لاہور ایک عجیب شہر ہے، یہ لوگوں کو اپنی محبت میں یوں جکڑ لیتا ہے کہ اس کے سحر سے ممکن آسان نہیں رہتا۔ آپ کہیں بھی چلے جائیں، کتنی ہی دور کیوں نہ جا بسیں، یہ شہر اپنی یادوں کی ڈور سے باندھے رکھتا ہے.بارہا ملک سے باہر جب لاہور کی یاد نے اداس کیا تب شدت سے احساس ہوا کہ بعض شہر محض رہنے کی جگہ نہیں ہوتے بلکہ ہماری ذات، یادوں اور شناخت کا حصہ بن جاتے ہیں۔لاہور بھی ایسا ہی شہر ہے،آپ اسے چھوڑ تو سکتے ہیں، مگر یہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑتا۔حافظ بختیار احمد نے بہت سے لوگوں کی لاہور سے محبت کو اکٹھا کر کے’شاہجہاں کا لاہور‘ لکھی، شاہجہاں کو بھی لاہور سے ایسی ہی محبت تھی جیسی اس شہر سے وابستہ ہم سب لوگوں کو ہے۔کتاب میں شاہجہاں کی لاہور سے وابستگی،اس عہد کی تہذیبی زندگی اور تاریخی یادگاروں کو اجاگر کیا گیا ہے۔حافظ بختیار احمد نہایت مودب، شائستہ اور مثبت سوچ رکھنے والا انسان ہے۔اخبارات میں شائع ہونے والے اس کے کالم اصلاحی فکر اور تعمیری تجاویز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ آبادی میں اضافے، ماحولیاتی مسائل، شجرکاری اور دیگر قومی معاملات پر اس کی تحریریں قابلِ غور آرا پیش کرتی ہیں،لاہور سے متعلق اُس کی کتاب کی تقریبِ رونمائی قائداعظم لائبریری کے خوب صورت ہال میں منعقد ہوئی،تقریب کی صدارت گورنر سندھ نہال ہاشمی صاحب نے کی جبکہ وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب مہمانِ خصوصی تھے۔کاشف منظور نے استقبالیہ کلمات ادا کیے، حسین مجروح اور صغرا صدف نے کتاب اور صاحبِ کتاب کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا، یہ ایک مختصر لیکن بہت جامع تقریب تھی۔
محقق اور صاحبِ بصیرت کاشف منظور نے قائداعظم لائبریری کو علمی و ادبی سرگرمیوں کا ایک فعال مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جب میں بیس سال پہلے پہلی مرتبہ فرانس گئی تو وہاں سترہویں صدی کی تاریخی عمارتیں، جامعات، عجائب گھر اور دیگر علمی و ثقافتی ادارے دیکھ کر سوچتی رہی کہ کاش ہمارے مغل بادشاہ شاہی عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں، علمی اداروں اور تحقیقی مراکز کے قیام پر بھی اتنی ہی توجہ دیتے تو شاید آج مسلم دنیا علم و تحقیق کے میدان میں کہیں بہتر مقام پر ہوتی۔ لاہور کی تاریخی یادگاروں، شالامار باغ اور مغلیہ دور کی تعمیر کردہ یادگاروں کو دیکھ کر ایک دوسرا خیال بھی ذہن میں آتا ہے کہ اگر یہ باغات، عمارتیں اور تاریخی ورثہ موجود نہ ہوتے تو شاید آج ان کی جگہ بھی رہائشی کالونیوں کا ایک بے ہنگم جنگل آباد ہوتا۔تاریخ ہمیں صرف ماضی کی عظمت پر فخر کرنا نہیں سکھاتی، بلکہ اس سے سبق لینے کا موقع بھی دیتی ہے۔تاریخی عمارتیں ہماری تہذیبی شناخت ہیں جبکہ علم و تحقیق کے ادارے قوموں کے مستقبل کی بنیاد بنتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ تعلیم، تحقیق اور فکری ترقی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔اسی تناظر میں گورنر سندھ نہال ہاشمی صاحب کی گفتگو خاص طور پر قابلِ ذکر تھی۔انہوں نے لاہوریوں کو اپنے شہر کی دیکھ بھال اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کی طرف متوجہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ کتاب پر گفتگو کی تیاری کے لیے وہ شاہجہاں کی یادگار دیکھنے گئے اور جب وہاں سے براہِ راست تقریب میں آئے تو اُن کے جوتے اُن یادگاروں کی زیارت کے دوران پڑنے والی گرد سے بھرے تھے ،جسے کچھ عرصہ ساتھ رکھنا ضروری سمجھا اور بعد میں چائے کے دوران خود جوتے صاف کئے۔تاہم کسی قومی شخصیت کا یہ طرزِ عمل اور دلچسپی قابلِ تحسین ہے کہ وہ محض گفتگو پر اکتفا کرنے کے بجائے متعلقہ تاریخی مقامات کا خود مشاہدہ کرے۔وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب نے بھی ثقافت، سیاست اور کتاب کے حوالے سے خوب صورت خیالات کا اظہار کیا۔ایسی تقریبات اس لیے بھی اہم ہیں کہ ان کے ذریعے تاریخ،ادب اور ثقافت کو عوامی گفتگو کا حصہ بنایا جاتا ہے اور نئی نسل کو اپنے ماضی سے واقف ہونے کا موقع ملتا ہے۔اسی شام گورنر سندھ کے اعزاز میں رانا مشہود صاحب کی طرف سے ایک شاندار عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔رانا مشہود صاحب کی یہ کاوشیں قابلِ ذکر ہیں کہ وہ پنجاب اور دیگر صوبوں کے درمیان رابطے اور مکالمے کے مواقع پیدا کرتے رہتے ہیں۔ مختلف صوبوں سے آنے والے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ اہلِ ادب، صحافت اور ثقافت کی نشستیں بین الصوبائی ہم آہنگی اور باہمی تفہیم کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتی ہیں۔پاکستان جیسے متنوع ثقافتوں اور زبانوں کے حامل ملک میں ایسے روابط کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔جب مختلف علاقوں کے لوگ ایک دوسرے کی بات سنتے اور ایک دوسرے کی تہذیب کو سمجھتے ہیں تو فاصلے کم ہوتے ہیں اور مشترکہ قومی شناخت مضبوط ہوتی ہے۔درمیان میں ایک اور ادبی محفل میں عامر ریاض کی کتاب پر گفتگو ہوئی، جس کا اہتمام راشد رحمان صاحب نے کیا تھا۔لاہور کی یہی خصوصیت ہے کہ یہاں ایک تقریب ختم ہوتی ہے تو دوسری محفل سج جاتی ہے۔بعض اوقات ایک ہی دن میں تین تین اہم علمی، ادبی اور ثقافتی تقریبات میں شرکت کرنا پڑتی ہے۔بظاہر یہ مصروفیت تھکا دینے والی محسوس ہوتی ہے، لیکن درحقیقت یہی سرگرمیاں شہر کی علمی زندگی کو متحرک رکھتی ہیں۔لاہور کی اصل خوب صورتی اس کے تاریخی ورثے، علمی روایت، ادبی محفلوں اور زندہ دل لوگوں میں ہے۔دعا ہے کہ اس شہر کی رونقیں ہمیشہ قائم رہیں،اس کا ورثہ محفوظ رہے اور لاہور اپنی تہذیبی عظمت کے ساتھ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے بھی ایک پُرکشش شہر بنے۔