کراچی(طاہر عزیز۔۔اسٹاف رپورٹر) کلفٹن میں واقع نہر خیام میں شامل ہونے والے علاقے کے سیوریج کو الگ کرنے کے لئے نالہ (ڈرین) بنانے کا کام جاری ہےمحکمہ بلدیات حکومت سندھ کےمیگا پروجیکٹس ونگ کےتحت اسےایک ارب 46کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جا رہا ہے پروجیکٹ دائریکٹر میگا پروجیکٹس کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصدنہرِ خیام کو سیوریج کے لیے استعمال ہونے نالے سے تبدیل کرکے ایک صاف ستھری، ماحول دوست اور خاندانوں کے لیے موزوں عوامی تفریحی مقام بنانا ہے جس میں کشتی رانی جیسی تفریحی سہولیات کی فراہمی، گرے واٹر (استعمال شدہ نسبتاً کم آلودہ پانی) کی صفائی اور شجرکاری شامل ہے، تاکہ اس علاقے کو بدبودار سیوریج نالے کے بجائے خاندانوں کے لیے تفریحی مقام کے طور پر استعمال کیا جا سکےحکومتِ سندھ کے محکمہ بلدیات کے میگا پراجیکٹس ونگ نے یہ منصوبہ تیار کیامنصوبے کی ابتدائی طور پر 499.993 ملین روپے کی لاگت سے منظور کی گئی تھی۔ PC-I کی منظوری کے بعد مجوزہ منصوبے کے تفصیلی ڈیزائن اور تکنیکی جائزے کے لیے ایک کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی گئیں تفصیلی جائزے کے بعد کنسلٹنٹ نے منصوبے اور اس کے نکاسیٔ آب کے زیرِ اثر علاقے کا ہائیڈرولوجیکل مطالعہ (آبی بہاؤ اور نکاسی سے متعلق سائنسی جائزہ) کیااس مطالعے کے نتائج کی بنیاد پر یہ طے پایا کہ ابتدائی طور پر تجویز کردہ سنگل سیل ڈرین میں متوقع بارش کے پانی کے بہاؤ اور علاقے کی نکاسیٔ آب کی ضروریات کو محفوظ طریقے سے پورا کرنے کی خاطر کافی گنجائش نہیں ہوگی چنانچہ ہائیڈرولوجیکل مطالعے کے نتائج اور سفارشات کی روشنی میں منصوبے پر نظرثانی کی گئی اور اس کے تحت نہرِ خیام پر 3/4 سیل باکس ڈرین (تین یا چار خانوں پر مشتمل باکس نما نکاسیٔ آب کی نالی) تجویز کی گئی، اور منصوبے کی نظرثانی شدہ تخمینی لاگت 1,456.192 ملین روپے مقرر کی گئی اوشین مال سے بوٹ بیسن تک یہ ایک کلو میٹر طویل ہےمنصوبے پر کام جاری ہے اور سیوریج سے متعلق ضروری کام مکمل کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں سیوریج کے پانی کو نہرِ خیام کے نظام سے الگ کرنا ممکن ہو گیا ہے مجموعی کام ایک منظم ترتیب کے تحت انجام دیے جا رہے ہیں پی ڈی کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا حتمی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ نہرِ خیام کو محض ایک بدبودار سیوریج نالے کے طور پر نہ دیکھا جائے اور نہ ہی اسے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہے، بلکہ اسے خاندانوں اور عام شہریوں کے لیے ایک تفریحی مقام اور کشتی رانی کی سہولت کے حامل مرکز کے طور پر ترقی دی جائے انہوں نے کہاکہ نہر خیام کے ساتھ نالے کی تعمیر کا کسی قسم کی کمرشل سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور واضح رہے یہ منصوبہ 2019میں حکومتِ سندھ اور آرکیٹیکٹ شاہد عبداللہ، جو پانی تنظیم سے وابستہ ہیں، کے درمیان ایک معاہدہ کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے۔