• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی، 25 روز میں اجتماعی خودکشیوں کے 2 واقعات، حکومتی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات

کراچی (مطلوب حسین) شہر قائد میں 25 روز میںمبینہ اجتماعی خود کشیوں کے 2واقعات میں5 معصوم بچوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت کے معاملہ نے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں غربت ،بے روز گاری اور بڑھتی مہنگائی کے بوجھ تلے سفید پوش افراد کو اجتماعی خودکشیوں پر مجبور کردیا ہے، 25 روز میں شہر میں مبینہ طور پر اجتماعی خودکشیوں2 واقعات سامنے آچکے ہیں جن میں 5 کمسن بچوں سمیت 10 افراد جبکہ رواں سال انفرادی خودکشی کے درجنوں واقعات اس کے علاوہ ہیں ، 20ستمبر کو احسن آباد میں واقع ایک فلیٹ سے ایک ڈاکٹر ،انکی اہلیہ اور 3 بچوں کی لاشیں برآمد کی گئیں تھیں، اسی طرح 13اکتوبر کو ملیر بن قاسم کے علاقےمیں واقع گلشن فلک ناز کے ایک فلیٹ سے میاں ،بیوی ،نند اور 2 بچوں کی لاشیں برآمد ہونے کے واقعے نے شہر قائد میں معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور گھریلو اخراجات کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر خاندانوں کی کفالت کے لئے حکومتی و سماجی اداروں کے کردار پر سوالات کھڑے کردئے ہیں ، ،مذکورہ دونوں واقعات میں دو الگ گھروں سے 5،5 لاشیں ملنے واقعات میں پولیس کی جانب سے حتمی طور پر اجتماعی خودکشی کے واقعات قرار نہیں دئے گئے ہیں تاہم دونوں خاندانوں میں بے روزگاری کے باعث ابتر معاشی حالت کی نشاندہی سامنے آئی ہے جس کے باعث پولیس کی جانب سے اس بات کا غالب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ واقعات اجتماعی خودکشیوں کے ہیں ۔شہری حلقوں کا کہنا ہےکہ ایک جانب شہر میں بیت المال، زکوٰۃ و خیرات، راشن کی تقسیم، مفت کھانے کے دسترخوانوں اور مستحق خاندانوں کی کفالت کے نام پر مختلف فلاحی سرگرمیاں جاری ہیں، تو دوسری جانب معاشی دباؤ کا شکار بعض خاندانوں کی انتہائی مایوس کن صورت حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے کے موجودہ نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اہم خبریں سے مزید