امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل ایران جنگ سے قبل کی سطح پر بحال ہو گئی ہے اور حالیہ دنوں میں اس اہم آبی گزرگاہ سے لاکھوں بیرل تیل منتقل کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز میری لینڈ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اب تیل کی ترسیل ان سطحوں پر ہو رہی ہے جو جنگ سے قبل کی سطح کے برابر ہیں اور بعض اوقات اس سے بھی تجاوز کر رہی ہیں۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے وزیرِ پیٹرولیم نے استعفیٰ دے دیا ہے، ایک عہدیدار نے ایرانی وزیر سے کہا تھا کہ ہماری کوئی معیشت نہیں، ہمارے پاس تیل نہیں، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں ایران کے وزیرِ پیٹرولیم محسن پاک نژاد نے حال ہی میں استعفیٰ دے دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر عہدہ چھوڑا ہے، صدر مسعود پزشکیان نے ان کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ حمید بورد کو قائم مقام وزیرِ تیل مقرر کیا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بحالی دیکھی گئی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات اوسطاً 1 کروڑ 83 لاکھ بیرل یومیہ رہیں، جبکہ کئی دنوں میں تیل کی ترسیل جنگ سے قبل کی سطح سے بھی تجاوز کر گئی۔