وزیر اعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقریر کے وقت میں وہیں موجود تھا۔ تقریر سنتے ہوئے میری نظر صرف الفاظ پر نہیں، وزیر اعظم کے تیور اور اندازِ بیان پر بھی تھی۔ محسوس ہو رہا تھا کہ اس مرتبہ پاکستان اپنے روایتی مؤقف کو ایک قدرے مختلف انداز میں دنیا کے سامنے رکھ رہا ہےپاکستان روزِ اول سےبھارت کے ساتھ اپنے باہمی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہش مند رہا ہےلیکن گزشتہ سال کے واقعات نے ایک تلخ حقیقت واضح کر دی ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ پاکستان اگر مسلسل بات چیت کا راستہ اختیار کرتا رہے اور دوسری طرف سے اس کا جواب نہ آئے تو پھر سفارتکاری کو زمینی حقائق کا بھی لحاظ کرنا پڑتا ہے۔وزیر اعظم نے اس مرتبہ بھارت کا ذکر کرتے ہوئے بات صرف کشمیر تک محدود نہیں رکھی۔ انہوں نے بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا بھی ذکر کیا۔ ماضی میں پاکستانی وزرائے اعظم کی تقاریر میں بھارت کا حوالہ عموماً کشمیر کے گرد گھومتا تھا، لیکن اس بار بھارت کی داخلی صورت حال کے مختلف پہلو بھی عالمی فورم پر زیرِ بحث آئے۔پاکستان اور بھارت دونوں کی خوش حالی اور خطے کا امن اسی میں ہے کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو تصادم کے بجائے مذاکرات سے حل کریں۔ لیکن اگر امن کی خواہش ایک طرف ہو اور دوسری طرف طاقت کے اظہار کو ترجیح دی جائے تو پھر سفارتی اور دفاعی سطح پر اپنی پوزیشن واضح کرنا بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ وزیر اعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب بھی اسی پالیسی کا تسلسل تھا۔تقریر میں امریکہ اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے توازن کا اظہار بھی اہم تھا۔ پاکستان دونوں بڑی طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے ۔ پاکستان کی اہمیت دونوں ممالک کیلئے اپنی جگہ موجود ہے اور اسلام آباد اسی حقیقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متوازن خارجہ پالیسی اختیار کر چکا ہے ۔
مسلم لیگی حلقوں نے شکایت کی کہ وزیر اعظم سے ملاقات کرنیوالوں میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جو بیک وقت مختلف سیاسی جماعتوں میں دکھائی دیتے ہیں، جبکہ کئی ایسے پاکستانی اور مسلم لیگی حلقے ملاقات سے محروم رہے جو عرصے سے اپنی جماعت اور قیادت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کیلئے وزیر اعظم سے ملاقات کا موقع بار بار نہیں آتا۔ آئندہ اس پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری چاہتا ہے اور بیرونِ ملک پاکستانی اس سلسلے میں سب سے قابلِ اعتماد سرمایہ کار ہو سکتے ہیں۔ اور ایسے لوگ موجود ہیں کہ جو حقیقت میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں ۔ نیو یارک میں احمد جان جیسے لوگ موجود ہیں جنہیں وزیر اعظم ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ وہ خود بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اور دوسرے سرمایہ کاروں کو بھی متوجہ کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پاکستان کی معاشی سفارتکاری کا حصہ بنانا چاہیے۔ایک عشائیے میں مسلم ممالک کے مختلف وفود کے اعزاز میں شرکت کا موقع ملا۔ وہاں ترک صدر طیب اردوان کے وفد میں شامل ایک ترک سفارت کارسے دوبارہ ملاقات ہوئی جو پاکستان میں سفیر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے بارے میں دلچسپ گفتگو کی، پاکستانی لوگ بہت اچھے ہیں، ملک میں معاشی ترقی کی بڑی صلاحیت ہے، لیکن سول سروس کا نظام معاملات کو اس قدر پیچیدہ بنا دیتا ہے کہ سرمایہ کار پاکستان آنے سے گریز کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نئے ادارے بنانے کے بجائے موجودہ سول سروس کو اوورہال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ترکی کی مثال پیش کی کہ صدر ترگت اوزال کے دور میں بیوروکریسی میں اصلاحات کی گئیں تو معاشی ماحول میں نمایاں بہتری آئی۔ پاکستان کو بھی اسی نوعیت کی بنیادی اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی۔امریکہ میں ایرانی صدراور بنگلہ دیشی وزیر اعظم نےامریکی تھنک ٹینکس سے وابستہ دانشوروں سے ملاقاتیں کیں، اپنا مؤقف واضح کیا۔امریکہ کو صرف وائٹ ہاؤس اور کیپٹل ہل سے سمجھنا کافی نہیں۔ امریکی تھنک ٹینکس، جامعات اور دانشور بھی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔پاکستانی بھی اس میدان میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ اسفند میر اور عزیر یونس جیسے دانشور واشنگٹن میں اپنا مقام بنا چکے ہیں۔ جوہر حسین جیسے قابل لوگ موجود ہیں ، جان ہاپکنز یونیورسٹی، واشنگٹن میں میرے لیکچر کے دوران سوات اور لاہور سے تعلق رکھنے والی دو پاکستانی طالبات بھی موجود تھیں، اپنی پاکستانی شناخت کے ساتھ۔ آئندہ وزیر اعظم کے دورۂ امریکہ میں اس علمی اور فکری امریکہ کو بھی باقاعدہ پروگرام کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ فیض رحمان ہمیشہ محبت کرتے ہیں اور میری امریکہ آمد پر تقریب ضرور رکھتے ہیں ، نیو یارک میں شاہ رخ اور راجہ ساجد نے بھی تقریب منعقد کی ۔ پاکستانی دنیا کے کسی بھی حصے میں رہیں، وطن سے محبت ان کے اندر موجود رہتی ہے ۔البتہ پاکستانی سفارتخانے کی کارکردگی کے بارے میں وہاں موجود پاکستانی مطمئن نہیں تھے۔ اسکے مقابل میرے سامنے امریکی سفارت کاری کی ایک مثال موجود تھی۔ امریکی سفیر نیٹلی بیکر میرے پورے دورۂ امریکہ کے دوران مسلسل میرے ساتھ رابطے میں رہیں ۔ بیجنگ میں بھی پاکستانیوں کی یہ ہی شکایت ہے کہ سفارتخانہ فعال نہیں ہے ۔لیکن اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن عاصم افتخار کی قیادت میں محنت کرتا دکھائی دیا۔ فرانس میں سفیر کی حیثیت سے ان کی کارکردگی سے ان کی صلاحیت پہلے ہی نمایاں تھی اور اب ان کا سیکریٹری خارجہ بننا درست انتخاب ہے ۔پاکستان کے پاس مؤقف بھی ہے، صلاحیت رکھنے والے لوگ بھی اور دنیا کے مختلف مراکز میں موجود ایک بڑی پاکستانی برادری بھی۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ سیاسی، سفارتی، علمی اور معاشی قوتوں کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت استعمال کیا جائے۔ یہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کو تقریروں سے آگے لیجا کر عملی نتائج تک پہنچانے کا راستہ ہے۔