اسلام آباد (زبیر قصوری) وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی جانب سے ریلوے املاک سے غیر قانونی قبضے ختم کرانے کی مہم کے دوران سرکاری رہائش گاہوں کی جعلی الاٹمنٹ کے معاملے میں 16 جونیئر ملازمین کو معطل کر دیا گیا، جبکہ ریلوے ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ اصل ذمہ دار سینئر افسر کو بچانے کے لیے چھوٹے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹرز کے 10 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر E-142/5-145/25/Confdl کے مطابق مغلپورہ ورکشاپس، لاہور ڈویژن اور ریلوے ہیڈکوارٹرز کے 16 ملازمین کو فوری طور پر معطل کیا گیا ہے۔ ریلوے ذرائع کے مطابق سرکاری رہائش گاہوں اور پراپرٹی کے معاملات سے متعلق لاہور کے ایک افسر نے مبینہ طور پر اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے ماتحت ملازمین کی معطلی کی منظوری حاصل کی، جبکہ ان کے اپنے کردار کی تحقیقات نہیں کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق متعدد سرکاری رہائش گاہوں پر عرصہ دراز سے مبینہ غیر قانونی قبضے برقرار ہیں، لیکن اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے بجائے 16 جونیئر ملازمین کو معطل کرکے معاملہ نمٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ریلوے ملازمین نے وفاقی وزیر ریلوے سے معاملے کی اعلیٰ سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