• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سب سے پہلے ایک ایسے معدنی ذخیرے کا ذکر جو ہماری ترقی کا ضامن ثابت ہوا اور آج بھی ہم اسی کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔ اور وہ ہے 1952 میں سوئی کے مقام پر قدرتی گیس کی دریافت۔ گئے تو تھے ہم تیل کی تلاش میں مگر ہمیں گیس ملی، جس کا ان دنوں کوئی استعمال نہ تھا۔ اور تھا بھی تو بڑے صنعتی شہر کی قربت میں نہ کہ پہاڑوں اور ریگستانوں میں۔ لیکن 56 انچ قطر کی ایک پائپ لائن ڈال کر اس گیس کو کراچی لایا گیا جو صنعتوں کے علاوہ گھروں کے چولہے جلانے کے کام آئی۔

سوئی کے بعد سندھ اور پنجاب میں کئی مقامات پر گیس فیلڈ دریافت ہوتی رہیں اور وہ سب سوئی کی پائپ لائن میں جوڑی جاتی رہیں۔ بجلی کا کچھ حصہ بھی اس سے بنتا رہا اور فرٹیلائزر بھی اسی کا مرہونِ منت۔ پچاس برس اس نے ہمارا خوب ساتھ دیا۔ لیکن اب یہ ذخیرے کم ہونے لگے اور ہماری آبادی بڑہتی گئی۔اس پر طرح یہ کہ ہم نے اسے سلنڈروں میں بھر کے CNG سے گاڑیاں چلانا شروع کر دیں۔

چنانچہ اب ہم کو قطر سے LNG منگانا پڑ رہی ہے جو مہنگی بھی ہے اور جنگ کی وجہ سے ترسیل کے راستے میں رکاوٹ اور قلت کا سامنا بھی، مگر یہ ہماری کامیابی کی کہانی ہےاور بغیر قدرتی گیس کے ذخیروں کے پاکستان میں توانائی کا تصور کرنا بھی مشکل لگتا ہے کہ ملک کس حال میں ہوتا۔

اب ایک دوسرے ذخیرے کی طرف آئیے جو سوئی سے بہت بڑا، نہایت قدیم اور تاریخی مگر ہم نے اس کی قدر نہ کی، وہ ہمارے دسترخوانوں کی زینت تو بنتا رہا، مگر صنعتی یا معاشی ترقی میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ میری مراد کھیوڑہ کے چٹانی نمک سے ہے۔ ہم نے اس چٹانی نمک اور سمندر کے پانی سے حاصل کردہ نمک کو ایک ہی سمجھا، بھلے دنوں میں دونوں آٹھ آنے سیر ملتے تھے اور آج بھی ان کی قیمت ایک ہی سطح پر ہے۔ یہ نمک اپنی اصل میں تو سوڈیم کلورائڈ ہی ہے، مگر اس میں چند ایسے عناصر شامل ہیں جو اس کو گلابی رنگت، اپنی خوشبو اور سمندری نمک سے فرق دلاتے ہیں۔

تیسری مثال ایسے چٹانی ذخیرے کی ہے، جس سے ہم نے خوب فائدہ اٹھایا۔ صنعتی اور مواصلاتی ترقی میں اس کا بڑا رول رہا۔ میرا اشارہ لائم اسٹون (چونا پتھر) کی طرف ہے۔ پاکستان کے تمام پہاڑی سلسلے لائم اسٹون یعنی چونا پتھر کی تہوں سے بھرے ہیں۔ ان کے تین استعمال نظر کے سامنے ہیں۔ ایک یہ سیمنٹ بنانے کا خام مال، دوسرا سڑکوں کی تعمیر میں جو روڑی بچھائی جاتی ہے وہ اسی لائم اسٹون کی ہوتی ہے اور تیسرا ماربل۔

ہم نے سیمنٹ کے کار خا نے بنائے لیکن 80 ملین ٹن کی گنجائش رکھنے کے باوجود ہم صرف اس کا نصف سیمنٹ بناتے ہیں اور اس کی ایکسپورٹ چند ہی ممالک مثلاً افغانستان، ہندوستان اور تاجکستان کو ہوتی ہے۔ آج بھی چودہ سو روپے کی بوری ہماری پہنچ میں ہے لیکن اگر صنعتی ترقی کا وژن ہوتا تو ساحلِ سمندر پر،جہاں لائم اسٹون ہے وہاں اس کی فیکٹریاں ہوتیں۔ سیمنٹ کی بوریاں براہِ راست فیکٹری سے جہازوں پر لاد دی جاتیں اور ایکسپورٹ کر دی جاتیں۔

