• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس ترقی یافتہ دور میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے نت نئی چیزیں متعارف کروائی جارہی ہیں۔ اس ضمن میں اوپن اے آئی نے لائف سائنسز کے شعبے میں مہارت کو وسعت دیتے ہوئے بایو لوجی سے متعلق علم اور سائنٹفک تحقیق کے فروغ کے لیے آرٹیفشل انٹیلیجینس (اے آئی) کا ایک نیا ماڈل جی پی ٹی-روزالینڈ( GPT-Rosalind)متعارف کرایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جی پی ٹی-روزالینڈ برطانوی سائنس دان روزالینڈ فرینکلن کے نام پر رکھا گیا ہے، یہ ماڈل بایو کیمسٹری، ادویات کی دریافت اور بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے شعبوں میں تحقیق کی مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ادویات کی دریافت اور تحقیق کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اے آئی سے چلنے والے ٹولز کی طلب فارماسیوٹیکل کمپنیوں، تعلیمی اداروں اور بایوٹیک فرموں میں بڑھ گئی ہے۔ اس ماڈل کو استعمال کرنے والے محققین ڈیٹا بیسز سے معلومات حاصل کر سکیں گے، جدید سائنسی مقالے پڑھ سکیں گے ، دیگر سائنسی ٹولز کے استعمال کے ساتھ ساتھ نئے تجربوں کے لیے تجاویز دے سکیں گے، کیونکہ یہ ماڈل اوپن اے آئی کے جدید ترین اندرونی ماڈلز کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

جی پی ٹی روزالینڈ کو چیٹ جی پی ٹی، کوڈیکس اور اے پی آئی میں مستند صارفین کے لیے ریسرچ پری ویو کے طور پر اوپن اے آئی کے قابل اعتبار رسائی کے ڈھانچے کے ذریعے دستیاب ہے جبکہ کمپنی کوڈیکس کے لیے ایک مفت لائف سائنسز ریسرچ پلگ ان بھی متعارف کرا رہی ہے جو سائنس دانوں کو 50 سے زائد سائنسی ٹولز اور ڈیٹا سورسز سے منسلک کر رہا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ جدید ترین فلیگ شپ ماڈل کا ایک ایسا ورژن ہے، جسے خاص طور پر دفاعی سائبر سیکیورٹی کے لیے بہتر بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اوپن اے آئی کی حریف کمپنی اینتھروپک کی جانب سے جدید اے آئی ماڈل میتھوز (Mythos ) کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد اوپن اے آئی کا نیا ماڈل سامنے لایا گیا ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید