• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جدید دور میں کوئی دن ایسا نہیں جب دنیا اس سے مستفید نہ ہو رہی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ کرۂ ارض میں ’’لوہا‘‘ کی کثیر مقدار موجود ہوتی ہے۔ کوئلہ (کوک) اور چونا پتھر شامل کر کے پگھلا کر سانچے میں ڈھا کر فولاد جیسی طاقتور اشیاء تیار کیا جاتا ہے۔ لوہے کو دوسری دھات مثلاً سلیکون، کرومیم اور نکل کے ساتھ ملاکر بھرت (Alloys) میں تبدیل کر کے ایک خاص قسم کی فولاد بنائی جاتی ہے۔

آج دنیا میں 2000اقسام ایسی ہیں جو مختلف دھات کا آمیزہ ہوتی ہیں لیکن ان تمام میں ’’لوہا‘‘ کو فوقیت حاصل ہے۔ اور اس سے اوزار سے لے کر ذرائع نقل و حمل کی تمام اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ لہٰذا اس میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے کہ جدید معاشرے میں کوئی دن ایسا نہیں ہو گا ،جس میں فولاد یا لوہا سے بنی ہوئی کسی شے کا استعمال نہ کیا جاتا ہو۔

’’لوہا‘‘ زمین پر دوسری دھاتوں کی طرح خالص حالت میں نہیں ملتا بلکہ بہت ساری آمیزش کے ساتھ ایک مال (آئرن آکسائیڈ) کی صورت میں چٹانی جسم میں مضبوطی سے پیوست حالت میں دستیاب ہوتا ہے۔ ایسا چٹانی جسم جس میں ایک ایسی خام اشیاء موجود ہو جو اس کے جسم کا اٹوٹ انگ ہو اور جس سے مختلف قسم کی دھات کا استخراج عمل میں آئے ،اسے ’’کچدھات‘‘ ( ore) کہاجاتاہے۔

جہاں تک کچدھات کا تعلق ہے تو یہ بات مسلم ہے کہ کائنات میں یہ خالص حالت میں نہیں پائی جاتی بلکہ اس میں کئی عناصر (خصوصاً آکسیجن) ہوتے ہیں ۔ مثلاً میگمناٹائیٹ لیکن اس کی سب سے اہم کچدھات جو دو سالمات لوہا اور تین سالمات آکسیجن پر مشتمل ہوتی ہے جسے ’’ہیماٹائیٹ‘‘ (Hematite) کہتے ہیں، جس میں کم و بیش 70فی صد لوہا موجود ہوتا ہے، اسی وجہ سے خالص لوہے کے حصول کے لئے اسے معیاری تسلیم کیا گیا ہے۔

یہ سرخ رنگ کا ہوتا ہے جو یونانی لفظ ’’ہیمائیکوس‘‘ ( Hematicos) سے ماخوذ ہے ،جس کا مطلب ہے سرخ رنگ (Sanguine) والا۔ یہی وجہ ہے کہ چٹان ’’مٹی اورپانی‘‘ میں شامل ہوتا ہے تو ان کا رنگ بھی سرخ کر دیتا ہے۔ ایرا ن میں موجود جزیرہ ’’حرموس‘‘ کے اطراف میں چٹانوں کے اوپر سے مٹی ملے پانی کے ساتھ جو ریلا سمندر میں شامل ہوتا تھا وہ سمندر کے پانی کو سرخ کرتا جا رہا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے سمندر میں میلوں میل کا علاقہ سرخ ہو کر سیاحوں کے لئے دلچسپی کا سامان مہیا کر رہا تھا۔

جزیرہ حرموس کے اطراف جو چٹانی ذخائر مٹی کے ساتھ موجود ہیں۔ وہ سرخ رنگ کے ہیں، اس میں مٹی کے ساتھ لوہا کچدھات ’’ہیماٹائیٹ‘‘ کی کثیر مقدار موجود ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوہا کچدھات خصوصاً ہیماٹائیٹ کی تحلیق کئی مراحل میں ہوتی ہے لیکن اس کا نقطہ آغاز ان مقامات پر ہوا جہاں قدیم زمانے میں آتش فشانی کا عمل ہوا تھا۔

جب گرم میگما پانی ( جسے آب تپتی محلول بھی کہا جاتا ہے) جو کیمیائی طور پر مختلف کچدھات اور معدنی عناصر کے ساتھ بہت زیادہ فعال ہوتا ہے۔ جب یہ گرم میگمائی پانی آتشی عمل کے ذریعہ سطح زمین پر امنڈ آتا ہے تو ایک بہتے ہوئے دریا کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ زمانہ قدیم میں ’’حرموس‘‘ جزیرہ کے اطراف بھی آتشی عمل ہوا۔ دور حاضر میں اس کا عملی مظاہرہ ’’ ہوائی جزیرہ‘‘میں ہوا۔

ماہرین آتش فشنیات(Volcanologists) کے تجزیے کے مطابق اس کا ماخذ سیاہ چٹان (بسالٹ) کو قرار دیا ،جس میں لوہا بردار اشیاء مثلاً پری ڈونائٹ (Predolite) اور ڈیونائیٹ (Dunite) معادن کی پگھلی ہوئی مشکل ہوتی ہے جو زمین کے قلب ( core ) سے آتا ہے۔

یاد رہے کہ زمین کے قلب میں لوہا، نکل اور دوسری بھاری دھاتیں مسلسل پگھلتی رہتی ہیں۔ عام طور سےزمین کا بیرونی قلب مائع حالت اور اندرونی قلب ٹھوس حالت میں آگ کے گولے کی طرح ہوتاہے۔ ’’ارضی طبیعیات‘‘ کے حوالے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قلب کے مرکز کا درجۂ حرارت تقریباً آٹھ ہزار ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو سورج کے درجۂ حرارت سے کچھ کم ہے۔