ہاں روڑی میں لائم اسٹون کا استعمال اور اس کی آسان دستیابی نے ہمیں سڑکوں کا جال بچھانے میں مدد دی۔ اس کے بر عکس مرحوم مشرقی پاکستان میں جب سڑک بنانے کا سوچتے تو بڑا سوال یہ ہوتا کہ روڑی کہاں سے آئے گی؟ہر طرف پانی میں ڈوبی زرخیز زمین۔ کسی پہاڑی کا نام نشان نہیں۔ جب کہ مغربی حصے میں اس کی فروانی ہی فروانی۔

اب ذرا دھاتوں کی طرف آتے ہیں۔ معدنیات کے لحاظ سے سونا، چاندی، تانبہ، لوہا، سیسہ اور جست جیسی دھاتیں نظروں کے سامنے پھرنے لگتی ہیں۔ لوہے کے ذخائر کالا باغ کے پہاڑوں میں ملے اور اس کی جانچ پڑتال کی گئی۔تو پتہ چلا کہ یہ کم درجے یعنی Low Grade Ore ہے۔ اور لوہا جن مرکبات میں شامل ہے۔ اس سے علیحدہ کرنا مشکل، مگر ایک جرمن کمپنی نے محنت کی اور اسے قابلِ عمل قرار دیا۔ ایوب خان کا زمانہ تھا، انہوں نے مشورہ دیا کہ جس لاگت سے کالا باغ سے لوہا دستیاب ہوگا۔

اس سے کم قیمت پر انٹرنیشنل مارکیٹ سے امپورٹ کر لیں گے۔ اب انہیں کون سمجھاتا کہ اپنے ذخیرے کی مائننگ کرو گے تو روزگار بڑھے گا اور تجربہ حاصل ہوگا۔ اس کچی دھات کو پگھلا و گے اور لوہا الگ ہو گاتو اسٹیل انڈسٹری کے قیام کے امکان روشن ہو جائیں گے۔ اسٹیل مل لگی مگر 1964 کے بجائے 1984 میں روسی اسٹیل مل۔ اور وہ بھی ناکام پروجیکٹ قرار دے کر بند ہو گیا۔

سونے تانبے کی کہانی ذرا رنگین ہے۔ بلوچستان کے ایک کونے میں تفتان بارڈر کے قریب سیندک نامی پہاڑی میں تانبے کے ذرات ملے۔ مگر وہ اتنے کم کہ ایک فیصد بھی نہیں بلکہ 0.3 فیصد۔ دوسرے لفظوں میں اگر آپ تین سو ٹن چٹان کھود کر ڈھیر لگا دیں تو اس میں ایک ٹن تانبہ ہوگا۔ مگر اس کے ساتھ کچھ ذرات سونے کے اور کچھ مولی بڈینم Molybdenum)) کے۔ تو اس طرح یہ مائننگ کے قابل قرار پائے۔ محکمہ جیو لوجیکل سروے (GSP)یا منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (PMDC) کے پاس نہ سرمایہ تھا نہ صلاحیت۔

کئی آسٹریلین کمپنیاں آئیں اور گئیں اگر سیندک منافع بخش تھا بھی تو صرف کام چلانے بھر۔ آخر کار اسے چائنا کے دوستوں نے مائننگ کی حامی بھری۔ چنانچہ چٹانوں کو چورا کر کے تانبہ اور سونے کے حامل پتھر، کینٹینروں میں بھر کر چین لے جاتے ہیں۔ پتھروں سے دھاتوں کو الگ کرنا انکی ڈلیاں بنانا اور فروخت کرنا، ان سب میں ہمارا کوئی دخل نہیں۔ چنانچہ جتنے ٹن پتھر وہ ہمیں بتا دیں ۔اس کی رائلٹی حکومتِ پاکستان کو ملتی ہے، مگر حقیقت میں کیا کچھ ہوا،وہ پردہ اخفا میں رہتا ہے۔

