• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبرپختونخوا میں درّہ خیبر،تیراہ،باڑہ اور کوہاٹ میں آباد آفریدی قبائل کا شمار پشتونوں کے قدیم ،جنگجو اور تند خو قبائل میں ہوتا ہےشوریدہ سر آفریدی قبائل نے تاج برطانیہ کے خلاف شدید مزاحمت کی اور انگریزوں کیلئے درد ِسر بنے رہے۔فروری 1923ء میں انگریز سرکار نے درّہ آدم خیل میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران چادر، چار دیواری کاتقدس پامال کیااور تگنی کا ناچ نچانے والے عجب خان آفریدی کے گھر میں داخل ہوگئے توآفریدیوں نے اس بے عزتی کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔عجب خان آفریدی اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ کوہاٹ چھاؤنی میں داخل ہوگئے اور میجر ایلس کو اغوا کرنے کی نیت سے اس کے گھر میں جاگھسے۔انگریز فوجی افسر کی خواب گاہ میں اندھیرے کے باعث انہوںنے میجر ایلس کی اہلیہ کو مغالطے سے خنجروںکے وار کرکے زخمی کردیا اوراس کی بیٹی مس مولی ایلس کو ڈھال بنا کر وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔بعض روایات کے مطابق اغوا ہوجانے کے بعد مس مولی ایلس کو عجب خان آفریدی سے محبت ہوگئی۔بہر حال بعد ازاں جرگے کے ذریعے مس مولی ایلس کو واپس کردیا گیا۔جس بنگلے سے انگریز فوجی افسر کی بیٹی کو اغوا کیا گیا وہ آج بھی کوہاٹ چھاؤنی میں موجود ہے اور آئی ایس ایس بی سلیکشن بورڈ کے دفتر کے طور پر استعمال ہورہا ہے جبکہ میجر ایلس کی اہلیہ کی قبر بھی کوہاٹ میں موجود ہے ۔1983ء میں مس مولی ایلس کوہاٹ آئیں تو انہوںنے اپنی والدہ کی قبر پر حاضری دی۔عجب خان آفریدی سے پہلے انگریزوں کو ایک اور اکھڑ مزاج اور دھن کے پکے آفریدی سے واسطہ پڑ چکا تھا اور اس کا نام ہے شیر علی آفریدی۔وادی تیراہ کے رہائشی شیر علی آفریدی پنجاب کی گھڑ سوار پولیس میں ملازم تھے اور انگریزوں کے وفاداروں میں شمار ہوا کرتے تھے۔اس دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ان کی زندگی کا رُخ بدل دیا۔شیر علی آفریدی نے اپنے کزن حیدر علی آفریدی کو قتل کردیا۔شیر علی آفریدی کا خیال تھا کہ یہ ان کے خاندان کا ذاتی معاملہ ہے اور کسی کو اس میں ناک گھسیڑنے کی ضرورت نہیں ۔لیکن انگریز سرکار نے اس کی خدمات کا لحاظ کیے بغیر مقدمہ چلایا اور شیر علی آفریدی کو سزائے موت سنادی۔بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف اپیل کے دوران سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ انہیں جزائر انڈیمان نیکو بار کی بدنام زمانہ جیل بھیج دیا جائے۔

