خبر گردش کر رہی ہے کہ نارنگ منڈی میں توہینِ مذہب کے الزام پر ایک مسیحی ڈاکٹر کا گھر جلا دیا گیا۔ اس واقعےکی تفصیلات اور ذمہ داروں کا تعین تحقیقات کے بعد ضرور ہونا چاہئے ، مگر کبھی کبھی خبر کی دہلیز پر ٹھہرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ آگ کی تپش کم ہے، بلکہ اس لیےبھی کہ یہ سمجھنا لازم ہےکہ اس کے شعلے کہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایک گھر جلتا ہے تو دیواروں کے ساتھ معاشرے کے بارے میں دنیا کے ذہن میں بننے والی تصویر بھی اس آگ کی روشنی میں دیکھی جاتی ہے۔
امریکہ میں قیام کے دوران مائیکل کگلمین نے واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں مجھے مدعو کیا تھا۔ گفتگو میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل بھی موجود تھے۔ ایک امریکی صحافی نے پوچھا: یہاں ایسے شخص کا وکیل بھی کھل کر وکالت کرتا ہے جس پر امریکہ دشمنی کے الزامات لگتے رہے ہوں، اور اسے یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ کوئی اسے نقصان پہنچا دے گا۔ کیا پاکستان میں بھی ایسا ماحول ہے؟دنیا میں کچھ بھی تنہا نہیں ہوتا۔ سرحدیں نقشوں پر کھنچی ہوتی ہیں، مگر خیالات سرحدوں سے گزر کر معاشروں تک پہنچ جاتےہیں۔
14 فروری 2026ء کو میونخ سکیورٹی کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مغرب کی تاریخ، مسیحی ورثے اور نوآبادیاتی ماضی کو تہذیبی تجدید اور ایک نئی مغربی صدی کے تصور سے جوڑا۔ انکی تقریر میں ہجرت بھی تہذیبی تسلسل اور معاشرتی ہم آہنگی کے سوال سے منسلک تھی۔یورپ میں یہی بحث دوسری صورتوں میں سامنے آ رہی ہے۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے نقاب اور برقعے جیسے چہرہ ڈھانپنے والے لباس، اور اسکولوں میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں طلبہ کے احتجاج کو بھی مذہب اور تارکینِ وطن کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ آٹھ اکتوبر کو یورپی پارلیمان نے ”اسلام پسندانہ ادارہ جاتی دراندازی اور اخوان المسلمون کے نیٹ ورک کے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے یورپی یونین کی حکمتِ عملی “ کے عنوان سے قرارداد 381ووٹوں کے مقابلے میں 167 ووٹوں سے منظور کی۔
پاکستان کا رشتہ اس دنیا سے محض سفارتی نہیں، انسانی بھی ہے۔ ہمارے لاکھوں شہری امریکہ اور یورپ میں آباد ہیں؛ ان کے خاندان اور تہذیبی رشتے یہاں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر وہاں مذہب اور ہجرت کو سلامتی کے خطرے کے طور پر پیش کیا جائے تو اس کی پرچھائیاں وہاں رہنے والے پاکستانیوں کے روزمرہ معاملات پر بھی پڑ سکتی ہیں۔ہمارے خطے میں بھی بادل گہرے ہیں۔ پانچ اکتوبر 2026ء کو افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کے آٹھویں اجلاس کے اختتام پر پاکستان اور افغان طالبان کے وفود کے اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا۔ اختلاف میں دہشت گردی اور افغانستان کی سرزمین سے ہونیوالے حملوں کا ذکر شامل تھا۔
ان حالات میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا سوال بھی اہم ہے۔ مجھے اس میں رتی برابر شبہ نہیں کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔ لیکن اس تعلق کو مذہبی جذبات کے ایسے حصار میں بند کرنا دانش مندی نہیں کہ کل حالات بدلیں یا پالیسی پر نظرِ ثانی درکار ہو تو ریاست کیلئے راستہ نکالنا دشوار ہو جائے۔اس لئے دوستی کی بنیاد واضح تزویراتی مفادات، سلامتی اور باہمی ذمہ داریوں پر ہونی چاہیے۔کیونکہ اگر کبھی پالیسی بدلنے کی ضرورت پڑے اور عوامی جذبات مذہبی تقدس سے باندھ دیے گئے ہوں تو پالیسی کی تبدیلی حکومتی فیصلہ نہیں رہتی، وہ وفاداری اور بے وفائی کی جنگ بن جاتی ہے۔نیشنل پریس کلب، واشنگٹن کی اسی گفتگو میں ایک امریکی صحافی نے مجھے حجاز کی تاریخ یاد دلائی ، وہاں کبھی سلطنت عثمانیہ قائم تھی اور ہندی مسلمانوں کی تو اس سے زبردست جذباتی وابستگی بھی تھی پھر حالات نے پلٹا کھایا ۔
ریاست کی حکمت عملی صرف گہرے غور و تدبر اور مکمل طور پر غیر جذباتی انداز میں تشکیل دی جانی چاہئے ۔ ہم دنیا سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، نہ اپنے مفادات کو جذبات کے حوالے کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب سے دوستی ہو یا افغانستان سے اختلاف، فیصلے قومی مفاد اور قانون کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، ایسے نعروں پر نہیں جن سے واپسی کا راستہ بند ہو جائے۔
اصل سوال یہ سامنے کھڑا ہے کہ ہم دنیا کے سامنے پاکستان کا کون سا چہرہ پیش کرنا چاہتے ہیں؟ وہ جو الزام کو فیصلہ سمجھ لیتا ہے، یا وہ جو تحقیق، انصاف اور قانون کا انتظار کرتا ہے؟ وہ ریاست جو تعلقات کو مذہبی جذبات کی آگ میں جھونک دیتی ہے، یا وہ جو دوستی نبھاتے ہوئے اپنے فیصلوں کی تزویراتی بنیاد واضح رکھتی ہے؟ اس سوال کا جواب تقریروں میں نہیں، ہمارے روزمرہ رویوں میں لکھا جائے گا۔ یہ احتیاط کمزوری نہیں، بلکہ ایسے ملک کی ضرورت ہے جو مستقبل محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