سیندک تو ایک چھوٹا ڈپازٹ تھا اور کسی نہ کسی حد تک آمدن کا سبب ہے، مگر ریکوڈک کے تانبے سونے کی کہانی بڑی پیچیدہ ہے۔ یہ دنیا کے ان ذخیروں میں سب سے بڑا ہے جسے ابھی تک چھیڑا نہیں گیا ہے۔ ایک آسٹریلین کمپنی نے اسے دریافت کیا اور تفصیلی سروے اور کیمیائی تجزیے سے انہوں نے اسے ایک بڑا ذخیرہ ثابت کیا۔ لیکن تانبہ ان کی اسپیشلٹی نہیں تھی۔ اس لئے انہوں نے اسے کینیڈا کی بیرک گولڈ کمپنی کے ہاتھوں بیچ دیا۔

ایکسپلوریشن کا کام تو ہو چکا تھا اب مائننگ کیلئے معاہدہ کرنا تھا۔ تو غیر ملکی کمپنی نے بلوچستان کی صوبائی حکومت کو پیشکش کی۔کہ مشینری ہماری ہوگی، ٹیکنیکل اسٹاف بھی ہمارا اور سرمایہ بھی ہم لگائیں گے، لیکن زمین آپ کی ہے اس لئے منافع سے 25 فیصد آپ کو ملے گا۔ بلوچ نوجوان ناراض ہو گئے۔ زمین ہماری، پہاڑ ہمارا، اسمیں پوشیدہ دھاتیں ہماری، پھر بھی آپ کا حصہ پچھتر فیصد اور ہمارا پچیس! بلوچستان گورنمنٹ نے مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا۔

سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ لیکن بین الاقوامی عدالت نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیا کہ مائننگ کی اجازت نہ دینے سے ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ اب حکومتِ پاکستان چھے ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرے۔ کینیڈین کمپنی نے نیویارک میں پاکستانی ہوٹل فروخت کر کے تاوان وصول کرنا چاہا ،مگر اس میں وہ کامیاب نہ ہوئے تو وہ پاکستان دوبارہ آئے۔

اب کہ وفعہ معاہدہ ففٹی ففٹی پر ہوا لیکن منافع میں ففٹی تو سرمایہ بھی ففٹی لگاؤ۔ وہ پاکستان کہاں سے لائے۔ سعودی عرب سے درخواست کی کے پندرہ فیصد آپ لگائیں۔ تو پھر وہ منافع بھی تو پندرہ فیصد لے گا۔ پاکستان کو تو اب 25 فی صد کے بھی لالے پڑگئے۔ فی الحال تو جنگ کی وجہ سے تمام کاروائی دھیمی ہو گئی ہے۔ لیکن جو پہلی آفر تھی وہی سب سے بہتر تھی، مگر ہم جذبات کی رو میں بہہ گئے۔

تانبے کا ذکر ابھی ختم نہیں ہوا۔ لسبیلہ سے خضدار تک اور پھرشمالی علاقہ جات میں کئی مقامات پر چھوٹے چھوٹے دھاتی ذخائر ہیں۔ مقامی لوگ انہیں دریافت کرتے ہیں اور علاقے کے بڑے سردار، چوہدری یا خان مائننگ کرتے ہیں۔ ایک آدھ جگہ سرکاری محکموں سے لیز لیتے ہیں اور دیگر جگہوں سے اسی لایسنس کی آڑ میں تانبہ نکالتے ہیں۔ اس تانبے کے خریدار زیادہ تر چائنیز ہیں۔ سودا بالا بالا ہو جاتا ہے۔ اسے un-documented economyمیں شمار لیجئے ۔ ایک اندازہ ہے کہ پاکستان کی undocumented اتنی ہے جتنی الف بی آر کے کھاتوں میں۔ گوگل 457$ بلین ڈالر بتاتا ہے۔

تھر کا کوئلہ نو ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا۔ اسکی اہم مائننگ اسلام کوٹ کے نواح میں ہو رہی ہے۔ ذخائر کا اندازہ 175 بلین ٹن ہے۔ کراچی سے 400 کلومیٹر دور۔ بڑا ڈپازٹ کئی بلاک میں تقسیم کیا گیا ہے تو اس وقت دو بلاک سے 15 ملین ٹن سالانہ کا کوئلہ نکالا جا رہا ہے جس سے بجلی بنا رہے ہیں جو کراچی لائی جاتی ہے۔ یہ کے- الیکٹرک کی بجلی سے ساٹھ فیصد سستی پڑتی ہے۔

