بھارتی سوامی سروپ پریانند نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کی چوتھی بڑی تذلیل کا سبب بن سکتی ہے، ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائڈ کے نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے سروپ نے کہا کہ تاریخ میں ہونے والی 3 بڑی فکری تبدیلیوں نے انسان کے اپنے بارے میں تصورات کو بدل کر رکھ دیا تھا۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو کے دوران سوامی سروپ پریانند نے کہا کہ پہلی بڑی تبدیلی ماہرِ فلکیات کوپر نیکس کے نظریے سے آئی جس نے واضح کیا کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں ہے۔
سوامی کے مطابق دوسری تبدیلی چارلس ڈارون کے نظریۂ ارتقا سے آئی جس نے انسان اور دیگر جانداروں کے تعلق کو واضح کیا، تیسری تبدیلی سگمنڈ فرائڈ کے نظریے سے سامنے آئی جس کے مطابق انسان خود کو مکمل طور پر عقلی سمجھتا ہے لیکن اس کے ذہن میں لاشعوری اور غیر عقلی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب مصنوعی ذہانت، بالخصوص کلاڈ اور چیٹ جی پی ٹی جیسی ٹیکنالوجیز، انسان کی ذہانت اور عقل پر برتری کے تصور کو بھی چیلنج کر رہی ہیں؟
بھارتی میڈیا کے مطابق سوامی سروپ پریانند ان مذہبی اور ثقافتی روایات سے تعلق رکھنے والے افراد میں شامل ہیں جنہیں مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنی اینتھروپک نے مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات، شعور اور اخلاقی ذمے داری جیسے موضوعات پر گفتگو کے لیے مدعو کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ مختلف شعبوں کے ماہرین اس بات پر تشویش محسوس کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ان کے کام تیزی اور بہتر انداز میں انجام دینے لگی ہے۔
سوامی سروپ پریانند نے کہا کہ موجودہ دور میں انسان کو دوبارہ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اسے دوسری مخلوقات اور مشینوں سے کیا چیز منفرد بناتی ہے، اسے اپنی صلاحیتوں کو کن شعبوں میں صرف کرنا چاہیے اور انسان کی اصل خصوصیات کیا ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے قدیم روایات اور فکری ورثے سے بھی رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔
سوامی سروپ پریانند کے مطابق اصل سوال صرف یہ نہیں کہ مشینیں سوچ سکتی ہیں یا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں انسانی ذہانت، شعور اور کائنات میں انسان کے مقام کے بارے میں ہمارے تصورات کو کس طرح تبدیل کر سکتی ہیں۔