کراچی (رفیق مانگٹ)مصنوعی ذہانت پر امریکا چین مذاکرات، ٹرمپ کا عالمی ضابطہ بندی سے انکار، سلامتی کونسل میں بڑی کمپنیوں کی وارننگ، مصنوعی ذہانت عالمی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ بن گئی، چین کا تعاون پر مبنی مؤقف، مصنوعی ذہانت کو انسانی کنٹرول میں رکھنا ناگزیر قرار دے دیا گیا ہے، وائٹ ہاؤس کا دہرا رویہ بے نقاب، عوامی مخالفت کے باوجود چین سے خفیہ رابطے مسلسل جاری ہیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت سے متعلق سیفٹی گارڈریلز یعنی حفاظتی قواعد پر خاموش مذاکرات جاری ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی طور پر کسی بھی عالمی ضابطہ بندی یا کنٹرول فریم ورک کو مسترد کر دیا ہے، جس سے عالمی AI پالیسی میں واضح تضاد سامنے آ گیا ہے۔