تھر کا کوئلہ 1980ء میں سندھ میں چھا چھرو کے مقام پر پینے کے پانی کے کنوؤں کی کھدائی میں نظر آیا۔ جاپان کی مدد سے کئی سال تک سروے ہوتا رہا اور ہم اکیسویں صدی میں داخل ہوتے وقت تھر کوئلے کی مائننگ کے لئے تیار تھے چین کی کمپنی شین ہوا نے ہمیں 2002 میں آٹھ یا نو سینٹ فی کلوواٹ بجلی بنا نے کی پیشکش کی۔ ہم نے 4 سینٹ کا مطالبہ کیا۔ معاملہ ایک برطانوی کمپنی کی ثالثی میں چلا گیا۔ انہوں نے سات سینٹ کو درست قرار دیا۔ اب ہم یہ معاہدہ کرتے تو ہمیں بجلی کی اتنی تنگی نہ ہوتی۔

مگر ہم نے یہ آفر مسترد کر دی اور کمپنی واپس چلی گئی۔ CEPEC کے تحت 2015 میں دوبارہ کام شروع ہوااور ہمیں پہلی بجلی 2024 میں ملی۔ تھر سے کوئلہ نکالنا اور بجلی بنانا ہمارے لئے بغیر چین کے تعاون کے ممکن نہ تھا۔ اسوقت پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے جوائنٹ پروجیکٹ سے یہ کام ہو رہا ہے اور ابتدائی مرحلے میں سمجھیے۔ اگر ہم پرائیوٹ بجلی گھروں سے نجات پالیں جو ہمارا خون چوس رہے ہیں اور تھر سے بجلی میں اضافہ ہو تو ہم کہہ سکیں گے کہ اس معدنی ذخیرے نے ملکی معاشی ترقی میں کردار ادا کیا۔

جب ہم کوئلے سے بجلی بنانے کی بات کر رہے ہیں تو کیوں نہ پن بجلی کا ذکر بھی ہو جائے۔ جب ہم نے منگلا ڈیم بنانے کا سوچا اور ورلڈ بینک سے اس کے لئے قرضہ مانگا تو اس سے پہلے یہ ضروری تھا کہ ہندوستان سے ایک معاہدہ ہو جاتا کہ یہ دریا جو سب کشمیر سے آتے ہیں اس پر پاکستان کا کتنا حق ہے۔ طے پایا کہ سندھ، جہلم اور چناب پورا پاکستان کے حصے میں اور ستلج، بیاس اور راوی ہندوستان کے۔ اس معاہدے پر 1960 میں پنڈت نہرو اسلام آباد آئے اور اسپر دستخط ہوئے۔ کہا جاتا ہے ہمارے دریا بیچ دیے گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ تین دریاؤں پر مکمل حقوق حاصل کرنے کے بعد ہی دریا ئے جہلم پر منگلا ڈیم اور دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم بنا۔ یہ قدرتی وسائل ہماری ترقی کے ضامن بنے۔ چھ ہزار میگا واٹ سستی بجلی ہمیں ان دونوں ڈیم سے ملتی ہے جو ابتدا میں ہماری ضرورت کا نصف تھی، مگر بڑھتی آبادی کے ساتھ اب اس کا حصہ صرف ایک چوتھائی رہ گیا ہے اور بجلی کی قیمت آپ خود جانتے ہیں۔ اگر ہم نے کالا باغ ڈیم بنا لیا ہوتا تو نہ لوڈ شیڈنگ ہوتی نہ مہنگی بجلی۔ منگلا اور تربیلا ہماری کامیاب پلاننگ اور انجینئرنگ کا شاہکار ہے، مگر کالا باغ ڈیم نہ بنانا ہمارے اختلافات کی تصویر ۔

