• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

KP میں گورنر راج، ہنگامی حالت، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے توثیق، اپوزیشن کا واک آؤٹ، ن لیگ اور PP کا دفاع

اسلام آباد (عاطف شیرازی، ساجد چوہدری، ناصر چشتی، عاصم جاوید) قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی، دونوں ایوانوں میں پیش کی گئی قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کیلئے قرارداد وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دونوں ایوان میں پیش کی۔قرارداد پر ایوان میں چارگھنٹے بحث کی گئی ، قرارداد پر بحث میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے حصہ لیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اپوزیشن نے قرارداد کی مخالفت جبکہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے دفاع کیا، قرارداد کی منظوری پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور گورنر راج نا منظور کے نعرے لگائے اور ایوان سے واک آئوٹ کیا ۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ PTIنے اپنی صوبائی حکومت پر خودکش حملہ کیا، ایمرجنسی کے ذمہ دار سہیل آفریدی ہیں، حکومت کو دوبارہ مذاکرات کی تجویز دی ہے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جھوٹ کے پیچھے چھپ کر ایک حکومت ختم کی گئی،اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خدا کو مانیں لوگوں کو تنگ نہ کریں، یہ رویہ بربادی کا ہے،اب بھی وقت ہے خیبرپختونخوا میں کیے گئے اقدامات واپس لیں، پارلیمنٹ میں کرسیاں لگائیں وزیر اعظم کیساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا KPحکومت کا رویہ ملکی سلامتی کیلئے خطرہ تھا، ایک سیاسی جماعت کے نظریے کی وجہ سے دہشت گردی کو ہوا ملی، گورنر راج آخری آپشن تھا۔

اہم خبریں سے مزید