یہ ایک ایسے قتل عام کی کہانی ہے جس میں پولیس نے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کی۔ اس براہِ راست فائرنگ کی وجہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی تھی اور یہ فائرنگ اُس وقت تک جاری رہی جب تک پولیس کی گولیاں ختم نہیں ہوئیں۔ اس قتل عام کو آج بھی سانحہ بابڑہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بابڑہ کا مقام چارسدہ کے قریب واقع ہے۔ یہاں پر 12 اگست 1948ء کو خان عبدالغفار خان کی خدائی خدمت گار تحریک نے ایک جلسے کا اعلان کیا تھا۔ اُس وقت صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے وزیراعلیٰ خان عبدالقیوم خان نے وہاں دفعہ 144 نافذ کر دی۔ خدائی خدمت گاروں نے دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود جلسہ کیا۔ اس جلسے پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ مارے گئے۔ اُس وقت کی صوبائی حکومت نے مرنے والوں کی تعداد 25 بتائی لیکن عینی شاہدوں کا دعویٰ تھا کہ چھ سو کے قریب لاشیں گرائی گئیں۔ بی بی سی کے مطابق سانحہ بابڑہ کے کچھ دنوں بعد خان عبدالقیوم خان نے پشاور کے چاک یادگار میں کہا کہ "میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی، جب لوگ منتشر نہیں ہوئے تو تب اُن پر فائرنگ کی گئی، وہ خوش قسمت تھے کہ پولیس کا ایمونیشن ختم ہو گیا ورنہ وہاں سے ایک بھی آدمی زندہ بچ کر نہ جاتا۔ یہ انگریزوں کی نہیں مسلم لیگ کی حکومت ہے اور اس حکومت کا نام قیوم خان ہے۔ خدائی خدمت گار ملک کے غدار ہیں۔ میں ان کا نام و نشان مٹا دوں گا۔" اس بیان کے بعد خان عبدالقیوم خان کو ڈبل بیرل خان قرار دیا گیا۔ ڈبل بیرل خان پختون نہیں بلکہ کشمیری تھا۔ اُس کے والد عبدالحکیم خان کا تعلق بارہ مولا کے گاؤں وانی گام سے تھا لیکن وہ صوبہ سرحد میں تحصیل دار تھا۔ ڈبل بیرل خان چترال میںپیدا ہوا۔ اُس نے 1937ء کا الیکشن کانگریس کے ٹکٹ پر لڑا اور سنٹرل لیجسلیٹو اسمبلی کا رکن منتخب ہوا۔ اُس نے "گولڈ اینڈ گنز آن دی پٹھان فرنٹیئر" کے نام سے قائداعظم اور مسلم لیگ کے خلاف کتاب بھی لکھی۔ 1945ء میں ہوا کا رُخ دیکھ کر وہ مسلم لیگ میں شامل ہو گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ صوبہ سرحد کا وزیراعلیٰ بن گیا۔ اُس کے وزیراعلیٰ بننے کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ 1946ء کے الیکشن میں کانگریس کو صوبہ سرحد میں اکثریت مل گئی کیونکہ اُسے غیر مسلموں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ مسلم لیگ کو صرف مسلم نشستوں پر کامیابی ملی۔ صوبہ سرحد کا انگریز گورنر اولف کیرو ہندوستان کی تقسیم کے خلاف تھا۔ مارچ 1947ء میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کا وائسرائے بن کر آیا تو مسلم لیگ نے صوبہ سرحد میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی۔ صوبے کی جیلیں مسلم لیگیوں سے بھر گئیں لیکن سول نافرمانی کی تحریک جاری رہی۔ 28 اپریل 1947ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن صوبہ سرحد کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے پشاور پہنچا تو مسلم لیگ کے ہزاروں حامیوں نے گورنر ہاؤس پشاور کا گھیراؤ کر لیا۔ مظاہرین کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ پولیس اُنہیں منتشر نہ کر سکتی تھی۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مظاہرین کے ایک وفد سے ملاقات کا فیصلہ کیا اور اُنہیں اپنا مظاہرہ ختم کرنے پر قائل کر لیا۔ اگلے روز وہ خیبر کے علاقے لنڈی کوتل پہنچا،یہاں اُس نےآفریدیوں، شنواریوں اور دیگر قبائل کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ واپس پشاور آ کر اُس نے محسود اور وزیر قبائل کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ یہ سب صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کے خلاف تھے اور پاکستان کے حامی تھے۔ اس صورتحال میں صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کے انعقاد کا فیصلہ ہوا تاکہ عوام سے پوچھا جائے کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا ہندوستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ کانگریس نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کر دیا۔ مسلم لیگ نے ریفرنڈم میں بھرپور حصہ لیا۔ ڈاکٹر خان صاحب نے 7 جولائی 1947ء کو پشاور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر ریفرنڈم میں مسلم لیگ کو 30 فیصد ووٹ مل گئے تو میں وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دے دوں گا۔ ریفرنڈم کے نتائج آئے تو 99 فیصد رائے دہندگان نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ اس رزلٹ کے باوجود ڈاکٹر خان صاحب نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا۔ قائداعظم نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو تجویز دی کہ وہ صوبہ سرحد میں دوبارہ الیکشن کروائیں یا گورنر راج نافذ کریں لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن ڈبل گیم کر رہا تھا۔ وہ پاکستان اور ہندوستان کا مشترکہ گورنر جنرل بننے کیلئے قائداعظم کو بلیک میل کر رہا تھا۔ اس نے یہ مسئلہ حل نہیں کیا۔ 14 اگست کی شب قیامِ پاکستان کا اعلان ہوا تو صوبہ سرحد پاکستان میں شامل تھا لیکن وہاں کانگریس کی حکومت تھی۔ ڈاکٹر خان صاحب نے 15 اگست کو پاکستان کا پرچم لہرانے کی تقریب میں شرکت نہ کی۔ قائداعظم کو صوبہ سرحد میں نئے الیکشن کی تجویز دی گئی لیکن خان عبدالقیوم خان نے نئے گورنر راب لوک ہارٹ اور وزیراعظم لیاقت علی خان کی مدد سے نئے الیکشن کا راستہ روک دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ اسمبلی میں اکثریت ثابت کر سکتا ہے۔ 22 اگست کو ڈاکٹر خان صاحب کو برطرف کیا گیا اور خان عبدالقیوم خان نے کانگریس کے حامی ارکان کو ساتھ ملا کر اپنی حکومت بنا لی۔خان عبدالغفار خان نے دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھا لیا اور قائداعظم سے ملاقات بھی کر لی لیکن خان عبدالقیوم خان ان پر افغانستان سے گٹھ جوڑ اور ملک دشمنی کا الزام لگاتا رہا۔ انہی الزامات کے تحت اُس نے بابڑہ کے جلسے میں فائرنگ کا حکم دیا اور ڈبل بیرل خان کا خطاب پایا۔ صوبہ سرحد آج خیبر پختونخوا کہلاتا ہے لیکن افسوس کہ آج بھی وہاں حکومت کے سیاسی مخالفین کو ملک دشمن اور غدار قرار دیا جاتا ہے۔ آج بھی افغانستان پر خیبر پختونخوا میں مداخلت کا الزام لگایا جاتا ہے۔ 1948ء اور 2026ء کے حالات میں کافی فرق ہے لیکن آج بھی خیبر پختونخوا میں سیاسی جلسے جلوسوں کو روکنے کیلئے دفعہ 144 استعمال ہوتی ہے۔ صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ اور صوبائی اسمبلی کے سپیکر سمیت کئی ارکانِ اسمبلی پولیس کی حراست میں ہیں کیونکہ صوبے میں گورنر راج نافذ ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی اپنے سیاسی مخالفین کو للکار رہے ہیں کہ آؤ گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کرو میں تمہاری خاطر تواضع کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہوں۔ 1948ءمیںجو کچھ بابڑہ میں ہوا ویسے کچھ مناظر ہم نے پچھلے دنوں خیبر کے علاقے باڑہ میں دیکھے جہاں پولیس نے مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلائیں۔ سیدھی گولیاں چلانے کا حکم دینے والے اربابِ اختیار صرف اتنا یاد رکھیں کہ تاریخ میں انہیں ڈبل بیرل خان ثانی کے نام سے یاد کیا جائے گا۔