گیس، کوئلہ، پن بجلی پر بات ہو گئی مگر تیل کا نام کہیں نہیں آیا۔ تیل کی داستان جتنی کامیابی کی داستان ہے اتنی ہی ناکامی کی بھی۔ پہلا کامیاب کنواں ہم نے 1915 میں پوٹھوہار میں مکمل کر لیا تھا۔ اب جو ایک سو دس سال گذرے اس میں ہم نے اٹھارہ ہزار کے قریب ایکسپلوریٹری ویلز (Exploratory wells) کھودے جس میں ہر تین میں ایک کنواں کامیاب ہوتا۔کسی میں تیل کسی میں گیس اور کہیں دونوں ایک ہی کنویں سے۔

گیس کا ایک بڑا ذخیرہ ہمیں ابتدا میں مل گیا تھا پھر چھوٹے چھوٹے ملتے رہے اور سوئی کی پائپ لائنوں سے جوڑے جاتے رہے۔ مگر تیل کا ایک بھی بڑا ذخیرہ ہمیں سو سال میں نہیں ملا۔ تیل کی کل پیداوار پینسٹھ ہزار بیرل روزانہ ہے جبکہ ہماری ضرورت چار سے پانچ لاکھ بیرل ہے تو گویا ہم صرف 15 فیصد تیل اپنے کنوؤں سے اور 85 فیصد مڈل ایسٹ سے درامد کرتے ہیں جو معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے۔ ہمیں تیل کا بڑا ذخیرہ سوسال میں بھی کیوں نہ ملا؟

اسکی وجہ تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ نہ ٹیکنیکل صلاحیتوں کی کمی ہے نہ اس معاملے میں کرپشن کا دخل ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہم سرمائے کی کمی کہہ سکتے ہیں کیونکہ پاکستان کا 85 فیصد رقبہ ایسا ہے جہاں تیل مل سکتا ہے لیکن اتنا سرمایہ نہیں کہ ہم بیک وقت دس بیس کنوؤں (ایک ہی منصوبے یا خطے میں) کھود سکیں، اس کے علاوہ ایک ٹیکینکل وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ زیر زمین چٹانوں میں گلے سٹرے جانداروں یا نباتات سے تیل تو بنا لیکن کوئی ایسی چٹان یا اسٹرکچر نہیں تھا جہاں تیل ڈپازٹ ہوتا۔

وہ سطح زمین پر پہنچ کر ضائع ہوگیا۔ جو تھوڑا بہت بچا وہ چھوٹی چھوٹی فیلڈ کی شکل میں مل جاتا ہے۔تیل کی غیر ملکی کمپنیاں بھی ہمارے حالات دیکھتے ہوئے پھونک پھونک کر قدم رکھتی ہیں۔ زیادہ سرمایہ نہیں لگاتیں اور اکثر واپس چلی جاتی ہیں اور ہم کسی بڑے دریافت کے منتظر رہتے ہیں۔

جواہرات سے انسان کی دلچسپی بہت قدیم ہے۔ ہندوستان کو جواہرات اور مصالحہ جات سے پہچانا جاتا تھا۔ کم از کم کوہِ نور ہیرے سے تو ہم سب واقف ہیں۔ پاکستان کے حصے میں آنیوالے علاقوں میں جواہرات کی قدیم مائننگ نہیں ہے البتہ وقتاً فوقتاً جو ذخائر دریافت ہوتے رہے ان میں سوات کا زمرد، ہنزہ کا یاقوت اور مردان کا پکھراج سرِ فہرست ہے۔ 70 کی دہائی میں ہمیں ان ذخائر کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور حکومت نے جیم اسٹون کارپوریشن قائم کی۔ جیالوجیکل سروے آف پاکستان پہلے ہی سے ان پہاڑوں کے حجم کو پیمائش کر رہی تھی تو ایک اندازہ یہ تھا کہ وہ معدنیات جو جیمز اور قیمتی پتھروں میں شمار ہوتے ہیں انکی کل مالیت ساڑھے چار سو بلین ڈالر ہے۔

موازنے کے لیے عرض کرتا چلوں کہ آئی ایم آف سے ایک بلین ڈالر کی ادھار کے لیے ہم ہر سال ملتمس ہوتے ہیں ۔ ریکوڈک تانبے سے ہم نے ابھی تک کمایا تو کچھ نہیں مگر 6بلین ڈالر تا وان عائد ہوا اور اسکی اپنی مالیت 37برس میں 53بلین ڈالر ہوگی۔ حساب تو لگائیے کہ ساڑھے چار سو بلین ڈالر کے جواہرات اگر ہم سلیقے سے نکالتے رہیں اور دیانت داری سے فروخت کریں تو معیشت کتنی سدھر سکتی ہے۔

