جدید دور میں تیل وگیس یا پٹرولیم دنیابھر میں توانائی کے حصول کا سب سے اہم ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کی کمی یا سپلائی میں تعطل ایک بہت بڑے عالمی توانائی بحران کا پیش خیمہ ہوتی ہیں بلکہ ہوگئی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو زمانۂ قدیم سے سپر طاقتیں یا اس کے اتحادی ممالک کوئلہ اور طلائی دوڑ میں شامل ہو کر قبضہ کرنے میں سرگرداں نظر آتے تھے، جب کہ موجودہ دور میں تیل وگیس کے ذخائر پر جائز یا ناجائز تسلط قائم کرنے کے لیے فعال دکھائی دیتے ہیں ،جس کی وجہ سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، خصوصی طور پر ساحلی میدانی خطوں کے اطراف ،کیوں کہ دنیا میں زیادہ تر تیل و گیس کی ’’بایوجینک‘‘ پیداواریت ایسے ہی ساحلی میدانی ریاستوں میں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ ایسے خطے تیل و گیس کے ’’بایو جینک‘‘ (حیوانیہ اور نباتیہ ) افزائش کے لیے ایک پر سکون ماحول کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔
تیل و گیس کی معاشی اور تجارتی ذخیرہ اندرونی میں بنیادی اورلازمی پیرا میٹر’’با یوجینک‘‘ پیداواریت کو حاصل ہے ۔ اسی وجہ سے ایسے خطوں میں خلیج فارس کو بڑی فوقیت حاصل ہے، کیوں کہ یہ خطہ با یو جینٹک پیداواری زون میں آتا ہے 1859ء میں ایڈون ڈراک (Edwin Drake)نے ساحلی میدانی علاقوں میں پہلا تیل کا کنواں ڈرل کیا، یہاں سے حاصل کردہ چٹانی نمونوں کے مشاہدات اور تجزے بتدریج ہوتے رہے، جس کے نتیجہ میں 1863ء میں سائنسی حلقوں میں یہ بازگشت سنائی دینے لگی کہ تیل و گیس کی تیاری میں ابتدائی مانگ بایوجینٹگ پیداواریت ہوتی ہے جو ایک مخصوص ماحولیاتی شرائط کے ساتھ مدفون و محفوظ حیوانی و نباتاتی باقیات کے استخراج (ماخوذ) سے عمل میں آئی ہیں۔
ان ارضیاتی معلومات کو 1901ء میں خلیج فارس کے ملک پریشیا (ایران) کے جزیرہ بر منر اور خارگ میں اطلاق کیا گیا تو ماہرین اس بات پر متفق ہو گئے کہ تیل و گیس کی معاشی پیداواریت مدفون ’’با یوجینک‘‘ باقیات سے ہوئی ہیں،کیوںکہ ان ساحلی میدانی علاقوں میں سے جو چٹانی نمونے حاصل کئے گئے ہیں۔
اس میں بحری اور دریائی پانی میں افزائش پانے والے حیوانیہ اور نباتیہ انواع کے اجزاء مثلاً پورفائرن، نائیٹروجن، پروٹوزوا، کورل اور سہ لختہ (Trilobite) وغیرہ کے نقوش واضح طور پر موجود پائے گئے ہیں جب کہ دوسری طرف خودبینی نباتاتی اجزاء مثلاً ویٹرمینائین ، لیگنین، الجی ، بحری فنجائی اور ڈائی ایٹمرشمبو ریڈیولیرین پر مشتمل سیلولوز پائےگئے ہیں، جویقینی طور پر ’’بایوجینک‘‘ پیداواریت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بایو جینک پیداواریت کی کثیر مقدار کے بعد ہی تیل و گیس کی تخلیق عمل میں آتی ہے۔
خلیج فارس کو دیکھا جائے تو یہ بھی ایک ایسا ہی ساحلی میدانی علاقہ ہے جو اسی قسم کی چٹانوں سے ماخوذ ہوتی ہیں جو ساحل پر موجود ہوتی ہیں جو بایوجینک اجزاء اور غذائیت سے بھر پور معدنی ذرات پر مشتمل ہوتی ہیں، جسے سمندری لہریں ریزہ ریزہ کرتی رہتی ہیں جو دریا کے ذریعہ سمندر تک منتقل ہوتی جسے سمندری لہروں کی ولاسیٹی وسیع و عریض علاقوں میں ہموار اور افقی حالت میں پھیلا دیتی ہیں، جس کی وجہ سے خلیج فارس ایک ہموار اُفقی ساحلی میدان میں تبدیل ہوگیا۔
اس کا ایک حصہ خشک ساحلی میدان شکل میں موجود ہے لیکن یہ کئی سو میل تک زیر آب سمندر میں چلی گئی ہیں۔ اوشنو گرافی میں اسے بر اعظمی تختہ یا براعظمی شیلف کہتے ہیں جہاں پر بایوجینک پیداواریت بڑی تیزی کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔ یہ زیر آب زمینی پلیٹ فارم ہوتا ہے جو کم ڈھلوان کے ساتھ زیر سمندر مو جود ہوتاہے۔ مدِجذر اصغر اور مدِجذر اکبر کے دوران ساحل سمندر کے آگے پیچھے ہونے کی وجہ سے ساحلی میدانی علاقوں کے پھیلاؤ میں فرق پڑتا ہے۔ اس کی گہرائی سمندر میں 200-300 میٹرتک ہوتی ہے۔
