• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمہوریت کی اصل طاقت صرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نہیں بلکہ اس نظام میں بھی پوشیدہ ہے جو عام شہری کے روزمرہ مسائل حل کرتا ہے۔ صاف پانی،پختہ سڑکیں، نکاسیٔ آب، صفائی، اسٹریٹ لائٹس، پارکوں کی دیکھ بھال اور مقامی بازاروں کی بہتری ایسے معاملات ہیں جن کا براہِ راست تعلق بلدیاتی حکومتوں سے ہے۔ اگر عوام کو بنیادی سہولتوں کے حصو ل کیلئے ہر بار کسی وزیر یا رکنِ قومی و صوبائی اسمبلی کے دروازے پر جانا پڑے تو اس کا مطلب ہے کہ مقامی حکومت کا تصور ابھی اپنی اصل منزل تک نہیں پہنچ سکا۔

پاکستان میں بلدیاتی نظام کی تاریخ مختلف تجربات اور سیاسی تبدیلیوں سے عبارت ہے۔ ایوب خان کے دور میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف ہوا، جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے اور پرویز مشرف کے دور میں ضلعی حکومتوں کے ذریعے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم مختلف ادوار میں قوانین کی تبدیلی، منتخب اداروں کی تحلیل اور مالی و انتظامی اختیارات کی محدود منتقلی نے مقامی حکومتوں کے تسلسل کو متاثر کیا۔ نتیجتاً عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے ایک مستحکم اور جواب دہ نظام تشکیل نہ پاسکا۔

پنجاب میں 2015ء کے بلدیاتی انتخابات کے بعد منتخب اداروں نے 2017ء میں ذمہ داریاں سنبھالیں، لیکن 2019ء میں انہیں تحلیل کردیا گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بحالی کے باوجود ان کی مدت 31 دسمبر 2021ء کو مکمل ہوگئی۔ اس کے بعد نئے انتخابات کا انتظار طویل ہوتا چلا گیا۔ یہ صورتِ حال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ جب مقامی حکومت عوام کی بنیادی ضرورت ہے تو اسے بار بار سیاسی اور انتظامی تاخیر کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟

اب پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ایک اہم مرحلہ سامنے ہے۔ الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت کے درمیان ہونے والی مشاورت میں انتخابات کیلئے15دسمبر 2026ء سے 15 جنوری 2027ء تک کی مدت پر اتفاقِ رائے ہوا تھا۔ تاہم بعد میں صوبائی حکومت نے موسم، دھند اور دیگر انتظامی وجوہات کی بنیاد پر انتخابات اپریل 2027ء تک مؤخر کرنے کی تجویز پیش کی، جسے الیکشن کمیشن نے 15 اکتوبر کو مسترد کردیا۔ کمیشن نے انتخابی عمل آگے بڑھانے اور شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کو مزید تاخیر کا شکار کیے بغیر مقررہ انتخابی عمل کے مطابق منعقد کرایا جائے۔ طویل عرصے سے مقامی نمائندگی کے منتظر شہریوں کو یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے علاقے کے نمائندے خود منتخب کریں۔ انتظامی مشکلات کا حل بہتر منصوبہ بندی، مناسب وسائل اور مؤثر انتظامات سے نکالا جانا چاہیے، نہ کہ انتخابات کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کرکے۔ انتخابات کا انعقاد آئینی ذمہ داری کے ساتھ عوامی حق بھی ہے اور اس عمل کوایک تسلسل کیساتھ آگے بڑھانا جمہوری نظام کے استحکام کیلئے ضروری ہے۔آئین پاکستان کا آرٹیکل 140-اے صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل کریں۔ لیکن صرف انتخابات کرا دینا کافی نہیں۔ منتخب اداروں کو واضح اختیارات، مناسب بجٹ، ضروری عملہ اور اپنی مدت پوری کرنے کا موقع بھی ملنا چاہیے۔ اگر ہر ترقیاتی منصوبے کیلئے صوبائی حکومت کی منظوری درکار ہو تو مقامی نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہونے کے باوجود مسائل حل کرنے کی مکمل صلاحیت سے محروم ہی رہیں گے ۔دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات اس حوالے سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ برازیل کے شہر پورٹو الیگرے میں عوامی شمولیت پر مبنی بجٹ سازی کے ذریعے شہریوں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ اپنے علاقوں کی ترقیاتی ترجیحات کے تعین میں حصہ لیں۔ عالمی بینک کی ایک تحقیق کے مطابق وہاں 1988ء سے 1997ء کے دوران پانی اور سیوریج کے کنکشن رکھنے والے گھرانوں کا تناسب تقریباً 75 فیصد سے بڑھ کر 98 فیصد ہوگیا۔ اس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب عوامی ضروریات کو منصوبہ بندی میں مرکزی اہمیت دی جائے تو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔بھارت کی ریاست کیرالہ میں بھی مقامی حکومتوں کو ترقیاتی منصوبہ بندی میں زیادہ کردار دیا گیا۔ اس تجربے میں عوامی شرکت اور مقامی ضروریات کے مطابق وسائل مختص کرنے پر زور دیا گیا۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں بھی بااختیار بلدیاتی ادارے پانی، دیہی سڑکوں، صفائی، بنیادی صحت اور دیگر ضروری سہولتوں کے مسائل زیادہ مؤثر انداز میں حل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

بلدیاتی نظام کا فائدہ صرف شہری سہولتوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق روزگار اور معاشی ترقی سے بھی ہے۔ سڑکوں کی تعمیر و مرمت، صفائی، نکاسیٔ آب، پارکوں کی دیکھ بھال اور مقامی بازاروں کی بہتری کے منصوبوں سے مزدوروں، ہنرمند افراد، چھوٹے ٹھیکے داروں اور کاروباری طبقے کیلئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ بہتر انفراسٹرکچر سے کاروبار کی لاگت کم کرنے، تجارتی سرگرمیاں بڑھانے اور مقامی معیشت کو متحرک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم کے اعدادوشمار بھی اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مقامی اور علاقائی حکومتیں عوامی سرمایہ کاری میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پاکستان میں بھی اگر بلدیاتی اداروں کو مالی وسائل اور انتظامی آزادی فراہم کی جائے تو وہ اپنے علاقوں کی ضرورت کے مطابق منصوبے بنا سکتے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ کی تقسیم شفاف ہو، ٹھیکوں میں میرٹ کو ترجیح دی جائے اور شہریوں کو معلوم ہو کہ ان کے علاقے کیلئے مختص رقم کہاں خرچ ہوئی۔ خواتین، نوجوانوں، مزدوروں، کسانوں اور کم آمدنی والے طبقوں کی ضروریات کو بھی مقامی منصوبہ بندی میں مناسب جگہ ملنی چاہیے۔پنجاب میں آنے والے بلدیاتی انتخابات کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ عوام کو امیدواروں کے انتخاب میں برادری، ذاتی تعلقات اور وقتی نعروں کے بجائے دیانت، کردار، صلاحیت اور عوامی خدمت کو اہمیت دینی چاہیے۔ دوسری طرف منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں اور اپنی کارکردگی کے بارے میں شہریوں کو جواب دیں۔حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی آخری منزل نہیں بلکہ عوامی خدمت کے ایک مؤثر نظام کی ابتدا ہیں۔ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں، منتخب ادارے اپنی مدت پوری کریں، اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور کارکردگی کی شفاف نگرانی ہو تو مقامی حکومتیں عوامی فلاح اور معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرسکتی ہیں۔ پنجاب میں 15دسمبر 2026ء سے 15جنوری 2027ء کے درمیان انتخابات کیلئے طے شدہ مدت کو عملی شکل دینا اسی سمت میں اہم قدم ہوگا۔ جمہوریت اس وقت حقیقی معنوں میں مضبوط ہوگی جب اس کے ثمرات اسمبلیوں سے نکل کر عام آدمی کے گھر، گلی، محلے اور بازار تک پہنچیں گے۔

تازہ ترین