میں حیران ہوں کہ اتنی حکومتیں آئیں اور گئیں مگر پنجاب کی توانائی کی ضروریات کا دیرپا حل تلاش کرنے پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔ پنجاب صدیوں سے اپنی زرعی خوشحالی اور معاشی خود کفالت کے حوالے سے پہچانا جاتا رہا ہے لیکن بدلتے وقت اور جدید دور کی ضروریات کے مطابق اسے توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانا بھی ضروری تھا۔ بدقسمتی سے اس اہم ضرورت کو طویل المدتی منصوبہ بندی میں وہ مقام نہیں مل سکا جسکی یہ مستحق تھی۔پنجاب کے عوام پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دنیا بھر میں کاروبار اور محنت مزدوری کرنیوالے پنجابی پاکستان کیلئے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں، پنجاب ٹیکسوں، زرعی پیداوار اور صنعتی ترقی کے ذریعے ملکی معیشت کو مضبوط بناتا ہے۔ اسکی زرخیز زمینیں ملک کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں جبکہ اسکی صنعتیں روزگار اور پیداوار کا اہم ذریعہ ہیں، پنجاب کے تعلیمی ادارے بھی ملک بھر کے طلبہ کو تعلیم اور وظائف کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اس سب کے باوجود پنجاب کے عوام کو معاشی مشکلات کیساتھ توانائی کے بحران اور اس سے جڑی الزام تراشی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ وہ مہنگی بجلی اور گیس کے بھاری بل ادا کرتے ہیں جبکہ بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی سے ہونیوالے نقصانات کا بوجھ بھی بالآخر ایمانداری سے بل ادا کرنیوالے پنجابی صارفین پر پڑتا ہے۔اس پر مستزاد ڈیموں اور گیس کی فراہمی کے حوالے سے طعنے بھی سننے پڑتے ہیں، حالانکہ قومی ترقی کے تمام منصوبوں میں بھی پنجاب نے ہمیشہ اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔پنجاب میں توانائی کی خود کفالت ناگزیر ہے، محترمہ مریم نواز ! اب وقت آ گیا ہے کہ پنجاب حکومت توانائی کے شعبے میں خود کفالت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرے۔صوبے کو اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے ایک واضح، قابلِ عمل اور طویل المدتی پالیسی درکار ہے۔ شمسی توانائی، زرعی فضلے سے توانائی کی پیداوار اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پنجاب کی زرعی معیشت سے پیدا ہونیوالے نامیاتی فضلے کو مناسب ٹیکنالوجی کے ذریعے توانائی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور موزوں صنعتی مقامات پر سولر سسٹم نصب کرنا لازم کر کے روایتی بجلی پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں صوبائی خود کفالت کا مقصد مقامی وسائل کو بہتر طور پر استعمال کرتے ہوئے بجلی کی مقامی پیداوار بڑھانا، مہنگے ذرائع پر انحصار کم کرنا اور عوام کو سستی توانائی فراہم کرنا ہونا چاہئے۔ اس مقصد کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون بھی ضروری ہے۔ توانائی کے بحران کا حل ایک دوسرے پر الزام تراشی میں نہیں بلکہ مشترکہ منصوبہ بندی اور ذمہ داری کی منصفانہ تقسیم میں ہے۔پنجاب میں دھوپ کی وافر دستیابی شمسی توانائی کو ایک اہم متبادل بناتی ہے، تاہم سولر سسٹم کی ابتدائی لاگت بہت سے غریب اور متوسط گھرانوں کی استطاعت سے باہر ہے، اسلئے پنجاب حکومت کو چاہئے کہ مستحق خاندانوں کیلئےمفت سولر سسٹم اور دیگر گھرانوں کیلئے آسان اقساط پر فراہمی کا شفاف پروگرام شروع کرے۔اگر عام گھرانے اپنی ضروریات کی ایک بڑی مقدار شمسی توانائی سے پوری کر سکیں تو ان کے بجلی کے بلوں میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے قومی گرڈ پر دباؤ کم کرنے اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے میں بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔ بجلی کی مسلسل فراہمی، مناسب قیمتوں اور مؤثر آلات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ لوگ گیس کے متبادل کے طور پر بجلی استعمال کرنے کے قابل ہو سکیں۔ حکومتیں سڑکیں، پل، ٹرانسپورٹ اور دیگر ترقیاتی منصوبے بناتی ہیں۔ان منصوبوں کی اپنی اہمیت ہے لیکن ان بنیادی مسائل کو بھی ترجیح ملنی چاہئے جنکا سامنا ہر شہری روزانہ کرتا ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی کا فائدہ کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں رہتا، اس سے گھرانوں کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں، کاروبار کو سہارا مل سکتا ہے اور صنعت و زراعت کی پیداواری لاگت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی لئے پنجاب حکومت کو چاہئے کہ دیگر ترقیاتی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے توانائی کے بحران کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرے۔ یہ ایسا شعبہ ہے جس میں مؤثر پالیسی کے نتائج معاشرے کے تقریباً ہر طبقے تک پہنچ سکتے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ! پنجاب کے عوام محنت کرتے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں، خوراک پیدا کرتے ہیں اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ انہیں بھی حق ہے کہ ان کی بنیادی ضروریات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوں اور انہیں اپنی محنت کے بدلے بہتر زندگی میسر آئے۔ آخر پنجابی عوام کب تک بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی سے ہونیوالے نقصانات کا بوجھ برداشت کرتے رہیں گے؟ کب تک ایمانداری سے بل ادا کرنیوالے صارفین کو دوسروں کی بے ضابطگیوں کی قیمت چکانا پڑیگی؟ اور کب تک توانائی کی کمی پر الزام تراشی کے بجائے اسکا مستقل حل تلاش کرنے میں تاخیر ہوتی رہے گی؟اب وقت آ گیا ہے کہ پنجاب حکومت توانائی کے شعبے میں خود کفالت کیلئے واضح اہداف مقرر کرے، سستی بجلی کی پیداوار بڑھائے، سولر توانائی کو عام آدمی کی پہنچ میں لائے اور وفاق کے ساتھ مل کر بجلی اور گیس کی فراہمی و قیمتوں کے مسائل حل کرنے کیلئے مؤثر کردار ادا کرے۔ پنجاب کے عوام کو طعنے نہیں، سستی بجلی، قابلِ برداشت گیس اور عملی ریلیف چاہئے۔