• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنی جنم بھومی سے محبت ہر انسان کی فطرت میں شامل ہوتی ہے مگر کچھ لوگ اس محبت کو اپنی شناخت اور نام کا حصہ بنا لیتے ہیں۔جمشید مسرور کا اپنی ماں دھرتی سے جڑا خاندانی حوالہ اسی محبت اور وابستگی کی ایک خوب صورت مثال ہے جو قابلِ تحسین ہے ۔ناروے میں مقیم جمشید مسرور یورپ کی ایک قدآور ادبی شخصیت ہیں۔انہوں نے برسوں ناروے میں عالمی مشاعروں اور ادبی تقریبات کا اہتمام کیا اور اپنی شاعری کے ساتھ ساتھ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کو بھی اپنا مشن بنایا۔اجنبی فضاؤں میں اپنی زبان، تہذیب اور ادبی روایت کو زندہ رکھنے اور اسے پھلنے پھولنےکیلئے ان کی مسلسل کاوشیں پوری دنیا میں بسنے والے اردو پنجابی کے ادیبوں میں قابلِ قدر سمجھی جاتی ہیں۔

لاہور میں ان کے والد ڈاکٹر بشیر احمد مسرور کپور تھلوی کی ’کلیاتِ مسرور ‘کی تقریبِ رونمائی میں ایک خوب صورت ادبی خاندانی روایت سے بھی آگاہی ہوئی، معلوم ہوا کہ ان کے دادا مولوی احمد بخش رنجور کپور تھلوی خود بھی صاحبِ دیوان شاعر تھے اور ان کا کلام ان کے فرزند مسرور کپور تھلوی نے شائع کروایا تھا۔اب جمشید مسرور نے اپنے والد کا کلام’’کلیاتِ مسرور ‘‘کی صورت میں شائع کرکے اسی ادبی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔یوں یہ صرف ایک شعری مجموعے کی اشاعت نہیں بلکہ ایک خاندان کی اپنی مٹی،اپنی زبان اور اپنی ادبی میراث سے وفاداری کی داستان بھی ہے، ایک ایسی روایت جو نسل در نسل منتقل ہو کر آج ہمارے سامنے ایک قیمتی ادبی ورثے کی صورت میں موجود ہے۔عہد ساز ادیب عطاالحق قاسمی کی صدارت میں اس منفرد تقریبِ رونمائی میں اُن کے تمام بچے ، نواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاںشریک دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دیارِ غیر میں رہنے کے باوجود وہ ادب پروری کی خاندانی روایت کو آگے بڑھائیں گے۔

مسرور کپور تھلوی اپنے دور کے معروف شاعر تھے اور اُن کے حفیظ جالندھری، احسان دانش اور پروفیسر تاج محمد جیسے اہلِ قلم سے اچھے دوستانہ مراسم تھے۔تقسیمِ ہند کے فسادات کے باعث انہیں لاہور چھوڑ کر گجرات منتقل ہونا پڑا۔دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ اگرچہ زیادہ نہ تھا مگر لاہور کی ادبی و تہذیبی فضا سے جدائی نے ان کے دل میں ایک ایسی ہجرت کو جنم دیا جو محض مکانی نہیں، باطنی بھی تھی۔اس ہجرت، یاد اور تنہائی کی کسک ان کے کلام میں جگہ جگہ محسوس ہوتی ہے۔مسرور کپور تھلوی کی شاعری کلاسیکی روایت، رومانویت اور جمالیاتی حسن کا حسین امتزاج ہے۔غزل کی نزاکت، رومانوی نازک آفرینی اور ذاتی تجربات و احساسات کی آنچ ان کے اشعار کو ایک خاص تاثیر عطا کرتی ہے۔ان کے ہاں شباب و شراب ، شیخ و زاہد اور میکدے کے روایتی استعارے بہت زیادہ برتے گئے ہیں ۔میری نظر میں یہ محض کلاسیکی روایت کی پیروی نہیں بلکہ اسی روایت کے اندر سے اٹھنے والی ایک احتجاجی آواز بھی ہے۔مولوی کے گھرانے میں پرورش پانے والے مسرور کپور تھلوی نے سخت گیری، ظاہر پرستی اور خوف کی فضا کو قریب سے دیکھا ہوگا، شاید اسی لیے ان کے ہاں شیخ اور زاہد کبھی محض کردار نہیں رہتے بلکہ ریاکاری اور اجارہ داری کی علامت بن جاتے ہیں۔

یہاں ان کی شاعری صوفیانہ روایت سے بھی جڑتی دکھائی دیتی ہے جہاں ظاہر کی بجائے باطن کی پاکیزگی اور انسان کی داخلی آزادی کو اہمیت حاصل ہے۔ چنانچہ مسرور کپور تھلوی کا احتجاج مذہب کے خلاف نہیں بلکہ مذہب کے نام پر تلقین، منافقت، فتوے اور اختیار کی اجارہ داری قائم کرنے والوں کے خلاف ہے۔اسی لیے انکی شاعری میں حسن و عشق کے ساتھ ایک حساس،آزاد اور سچائی پسند انسان کی آواز بھی سنائی دیتی ہے،ایسی آواز جو اپنے عہد کے دکھ، تنہائی اور منافقت کو محسوس بھی کرتی ہے اور اسے شعری جمال میں ڈھال کر احتجاج بھی کرتی ہے۔وہ ایسے زاہدوں پر سوال اٹھاتے ہیں جو انسان کو ہر وقت دوزخ اور خدا کے عذاب سے بہت ڈراتے ہیں مگر خدا کی رحمت، شفقت اور محبت کا ذکر کم کرتے ہیں،جو جنت اور حوروں کے خواب دکھاتے ہیں مگر اس دنیا کو انسانوں کیلئےبہتر، پُرامن اور قابلِ زیست بنانے کی بات نہیں کرتے جو عبادات کی تلقین تو کرتے ہیں مگر اچھے عمل، محبت، انسان دوستی اور کردار کی تعمیر کو بنیادی حیثیت نہیں دیتے۔اس ضمن میں اُن کا کلام ملاحظہ ہو۔

عام چیزوں سے مجھ کو کام نہیں

پی کے دیکھو یہ چیز عام نہیں

حُسن والے غلام ہیں میرے

حُسن والوں کا میں غلام نہیں

خونِ دل سے کشید کرتے ہیں

ہم جو پیتے ہیں مے حرام نہیں

خوب آتا ہے ان کو ٹرخانا

صبح ہاں ہے اگر تو شام نہیں

شیخ خوش ہو کہ اب مرے لب پر

اللہ اللہ ہے رام رام نہیں

حُور کوئی جو قتل کر ڈالے

شیخ کی موت پھر حرام نہیں

ایسی محفل بھی کوئی محفل ہے

میکشی کا جہاں نظام نہیں

کیا کرے گا خُدا سے وہ باتیں

ان بتوں سے جو ہم کلام نہیں

مجھ سے لغزش رہ محبت میں

میرا پختہ جنوں ہے خام نہیں

تازہ ترین