ایک دوسرا پہلو، جواہرات کی مارکیٹنگ میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے لیکن ایکسپورٹ میں 79th۔ ہم صرف 8 ملین ڈالر کے جواہرات ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ کراچی اور پشاور جواہرات کی مارکیٹ ہے جہاں افغانستان کے قیمتی پتھر بھی فروخت کیلئے آتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے حکومت جاگی ہے اور جواہرات کی پانچ ہزار پاکستان کمپنیوں سے کہا ہے ۔کہ وہ بین الاقوامی معیار کی سرٹیفیکیشن کا اہتمام کریں۔ جواہرات کی تراش بہتر بنانے اور مائننگ میں جدید آلات استعمال کریں تاکہ بڑے سائز کے زمرد، یاقوت یا پکھرا ج نکلے جس کی قیمت زیادہ لگائی جاتی ہے۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قیمتی پتھروں کے وسائل ترقی کے ضامن ہونگے؟ پہلے اپنی حکومت پر نظر ڈالیں پھر ان پانچ ہزار کمپنیوں کے مالکان جو زیادہ تر قبائلی سردار یا اپنے علاقے کے ایم پی اے ہیں۔ پھر مروجہ ٹیکس وصول کرنے کا نظام اور اس کے اہلکار۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پانچ سال میں ہم اپنی ایکسپورٹ ایک بلین ڈالر تک لے جائیں گے۔ شاید کہ ایسا ہو جائے۔ آپ خود سوچیے 8ملین سے ایک بلین! چلئے نصف بلین کریں یہ بھی ترقی کے لئے کارآمد ہیں۔

اب آخری معدن کا ذکر ضروری ہے جو ایک دھات نہیں بلکہ سترہ دھاتوں کا ایک گروپ ہے جسے ریر ارتھ منرل کہتے ہیں (REE)۔ یہ دھاتیں ایسی برقی مقناطیسی خصوصیات رکھتی ہیں جو موبائلوں کیلئے، کمپیوٹر یا انکی چپس کیلئے الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر آلات کے لیے ضروری ہے۔ غرض انکا ہر طرف غلغلہ ہے۔ انہیں اسٹریٹجک منرل کا درجہ دیا جا رہا ہے، جس کے پاس ہوں وہ کامران اور جس کے پاس نہیں وہ محتاج۔

اب تک دس ممالک میں یہ دریافت ہوئے ہیں۔ چین پہلے نمبر پر 40 فیصد،دوسرے نمبر پر روس 8 فیصد، ذخائر کا مالک ہے جبکہ امریکہ چوتھے نمبر پر اور کینیڈا دسویں نمبر پر ہے ۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس کا شمار اگلے بیس ممالک میں ہوتا ہے جہاں یہ دھاتیں تھوڑی مقدار میں ہیں۔

دوسری بات یہ کہ ان دھاتوں کو خالص کرنے کی ٹیکنالوجی اس وقت صرف چین کے پاس ہے تو امریکہ بھی مجبور ہے کہ مائننگ کے بعدخام مواد چین بھیجے جہاں خالص دھات کا حصول ممکن بنایا جاتا ہے۔ تو اب امریکا کی نظریں ان ملکوں پر ہیں جہاں سے ان منرلز کا سودا کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ پاکستان کو پانچ سو ملین ڈالر امریکا تلاش اور مائننگ کے کام میں مدد کے لیے دے گا۔ اور ظاہر ہے وہی ان دھاتوں کا خریدار بھی ہوگا۔

اب ایک چہ میگوئی ہے کہ 2025 میں پاکستان نے کاپر کے ساتھ دو ریر ارتھ منرل بھی امریکا کو اس پروجیکٹ کے تحت ایکسپورٹ کئے ہیں۔ آخر میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی معدنی ذخائر ہماری معاشی ترقی میں معاون تو ثابت ہوئے مگر ان سے ایسی کوئی پائیدار ترقی نہ ہو سکی کہ انہیں ترقی کی ضمانت کہا جا سکے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید