• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد میں جرمن اتحاد کے دن کی تقریب تھی، چنانچہ ناسازی طبع کے باوجود شرکت ضروری سمجھی۔ جرمنی سے میرا پرانا تعلق ہے۔ تعلق بھی کیا، ایک ایسی محبت ہے جو وقت گزرنے کیساتھ کم نہیں ہوئی۔ کسی یورپی ملک کی دعوت پر میرا پہلا سفر بھی جرمنی ہی کا تھا، جرمن سفیر اینا لیپل پاکستان میں دوسری مرتبہ سفیر بن کر آئی ہیں، اس سے پہلے نائب سفیر کی ذمہ داری بھی ادا کر چکی ہیں۔ سن 2010ء میں جرمنی گیا تو ان کے گھر قیام رہا۔ اسٹیشن پر لینے اور ایئر پورٹ پر الوداع کہنے کیلئے بھی خود موجود تھیں ۔ بعض ملاقاتیں وقت گزرنے کے باوجود پرانی نہیں ہوتیں؛ ان میں وقت جیسے ٹھہرسا جاتا ہے۔اسلام آباد موجودگی کے دوران سفارتکاروں سے ملاقات ہوئی۔ ایک سوال بار بار سامنے آتا رہا: خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے باعث گورنر راج نافذ کیا گیا ہے، تو اسکے نتائج کب دکھائی دینگے؟ دہشت گردی میں کمی آئے، خوف کی فضا چھٹے، لوگوں کو زندگی معمول پر آتی محسوس ہو، تب کہیں جا کر اس فیصلے کا حاصل سامنے آئیگا۔ اسکے ساتھ گورنر کی سیاسی حیثیت کا سوال بھی اپنی جگہ موجود تھا۔ جو شخص اپنی نشست جیتنے کی قوت نہیں رکھتا، وہ ایسے کڑے وقت میں حکومت کیلئے سیاسی اثاثہ کیسے بن سکتا ہے؟ سوال واضح تھا، مگر جواب ابھی کہیں دکھائی نہیں دیتا ۔ایک پرانے سفارتی شناسا کہنے لگے، مشرف کے زمانے میں آپ سفارتکاروں سے رابطے میں رہتے تھے اور آپ کے مستقل روابط مسلم لیگ ن کی قیادت سے بھی تھےخواہ وہ سعودیہ میں ہو یا کسی اور ملک میں اور اسی لیے مسلم لیگ ن قیادت کی ترجیحات کو ہم آپ کی بدولت جان پاتے تھے ، اور آپ پاکستان کے دوسرے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کراتے تھے۔چنانچہ ہمیں اندازہ رہتا تھا کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ تاہم اب ایسا کوئی منظم رابطہ دکھائی نہیں دیتا۔ ایک رہنما کی بات دوسرے سے نہیں ملتی۔ قائد حزب اختلاف سے ملاقات ہو تو گفتگو 1947ء اور اسکی تعبیرات کی طرف نکل جاتی ہے، حالانکہ سفارتکار آج کے پاکستان کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ میں سوچتا رہا کہ سیاست میں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا ہنر بھی کوئی معمولی چیز نہیں۔تاہم حزب اختلاف کی یہ کمی حکومت کی ذمہ داری کو کم نہیں کرتی، بلکہ اسکا بوجھ بڑھا دیتی ہے۔روس کا ذکر آیا تو گفتگو مزید پیچیدہ ہو گئی۔ روسی وزیر داخلہ پاکستان میں تھے تو اسی سطح کے روسی عہدیدار دہلی اور کابل میں بھی موجود تھے۔ روسی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تینوں ملکوں کو قریب لانے کی کوشش ہے۔ لیکن اس کوشش کے پس پردہ اصل ارادہ کیا ہے، اس پر ابھی دھند چھائی ہوئی ہے۔

بعض لوگوں کو گمان ہے کہ روس جنوبی ایشیا کو اب بھی سوویت زمانے کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دوسری طرف افغانستان میں طالبان کا رویہ سخت تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک برادر مسلم ملک کے انٹیلی جنس سربراہ کابل گئے تو طالبان کے انٹیلی جنس سربراہ نے یہ کہہ کر ملاقات سے انکار کر دیا کہ وہ مغرب کے نمائندے ہیں۔ ملاقات نائب سربراہ سے ہو سکی۔ زمانہ بدل گیا، مگر بدگمانیاں اب بھی پرانی ہیں۔امریکہ میں بھی تبدیلی کی ایک آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ وہاں یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ جمہوریتیں ہوں یا بادشاہتیں، ان کے رہنما اب عوام کی توقعات پوری نہیں کر پا رہے۔ یہ بات صرف دوسروں کیلئے نہیں، خود امریکہ کیلئے بھی ہے۔ کبھی ٹیکساس میں بش خاندان ریپبلکن سیاست کی پہچان ہوا کرتا تھا، آج وہ نظروں سے اوجھل ہے۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر ٹرمپ تیسری مدت کیلئے انتخاب نہیں لڑ سکتے تو کیا انکے بیٹے انکی جگہ صدارتی امید وار ہونگے ؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کے بڑے سیاسی گھرانوں کے چراغ بھی اب پہلے کی طرح روشن نہیں رہے۔ایران کے بارے میں گفتگو ہوئی تو ایک مختلف کہانی سامنے آئی۔ ایرانی معتبر ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کو متبادل تجارتی راستہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور ایرانی تجارت کا تقریباً نصف حصہ جو دبئی سے ہوتا تھا کی بجائے پاکستان کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کام پاکستان کے مشورے سے شروع ہوا، مگر تقریباً بارہ ہزار کنٹینر راستے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کلیئرنس اب شروع ہوئی ہے، وہ بھی سست رفتاری سے۔ میں نے پوچھا کہ کیا اس میں امریکی دباؤ کارفرما ہے؟ جواب ملا کہ اصل مزاحمت امریکہ کی طرف سے نہیں، بلکہ اس ملک کی جانب سے ہے جس سے تجارت کا رخ موڑ کر پاکستان کی طرف کیا گیا ہے۔ یوں ایک راستہ کھلتا دکھائی دیتا ہے اور اسی لمحے اس پر رکاوٹیں بھی کھڑی ہونے لگتی ہیں۔ایرانی حلقوں میں یہ خیال بھی مضبوط ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں دراڑ ڈالنےکیلئے دہشت گردی کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ انکے نزدیک بھارت، اسرائیل اور ایک خلیجی ملک اس عمل میں سرگرم ہیں۔ وہ پاکستانی حکومت، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی صلاحیتوں اور اخلاص کے معترف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی سرحد کی بندش کا تعلق ایران کےعلاقوں میں ہونیوالی دہشت گرد کارروائیوں سےہے اور پاکستان ان معاملات میں تعاون کر رہا ہے۔البتہ یہ ایران کا سرکاری مؤقف نہیں ہے ۔

اسلام آباد اعلامیے کو ایرانی حلقے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ انکے مطابق ایران نے اس کا احترام کیا، جبکہ ٹرمپ نے اسکی توہین کی۔ ایرانی فضائی معاملات میں پاکستان کے کردار کو بھی وہ اہم سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان ایران کیلئے جو کچھ کر سکتاہے، کر رہا ہے۔ میں نے کہا کہ امریکہ کے دوبارہ حملے کا امکان بھی اسی وقت تک موجود ہے جب تک ٹرمپ اور انکے کاروباری مشیر اس میں کوئی ذاتی مالی فائدہ دیکھتے ہیں۔ ورنہ واشنگٹن یہ سمجھ چکا ہے کہ فوجی طاقت کے ذریعے پہلوی خاندان یا کسی دوسرے امریکی حمایت یافتہ گروہ کو ایران پر مسلط کرنا آسان نہیں۔واپسی پر یہی خیال ذہن میں رہا کہ دنیا میں بہت کچھ بدل رہا ہے۔ کہیں پرانے سیاسی خاندان پس منظر میں جا رہے ہیں، کہیں نئی بدگمانیاں جنم لے رہی ہیں اور کہیں تجارت کے نئے راستے کھولنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ پاکستان کے سامنے بھی راستے ہیں اور رکاوٹیں بھی۔ سفارتکاری میں بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا ضروری ہے، لیکن محض دروازہ کھل جانے سے منزل نہیں ملتی۔ منزل تک پہنچنے کیلئے کوشش ناگزیر ہے۔

تازہ ترین