اس کے بعد(شینوڈ1967) سمندری فرش موجود ہے۔ یہ تینوں ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں اور بایوجینک پیداواریت کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن ابتدائی طورپر براعظمی تختہ ہی الجی کی افزائش کرتا ہے، کیوں کہ یہاں موجود الجی ہی وہ ابتدائی با یو جینک پیداواری پروڈیوسر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے تقریباً 95فی صد پیچیدہ خوراک چین کی ابتداء ہوتی ہے،کیوں کہ اس میں 0-31فی صد کاربوہائیڈریٹس، 24-48فی صد پروٹین اور 10-42فیصد لحمیات ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے یہاں پر تراکیوں (plangton)کی افزائش اور نشوو نما بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے زیر آب براعظمی تختہ اور ساحلی میدانی علاقوں خصوصاً طخلیج فارس کے علاقوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس خلیج میں پیداواری ماحول اور پانی کا ’’دائری چکر‘‘ ہمہ وقت ہوتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے باز دوری کا عمل جاری رہتا ہے جو پانی کی سطح میں غذائیت فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہوتا ہے، کیوں کہ جب انواع دور حیات مکمل کر لیتے ہیں یا پھر بڑے آبی جانور کی خوراک بنتے ہیں تو خوراک کے بہت قتلے جانوروں کے منہ سے نکل کر سمندر کی گہرائی میں ڈوبنے لگتے ہیں۔
یہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بایوجینک تحلیل کا عمل ہوتا ہے جو براعظمی ڈھلوان اور براعظمی چڑھائی سے ہوتے ہوئے نیچے سمندری فرش پر تہہ نشین ہونے لگتے ہیں ۔ یہ غذائیت سے بھر پور دائری چکر کی وجہ سے اوپری اٹھان کی زد میں آکر براعظمی تختہ تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اس پانی میں بھر پور غذائیت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے آبی جانور اس کے اطراف چکر لگاتے اور بایوجینک پیداواریت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ،جس کے پس پشت کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔
مثلاً زمین کی محوری گردش (فیرل کا قانون)، مدوجذرقوت ، پانی کی کثافت اور درجۂ حرارت میں افتراق اور فضائی چکر کی وجہ سے ہوائی قوت کا اثر نمایاں ہوتا ہے۔ عام طور پر بلند غذائیت فاسفیٹ،نائیٹرس اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سپلائی کی وجہ سے برقرار رہتا ہے اور یہ ان سمندروں میں پائے جاتے ہیں جو بلند پانی کے اٹھان کا محور ہوتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعہ جب پانی بہت زیادہ گہرائی سے اوپر کی طرف رخ کرتا ہے تو اس کے ساتھ غدائیت بھی شامل ہوتی ہیں،جس سے آبی نامیے تکسیدی اور تحلیلی عمل سے پانی میں محلول بناتے ہیں، جس میں موجود غذائیت سے ضیائی تالیفی نامیے استعمال کر لیتے ہیں۔
یہ نباتاتی اور حیوانی تراکیوں کے بلند ابتدائی پیداواریت کا ذریعہ بھی بنتےہیں۔ نامیے جو غیر شکل (Amorphrous) سیلکا پر مشتمل ہوتے۔ (ڈائی ایٹمز او رریڈ ولیرین) ہیں جو بتدریج سمندر کے پانی سے ملنے کے بعد حل ہو جاتے ہیں بعض اوقات’’ کاربونیٹ‘‘ اور خاص طور پر ’’آریگو نائیٹ‘‘ بھی حل ہو جاتے ہیں جو زیادہ فاسفیٹ کو مرکوز کرتے ہیں، جب کہ اس میں موجود کار بن ڈائی آکسائیڈ بعض بیکٹیریا (ستائی نو بیکٹیریا) اور بلو گرین الجی استعمال کرتے ہیں لیکن پر سکون سمندر بلند پیداواریت کے حامل نہیں ہوتے، کیوںکہ یہاں پر پانی کا دائری چکرنہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
لیکن’’ خلیج فارس‘‘ سے منسلک سمندر میں پانی کا دائری چکر جاری رہتا ہے۔ ’’با یوجینک‘‘ سپلائی ان علاقوں میں بھی زیادہ ہوتی ہے جہاں بڑے اور کئی دریا سمندر سے ملتے ہیں، جہاں ساحلی میدانی علاقوں میں تسرفی (Erosion) عمل شب وروز جاری ر ہتا ہےاور جہاں پر بایوجینک پیداواریت آج بھی سمندر میں شامل ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے پیداواریت میں توازن بر قرار ہے۔ مثلاً خلیج فارس کا ساحلی میدانی علاقہ اور ماضی کے براعظمی تختہ کا ایک وسیع و عریض حصہ شوریت اور درجۂ حرارت بھی پیداواری صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
’’ خلیج فارس‘‘ موزوں ترین ’’با یو جینک‘‘ ماحول کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بایوجینک پیداواریت کے بغیر خام تیل و گیس کی تخلیق ناممکن ہے، کیوںکہ پیداواریت کو کئی دیگر پیر امیٹرز کنٹرول کرتے ہیں۔