وفاقی وزیر اُمور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام کا کہنا ہے کہ ذاتی مفادات کے بجائے ملکی اور صوبائی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے، کے پی میں صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ عوام کے جذبات اور احساسات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، موجودہ صورتِ حال میں عوام کی زندگی اور کاروبار مشکلات سے دوچار ہیں، امن و امان کی صورتِ حال کو متاثر کرنے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ عوام پی ٹی آئی حکومت سے تنگ آ چکے تھے، عوام 13 سالوں سے مصیبت میں پھنسے ہوئے تھے، صوبے میں لوگوں کی زندگیاں مفلوج ہو چُکی تھیں۔
وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ صوبے میں حکومتی رٹ بحال کرنا ضروری تھا، صوبہ دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا، صوبے کے عوام نے یوم نجات منایا، صوبے کے عوام امن اور خوشحالی چاہتے ہیں، صوبے کے عوام نے جھوٹے نعرے اور دعوے مسترد کر دیے۔
اُنہوں نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد کے پی کے عوام کا شکریہ ادا کرنا ہے، عوام نے مٹھایاں بانٹیں اور آتش بازی کی، عوام نے ثابت کیا کہ وہ پاکستان اور خیبر پختون خوا کے ساتھ ہیں، صوبے کے عوام امن چاہتے ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ عوام کا شکر گزار ہوں جنہوں نے امن کے حق میں اپنا مؤقف واضح کیا، امن و امان برقرار رکھنے پر قانون نافذ کرنے والےاداروں اور ایجنسیوں کا بھی شکر گزار ہوں، سیکیورٹی اداروں کی بہتر منصوبہ بندی کے باعث صورتِ حال پُرامن رہی، خدشات کے باوجود کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