کراچی (طاہر عزیز۔۔۔اسٹاف رپورٹر) نہرِ خیام کے تحفظ کے لیے شہریوں کی آگاہی واک ،شرکا نے مطالبہ کیا کہ ماحولیاتی جائزہ اور سیپا کی منظوری عوام کے سامنے لانے تک تعمیراتی کام معطل کیا جائےبحالی کے منصوبے کا منظور شدہ ڈیزائن، اراضی کی حدود، معاہدوں، ٹھیکے داروں اور اخراجات کی تفصیلات منظرعام پر لائی جائیں دکانوں، فوڈ اسٹریٹ یا دیگر تجارتی سرگرمیوں کی اجازت نہ دی جائے تفصیلات کے مطابق کلفٹن بلاک 5 اور ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں نے اتوار کی شام نہرِ خیام کے اطراف آگاہی واک کا انعقاد کیا، جس کا مقصد نہر میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں کی جانب میڈیا اور عوام کی توجہ مبذول کرانا اور اس اہم آبی گزرگاہ، اس کی نکاسیٔ آب کی صلاحیت اور اطراف کی سرکاری اراضی کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرنا تھارہائشیوں اور ماحولیاتی ماہرین نے نہرِ خیام میں جاری تعمیراتی کام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے شفافیت اور جواب دہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ان کا کہنا تھا کہ نہر کو تنگ کرنے یا اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے سے بارش کے پانی کی نکاسی اور سمندری مدوجزر کے قدرتی نظام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ اس کے کناروں پر تجارتی سرگرمیوں سے سرکاری اراضی اور نہر کے بنیادی مقاصد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔شرکا نے کہا کہ انہیں نہرِ خیام کے منصوبے کے لیے سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) سے منظور شدہ ماحولیاتی جائزے کی کوئی عوامی دستاویز دستیاب نہیں ہو سکی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA)، ماحولیاتی منظوری، اس سے متعلق شرائط اور عوامی مشاورت و سماعت کا ریکارڈ فوری طور پر منظرعام پر لایا جائے قانونی تقاضوں کی تکمیل ثابت ہونے تک تعمیراتی کام روک دیا جانا چاہیےکلفٹن بلاک 5 کی رہائشی رشا طارق نے کہا کہ نہرِ خیام عوام کی ملکیت ہے اور اس کے مستقبل سے متعلق فیصلے شفافیت کے بغیر نہیں کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ شہری نہر کی مناسب بحالی کے حامی ہیں، تاہم اس کی نکاسیٔ آب اور ماحولیاتی اہمیت کا تحفظ، اصل چوڑائی برقرار رکھنا اور کناروں پر تجارتی تعمیرات کی روک تھام ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نہر کو تنگ کرنے کے بجائے ایسے پائیدار حل اختیار کیے جانے چاہییں جو تجارتی مقاصد اور شہری سیلاب کے خدشات کو جنم نہ دیںمنصوبے کی تاریخ اور نجی شراکت داری پر شہری تنظیم سے وابستہ امبر علی بھائی نے کہا کہ نہرِ خیام کی خوب صورتی اور بحالی کا منصوبہ 2005ء سے زیرِ غور ہے۔ ان کے مطابق اس وقت سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی (CDGK) نے خود اس منصوبے پر کام کیا تھا اور اخبار میں عوامی نوٹس بھی شائع کیا گیا تھا منصوبے کے اہم نکات میں سیوریج چینل کی بہتری، بوٹ بیسن کی جانب پانی کے بہاؤ کو روکنے اور سیوریج کے پانی کو بلاک 9 میں قائم کیے جانے والے ٹریٹمنٹ پلانٹ کی طرف منتقل کرنے کا ذکر تھاامبر علی بھائی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے نجی کمپنی کو منصوبے کا محرک بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ اصل تجارتی منصوبے کے تحت دکانوں اور کشتی رانی کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا امکان ہےماہرِ ماحولیات مسعود لوہار نے کہا کہ اس کی چوڑائی کم کرنے سے شہر کے اہم بنیادی ڈھانچے اور سیلابی صورتِ حال پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ماہرِ ماحولیات احمد شبّر نے بھی ماحولیاتی جائزے کی فوری ضرورت اور ممکنہ سیلابی خطرات کی نشاندہی کی۔ایسوسی ایشن آف ڈیفنس ریزیڈنٹس (ADR) کی حمیرہ خان نے کہا کہ شہریوں کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ کیا تعمیر کیا جا رہا ہے، کون سی منظوریوں کے تحت کام ہو رہا ہے اور عوامی فنڈز کس طرح خرچ کیے جا رہے ہیںکے ایم سی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر تیمور احمد نے کہا کہ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے قدرتی نالوں کو چھوٹے بند ڈبوں یا تنگ پائپوں میں محدود کرنا مون سون کے دوران شدید شہری سیلاب کا سبب بنتا ہے۔ ان کے مطابق قدرتی آبی گزرگاہوں کو اصل کھلی حالت میں بحال کرنا اور ان میں سیوریج کے اخراج کو روکنا ضروری ہے تاکہ ماحولیاتی نظام کو تحفظ دیا جا سکے اور بار بار آنے والی آفات سے بچا جا سکےآگاہی واک کے شرکا نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014ء کی دفعہ 17(1) کے مطابق مطلوبہ ماحولیاتی جائزہ اور سیپا کی منظوری عوام کے سامنے لانے تک تعمیراتی کام معطل کیا جائےبحالی کے منصوبے کا منظور شدہ ڈیزائن، اراضی کی حدود، معاہدوں، ٹھیکے داروں اور اخراجات کی تفصیلات منظرعام پر لائی جائیں نہر کی اصل مکمل چوڑائی اور کناروں کو کھلی سرکاری اراضی کے طور پر محفوظ رکھا جائے اور وہاں دکانوں، فوڈ اسٹریٹ یا دیگر تجارتی سرگرمیوں کی اجازت نہ دی جائےبغیر ٹریٹمنٹ سیوریج کا پانی نہر میں چھوڑنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور بوٹ بیسن اور سمندر تک پہنچنے سے پہلے گندے پانی کو صاف کرنے کا انتظام کیا جائے اوبھایو، چائنا کریک اور گزری کے آبی نظام میں بارش کے پانی کی نکاسی اور سمندری مدوجزر کے بہاؤ کی صلاحیت کا آزادانہ جائزہ کرایا جائےشہریوں نے واضح کیا کہ ان کا مطالبہ نہرِ خیام کو نظرانداز کرنے کا نہیں بلکہ اس کی حقیقی بحالی کا ہے۔