کلکتہ سے لگ بھگ 780میل دور خلیج بنگال میں بندرگاہ بلیئر کے قریب یہ جیل انگریز سرکار کے خلاف بغاوت کرنیوالوں کیلئے بنائی گئی تھی اور مشکل ترین حالات کی وجہ سے کالے پانی کی سزا کہلاتی تھی۔فضل حق خیر آبادی،جعفر تھانیسری اور احمداللہ سمیت جدوجہد آزادی کے سینکڑوں گمنام حریت پسندوں کو مختلف ادوار میں یہاں رکھا گیا۔1869ء میں شیر علی آفریدی کو سزا سنانے کے بعد جب کالا پانی منتقل کیا گیاتو اس نے عہد کیا کہ اپنی بے توقیری کا بدلہ لینے کیلئے موقع ملنے پر کسی بڑے انگریز عہدیدار کو قتل کرے گااور تین سال کے صبر آزما انتظار کے بعد یہ موقع میسر آگیا۔ہندوستان کے چوتھے وائسرائے لارڈ میؤ جن کے نام پر لاہورمیؤ اسپتال ،میؤ روڈ اور میؤ اسکول آف آرٹس ہے جو اب نیشنل کالج آف آرٹس کہلاتا ہے،انہیں سیر و سیاحت کا بہت شوق تھا۔فروری 1872ء میں انہوں نے جزائر انڈیمان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔8فروری کا دن تھا ،ان کا دورہ لگ بھگ مکمل ہوچکا تھا،سورج غروب ہونے میں کچھ وقت باقی تھا،لارڈ میؤ نے کوہ ہریٹ جانے کا قصد ظاہر کیا۔ان کےساتھیوں نے منع کیا مگر لارڈ میؤ کو موت انہیں کھینچ کر لے گئی۔ کوہ ہریٹ سے واپسی پر اندھیرا ہوچکا تھا۔جیٹی پر وائسرائے کو لے جانےکیلئے کشتی ان کی منتظر تھی۔اچانک جھاڑیوں سے نمودار ہونے والے ایک لمبے تڑنگے پٹھان نے وائسرائے کی پیٹھ پر چھری سے وار کیااور کسی کے متوجہ ہونے سے پہلے ہی کندھوں میں دو مرتبہ چھری گھونپ دی۔لارڈ میؤ جو پانی میں گھٹنوں تک جھک چکے تھے ،انہیں جہاز میں لایا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔جب شیر علی آفریدی سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا تو اس نے کہا"یہ خدا کا حکم تھا"۔شیر علی آفریدی دراز قد اور مضبوط جسم کا مالک تھا،چنانچہ اس کا وار مہلک ثابت ہوا۔مولوی جعفر تھانیسری نے اپنی تصنیف "تواریخ عجیب المعروف کالا پانی" میں اس واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔شیر علی آفریدی پر وائسرائے ہندوستان کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ چلا کر ایک بار پھر سزائے موت دیدی گئی اور اس بار فیصلے پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے 11مارچ1872ء کووائپر آئی لینڈ پر پھانسی دیدی گئی اور وہیں سمندر کنارے ہی سپرد خاک کردیا گیا۔جعفر تھانیسری لکھتے ہیں:"شیر علی آفریدی بڑا شہ زور اور دلیر تھا،تختہ دار پر لٹکتے وقت بالکل ہراساں نہ تھابلکہ باآواز بلند کہنے لگا "بھائیو،میں نے تمہارے دشمن کو ماردیا ہے،تم گواہ رہو کہ میں مسلمان ہوں۔"پھر وہ کلمہ پڑھنے لگا اور کلمہ پڑھتے پڑھتے اس کی روح پرواز کرگئی۔"

لارڈ میؤ کے قتل نے تاج برطانیہ کو ہلا کر رکھ دیا اور اس واقعہ کے چند ماہ بعد قائم مقام چیف جسٹس نارمن کو کلکتہ میں نواز عبداللہ نے قتل کردیا جبکہ قبل ازیں پشاور میں کمشنر کرنل فریڈرک کو ایک پٹھان نے اسکے بنگلے میں چاقو کے وار کرکے قتل کردیاتھا۔تاہم برسہا برس کےشعوری ارتقا کے بعد اب آفریدی صلح جو، امن پسند اور اعلیٰ تعلیمیافتہ ہو گئے ہیں، بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر بھی متمکن ہیں لہٰذا یہی وجہ ہے کہ اب درشتی و تشدد کے واقعات معدوم ہو چکے ہیں ۔

تازہ ترین