• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے ہی خیبر پختونخوا کی سیاست میں بہت کچھ بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ بظاہر تحریک انصاف اسلام آباد کی طرف مارچ کی تیاری کر رہی ہے اور سہیل آفریدی مسلسل اعلان بھی کر رہے ہیں۔ پس پردہ سیاسی ہلچل نےمگر ایک زیادہ اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا واقعی 4 اکتوبر تک پہنچنے کی نوبت بھی آئیگی یا اس سے پہلے ہی حالات کوئی دوسرا رخ اختیار کر لیں گے۔حکومت کی طرف سے گورنر راج اور ایمرجنسی سمیت مختلف آئینی راستوں کی بات ہو رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی حالات بگڑنے کی صورت میں گورنر راج کے امکان کا ذکر کر چکے ہیں۔ وفاقی حکومت کی طرف سے بھی مختلف آپشنز پر بات ہو رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی ایسے کسی اقدام کی مزاحمت کا اعلان کر رہی ہے یعنی میدان صرف اسلام آباد میں نہیں بن رہا۔ اصل لڑائی شاید پشاور میں پہلے شروع ہو جائے۔سہیل آفریدی اس وقت ایک عجیب دوراہے پر ہیں۔ ایک طرف وہ عمران خان کے حکم پر 4 اکتوبر کے مارچ کا سب سے نمایاں چہرہ بنے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف انکی وزارت اعلیٰ کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ وفاقی حکومت میں گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت مختلف راستے زیر غور ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے اندر بھی اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشاورت جاری ہے۔یہاں سوال یہ ہے کہ سہیل آفریدی اصل میں جنگ لڑ کس کیلئے رہے ہیں۔ لانگ مارچ کیلئے؟ عمران خان کی رہائی کیلئے؟ یا اپنی وزارت اعلیٰ بچانےکیلئے؟ شاید تینوں سوال اب ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔اسی لیے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے سہیل آفریدی کی ملاقات بھی اہم ہو جاتی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی صورتحال پر بات چیت کی اطلاعات ہیں اور بعض اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کے امکان اور گنڈاپور کے دوبارہ وزیراعلیٰ بننے جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ گنڈاپور یہ کہہ چکے ہیں کہ عمران خان حکم دیں تو وہ دوبارہ وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے 4 اکتوبر کے مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کو بھی پی ٹی آئی کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ سہیل آفریدی گنڈاپور کے پاس کیوں گئے؟کیا وہ اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کیلئے گئے؟ کیا وہ پارٹی کے اندر اختلافات ختم کرنےکیلئے گئے؟ یا انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ حالات اگر اسی رفتار سے آگے بڑھے تو 4 اکتوبر سے پہلے ہی انہیں اپنی حکومت بچانےکیلئے ہر دستیاب سیاسی دروازہ کھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے چند دن دیں گے۔

سہیل آفریدی کیلئے وقت بہت کم ہے۔ ایک طرف 4 اکتوبر کا مارچ ہے جسے وہ اپنی سیاسی طاقت کا اظہار قرار دے رہے ہیں، دوسری طرف وفاقی دباؤ ہے اور تیسری طرف سیکورٹی صورتحال ہے جسے حکومت گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات کیلئے جواز کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔ خود پی ٹی آئی کے اندر سے بھی یہ آوازیں آ رہی ہیں کہ مارچ مزید مؤخر کیا جائے کیونکہ موجودہ سیکورٹی صورتحال وفاق کو ایمرجنسی کے نفاذ کا موقع دے سکتی ہے۔یہ شاید سہیل آفریدی کیلئے سب سے مشکل لمحہ ہے۔

کیونکہ اگر مارچ نہیں ہوتا تو انکی سیاسی پوزیشن پر سوال اٹھیں گے۔ اگر مارچ ہوتا ہے اور حکومت سخت کارروائی کرتی ہے تو بھی انکی حکومت دباؤ میں آ سکتی ہے اور اگر مارچ سے پہلے ہی خیبر پختونخوا میں کوئی آئینی یا سیاسی تبدیلی آ گئی تو 4 اکتوبر کا پورا منصوبہ اپنی موجودہ شکل میں بے معنی ہو سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سہیل آفریدی کے بیانات میں مزاحمت بھی ہے اور مذاکرات کا اشارہ بھی۔یہ تضاد نہیں بلکہ شاید سیاسی مجبوری ہے۔سہیل آفریدی اسی مقام پر دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ صرف دھمکیوں سے حکومت نہیں بچتی۔ صرف کارکنوں کے سڑکوں پر نکل آنے سے کرسی محفوظ نہیں ہوتی۔ اور صرف مارچ کرنے سے پشاور میں حکومت کیخلاف پیدا ہونیوالے سوال ختم نہیں ہوتے۔یہ واقعی انکی آخری جنگ بن سکتی ہے۔تاہم آخری جنگ کا مطلب سیاسی موت نہیں۔ سیاست میں ایک راستہ بند ہو تو دوسرا راستہ نکل سکتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سہیل آفریدی کے پاس وقت کم اور خطرات زیادہ ہیں۔سب سے اہم یہ ہے کہ ممکن ہے 4 اکتوبرسے پہلے ہی کوئی ایسا فیصلہ ہو جائے جو پوری سیاسی بساط پلٹ دے، ایمرجنسی کا آپشن، گورنر راج کا آپشن، وزیراعلیٰ کیخلاف عدم اعتماد،اعتماد کا ووٹ، اسمبلی تحلیل کرنے کا راستہ یا پھر پارٹی کے اندر کوئی نیا سیاسی فارمولہ۔ان میں سے کون سا راستہ اختیار ہوتا ہے یہ الگ سوال ہے۔ لیکن یہ ضرور واضح ہے کہ خیبر پختونخوا میں حالات اب معمول کی سیاست سے بہت آگے جا چکے ہیں۔اور شاید اسی لیے سہیل آفریدی آج صرف اسلام آباد کی طرف نہیں دیکھ رہے۔ وہ پشاور ، اپنی جماعت اور اپنی وزارت اعلیٰ بھی دیکھ رہے ہیں۔شاید انہیں یہ احساس ہو چکا ہے کہ 4 اکتوبر تک پہنچنا ہی اصل کامیابی نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ 4 اکتوبر سے پہلے اپنی حکومت کیسے بچائی جائے اور اسکے بعد سیاسی طور پر کیسے کھڑا رہا جائے۔اگر مارچ نہ ہو سکا تو سوال ہوگا کہ آخری لمحے میں کیا بدل گیا، اگر مارچ ہوا تو سوال ہوگا کہ اسکا اگلا قدم کیا ہے اور اگر مارچ سے پہلے ہی خیبر پختونخوا میں کوئی بڑا آئینی یا سیاسی فیصلہ ہو گیا تو سہیل آفریدی کی پوری حکمت عملی کو نئے سرے سے لکھنا پڑے گا۔

اس لیے 4 اکتوبر کا انتظار شاید ضروری نہیں۔ اصل فیصلہ اس سے پہلے بھی آ سکتا ہے۔ ممکن ہے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف بڑھنے والے قافلے سے زیادہ اہم خبر پشاور سے آئےکیونکہ اس وقت سہیل آفریدی صرف عمران خان کی رہائی کی جنگ نہیں لڑ رہے۔ وہ اپنی حکومت کی بقا کی جنگ بھی لڑ رہے ہیںاور یہ جنگ شاید انکی سب سے بڑی سیاسی آزمائش ہو۔

تازہ ترین