یہاں پر مقناطیسی لہریں پیدا ہوتی ہیں جو ’’لوہا‘‘ بردار مائع دھات کو سطح زمین کے اندر اور باہر قلم پذیر ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جن کا علم 1000سال پہلے ہوا کہ زمین ایک بہت بڑا مقناطیس ہے، کیوں کہ زمین کے قلب سے جب میگمائی پانی لاوا کی شکل میں سطح زمین پر منجمد ہوا، یہ تمام پتھر اس برقی لہروں سے وجود میں آئےجو زمین کے مائع قلب سے اٹھتی ہیں۔

جب مختلف دو حرارت اور برقی خواص والی کچدھات ایک دوسرےکے قریب آتی ہیں تو یہ برقی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین کے اندر ایک بڑا قدرتی جنریٹر ہے جو میکاتی توانائی کو برقی میں مسلسل تبدیل کرتا رہتا ہے اور حتمی طور یہ زمین کی گردش اور مائع قلب کی حرکات کے سبب پیدا ہوتی ہے جو قدیم چٹانی اجزاء اور لوہا بردار میگمائی محلول کے درمیان کسی ممکنہ تعامل کو ظاہر کرتی ہے۔ کچدھاتی اجزاء کی مرکوزیت تمام کمزور زون کے بالائی سمت میں شاخ داری ہوتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کچدھات کا اخراج بخارات سے ہوا جو زمین کے اندرونی حصوں سے نکل کر قشر میں آگئے۔

بالکل اسی طرح جیسے کہ جڑوں سے رس درختوں میں داخل ہوتا جاتا ہے، جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مختلف میگمائی محلول چٹانوں کے بے شمار سوراخوں اور دوسری دراڑوں کے اندر داخل ہوکر چٹانی اجزاء کو کچدھاتی ذخائر میں تبدیل کر دیا گویا اس سے قلب جسم بدل کاری Metasamatic Replacement)) کی پیش بینی ہوئی۔

بعض ماہرین اسے کچدھاتی محلول (Diffusion sending water) قرار دیا، جس نے اپنے راستے کی قدیم چٹانوں میں بکھرے ہو دھاتی ذرّوں کو حل کر لیا ،پھر درجۂ حرارت میں کمی کے ساتھ لوہا اور دیگر دھاتوں کے اخراج خام اشیا میں تبدیل ہوگئے۔ یہ تبادلہ یا بدل کاری سالمات بذریعہ سالمات ہوتا ہے، اس دوران چٹانوں کے جسم میں کوئی رد و بدل وقوع پذیر نہیں ہوتا۔

تبادلے کے عمل سے کوئی بھی چٹانی اجزاء کچدھات سے بشمول ’’ہیماٹائیٹ‘‘ میں تبدیل ہو سکتا ہے لیکن اس سلسلے میں کاربونیٹ چٹان کو بڑی فوقیت حاصل ہے، کیو ںکہ چونا پتھر کی بدل کاری کچدھات کے ذریعہ بہت ہی فعال ہوتی ہے جو عام طور پر لوہے کی کچدھات ’’ہیماٹائیٹ‘‘ کی تخلیق کا ذریعہ بنتے ہیں۔ چنانچہ علاقوں کا ارضیاتی سروے مکمل کرنے کے بعد پیمانے ’ہیماٹائیٹ‘ بردار قدیم چٹانوں کے نمونے کو بلاک کی شکل میں ایسی بھٹی تک پہنچا یاجاتا ہے، جس میں لوہے کی کچدھات کو گرم ہوا کی لہروں کی قوت کے ساتھ داخل کر کے پگھلایا جاتا ہے۔

اس بھٹی کو کلدار بھٹی (Blast Firance) کہا جاتا ہے، جس میں سب سے پہلے کچدھاتی ذخیرہ سے پانی اور بخارات بننے والے مواد (Volatile material )کو علیحدہ کرتے ہیں، تاکہ کثافتوں کو علیحدہ کیا جا سکے ۔ اس کے لئے سب سے پہلے ’ہیماٹائیٹ‘ کچدھات کو کنکر کی شکل میں تبدیل کر کے سفوف بنا یا جاتا ہے جسے کلدار بھٹی کی گرم گیسوں کی موجودگی میں گرم کیا جاتا ہے ۔ اس طرح کچدھات میں کثافتیں علیحدہ ہو جاتی ہیں، پھر اس کچدھات کو تخفیف (Reduction) کرنے کے لئے کوئلےاور چونا پتھرکے ساتھ ملا کر ایک آمیزہ تیار کر کیا جاتا ہے۔

اس آمیزے کو گرم کرنے کے دوران حرارت کی بہت بڑی مقدار خارج ہوتی ہے اور بھٹی کے نچلے حصے کا درجہ حرارت تقریباً 1500ڈگری سی تک پہنچ جاتا ہے۔ بھٹی کے اوپر والے حصے میں گرم ہوا کوک کی تکسید کرکے اسے کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل کر دیتی ہے۔

یہ گیس اوپر جاتی ہے جو کوئلہ (کوک) کی مزید مقدار سے تعامل کر کے کاربن مونو آکسائیڈ میں تبدیل ہو جاتی ہے جو لوہے کی دھات ’ہیماٹائیٹ‘ کی خاص مقدار کو تخفیف کر دیتی ہے، جس سے آزاد لوہے کی دھات کا حصول عمل میں آتا ہے۔ ’ہیماٹائیٹ‘ کی باقی ماندہ کچدھات کوک کے ساتھ مل کرآزاد لوہے کی دھات میں مزید تخفیف ہو جاتی ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید