امریکی فوج نے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے نئے منصوبے تیار کرلیے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق نئے منصوبے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ حملوں کا حکم دیے جانے کی صورت میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا کے سب سے طاقت ور غیر جوہری بم کے ممکنہ استعمال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں میں GBU-43/B میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ (MOAB) کے ممکنہ استعمال پر غور کیا جا رہا ہے، جسے ’مدر آف آل بمز‘ (ایم او اے بی) بھی کہا جاتا ہے، اس بم کے استعمال سے جنگ میں شدت آسکتی ہے۔
رپورٹ میں متعدد امریکی حکام اور فوجی منصوبہ بندی سے واقف افراد کے حوالے سے یہ تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
ایک ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ نے حملوں کے اضافی منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی ہے، جن میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے بڑے حصے کو نشانہ بنانا اور ممکنہ طور پر ایم او اے بی کا استعمال شامل ہے۔
ایک دوسرے ذریعے کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات بشمول پک ایکس ماؤنٹین پر حملوں کے منصوبوں میں اس بم کو واضح طور پر شامل کیا گیا ہے، تاہم ان حملوں پر عمل درآمد کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ انتظامیہ ایسی حساس فوجی منصوبہ بندی پر تبصرہ نہیں کرتی، جو موجود ہو یا نہ ہو، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ٹرمپ نے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں ہوسکتی ہے۔
تقریباً 21 ہزار 600 پاؤنڈ یعنی تقریباً 9.8 میٹرک ٹن وزنی (MOAB) بم کو زمین کی گہرائی میں دبے ہوئے اہداف کو تباہ کرنے کی بجائے وسیع علاقے میں ایک طاقت ور دھماکا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
سی این این کے حوالے سے بات کرنے والے ذرائع نے اس بارے میں سوالات اٹھائے کہ آیا یہ بم چٹانوں کی گہرائی میں محفوظ ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کر سکتا ہے یا نہیں؟
فوجی منصوبہ بندی سے واقف ایک شخص نے اسے وسیع علاقے کو صاف کرنے کے لیے مؤثر قرار دیا، تاہم کہا کہ یہ یقینی طور پر گہرائی میں موجود وار ہیڈ کے طور پر ڈیزائن نہیں کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبادی والے علاقوں کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی صورت میں اس بم کے وسیع دائرۂ تباہی کے باعث شہری ہلاکتوں کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا نے پہلی مرتبہ 2017ء میں افغانستان میں جنگ کے دوران ایم او اے بی استعمال کیا تھا۔
صدر ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران کیے گئے اس حملے میں شدت پسند تنظیم داعش کی ایک سرنگوں پر مشتمل تنصیب کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
سی این این کے مطابق امریکی فوجی منصوبہ سازوں نے دیگر ممکنہ کارروائیوں کے منصوبے بھی تیار کر رکھے ہیں، جبکہ انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع ختم کرنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔
ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے حالیہ دنوں میں یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ امریکا کی جانب سے مزید فوجی کارروائی کا امکان بدستور موجود ہے۔