پر مبنی علاج زیادہ بہتر ہے۔
س: آپ کی ایک تحقیق immune related diseases and fibrosis پر ہے ،اس بارے میں کچھ بتائیں؟
ج: فائبر وسس دراصل ایک ایسی بیماری ہے جو عموماً بڑھتی عمر کے ساتھ زیادہ ظاہر ہوتی ہے، جس میں جسم کے ٹشوز میں زیادہ اسکار (scar) بن جاتا ہے اور یہ عمل عموماً ناقابلِ واپسی (irreversible) ہوتا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی دائمی بیماریوں اور اموات کا ایک بڑا حصہ فائبر وسس سے متعلق ہوتا ہے، خاص طور پر عمر رسیدہ افراد میں۔
میری تحقیق کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ فائبر وسس کو کس طرح ریورس کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ہم ایک ماڈل جاندار، Three-Spined Stickleback مچھلی، پر کام کر رہے ہیں جو برٹش کولمبیا، کینیڈا اور الاسکا، امریکا کے علاقوں میں پائی جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی کچھ آبادیوں میں فائبر وسس قدرتی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ ہم اس میکانزم کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس علم کو انسانوں پر لاگو کر کے فائبر وسس جیسی بیماریوں کا بہتر علاج ممکن بنایا جا سکے۔
س: پاکستان بایوٹیکنالوجی اور تجدیدی ادویات میں کس طرح ترقی کر سکتا ہے، اور جدید طریقۂ علاج کو اپنانے میں رکاوٹیں کیا ہیں؟
ج: پاکستان بایوٹیکنالوجی اور تجدیدی ادویات میں اس طرح ترقی کر سکتا ہے کہ سب سے پہلے تحقیق کے لیے مضبوط فنڈنگ فراہم کی جائے اور ساتھ ہی آر اینڈ ڈی (R&D) پر مبنی صنعتوں اور بایوٹیک اسٹارٹ اپس کو فروغ دیا جائے۔ اس سے تعلیمی تحقیق کو عملی یا اطلاقی سطح (translational level) پر لانے کا موقع ملے گا اور طلبہ کے لیے صرف تعلیمی اداروں تک محدود رہنے کے بجائے صنعت میں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
دوسری طرف پاکستان ابھی تک جدید علاج کے طریقوں کو اس لیے مکمل طور پر نہیں اپنا سکا کیونکہ فنڈنگ کے ساتھ ساتھ ہمارا تعلیمی نظام بھی مضبوط نہیں ہے۔ بہت سے طلبہ بوٹنی، زولوجی یا دیگر سائنسی شعبوں میں صرف ڈگری حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں، جبکہ امریکا میں زیادہ تر طلبہ ان شعبوں میں حقیقی دلچسپی کے ساتھ آتے ہیں۔
اس وجہ سے یہاں تحقیق اور جدت (innovation) کا کلچر اس حد تک ترقی نہیں کر پاتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بنیادی تعلیم سے ہی تجسس اور سائنسی سوچ کو فروغ دیا جائے تاکہ مستقبل میں معیاری تحقیق اور نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانا ممکن ہو سکے۔
س: پاکستان میں اسٹیم سیل کا مستقبل کیا ہے؟
ج: اسٹیم سیل کے شعبے میں پاکستان کا مستقبل کافی روشن نظر آتا ہے۔ اسٹیم سیل تھراپی کے ذریعے مستقبل میں کینسر، مدافعتی نظام سے متعلق بیماریوں اور اعصابی تنزلی کی بیماریوں جیسے الزائمر اور پارکنسن کے علاج میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔
تاہم اس بات کا بھی امکان ہے کہ کچھ غیر رجسٹرڈ یا غیر مجاز کلینکس اسٹیم سیل تھراپیز فراہم کرنا شروع کر دیں، اس لیے عوام کو آگاہ ہونا چاہیے کہ وہ صرف انہی علاجوں کا انتخاب کریں جو متعلقہ اداروں سے منظور شدہ ہوں۔
پاکستان میں اس شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے آگاہی، جدید تحقیق اور مناسب فنڈنگ نہایت ضروری ہے۔ اگر ان پہلوؤں پر توجہ دی جائے تو پاکستان تجدیدی طب (regenerative medicine) اور بایوٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے۔