• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

120 ارب روپے کے آن لائن جوئے کے اسکینڈل میں مزید حیران کن انکشافات

اسلام آباد (زبیر قصوری)120ارب روپے کے آن لائن جوئے کے اسکینڈل میں مزید حیران کن انکشافات، مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی تجویز، کارپوریٹ بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منتقلی کا انکشاف،وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے تقریباً 120ارب روپے کے آن لائن جوئے اور مشکوک مالیاتی لین دین کے بڑے اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران مزید حیران کن انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک میں مختلف گیمنگ ایپلی کیشنز، جعلی کاروباری ویب سائٹس، کارپوریٹ بینک اکاؤنٹس، موبائل فنانشل والٹس اور ممکنہ بین الاقوامی آپریٹرز کے ذریعے رقوم جمع کرنے اور منتقل کرنے کا پیچیدہ نظام استعمال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق مالیاتی لین دین کے غیر معمولی حجم اور رقوم کی وصولی، منتقلی اور اصل ذرائع چھپانے کے مبینہ طریقہ کار نے تحقیقات میں کئی نئے پہلو سامنے لائے ہیں۔ اس صورتحال میں مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں، مالیاتی ریگولیٹرز اور سائبر کرائم کے تحقیقاتی ماہرین کے درمیان مشترکہ کارروائی کی ضرورت بھی سامنے آئی ہے۔ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل فیصل آباد میں درج مقدمہ نمبر 32/2026 کے مطابق تحقیقات کے دوران کم از کم 10 آن لائن گیمنگ اور بیٹنگ پلیٹ فارمز کی نشاندہی کی گئی، تحقیقات کے مطابق ان پلیٹ فارمز کے ذریعے صارفین کو حقیقی رقم لگا کر مختلف آن لائن گیمز کھیلنے کی سہولت فراہم کی جاتی تھی، جبکہ رقوم جمع کرانے کے لیے موبائل والٹس، بینکنگ سروسز اور دیگر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذرائع استعمال ہوتے تھے۔تفتیش کار مختلف گیمنگ ویب سائٹس کے ڈیزائن، انٹرفیس اور آپریشنل طریقہ کار میں مماثلت کا بھی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ بظاہر الگ الگ نظر آنے والے یہ پلیٹ فارمز کہیں ایک ہی گروہ، مشترکہ تکنیکی ماہرین یا مخصوص آپریٹرز کے زیر انتظام تو نہیں چلائے جا رہے تھے۔مبینہ نیٹ ورک کا ایک اہم پہلو نمائشی یا جعلی کاروباری ویب سائٹس کی تیاری اور بظاہر قانونی تجارتی سرگرمیوں کے لیے رجسٹرڈ کمپنیوں کا استعمال ہے۔ تفتیشی ریکارڈ کے مطابق بعض کمپنیوں کے نام پر کارپوریٹ پیمنٹ اکاؤنٹس حاصل کیے گئے، جنہیں بعد میں مبینہ طور پر آن لائن جوئے کے پلیٹ فارمز سے منسلک کرکے صارفین کی رقوم وصول کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ایف آئی اے کی تحقیقات میں متعدد کارپوریٹ اور برانچ لیس بینکنگ اکاؤنٹس کے ذریعے بڑے پیمانے پر مالیاتی لین دین کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید