روس کے خلاف کارروائیوں میں مصروف یوکرینی فوج کو سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار شیلڈ کے متاثر ہونے کی وجہ سے ایک ملین ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔
امریکی اخبار ’دی نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق یوکرینی ڈرونز روسی فوجی اہداف کی جانب بڑھ رہے تھے کہ اچانک ان کی ویڈیو فیڈ بند ہوگئی اور سیٹلائٹ کنکشن منقطع ہونے سے متعدد ڈرون زمین پر گر گئے۔
یوکرینی فوج کے ایک سینئر کمانڈر نے بتایا کہ اسٹار شیلڈ سروس میں خرابی کے باعث ان کے یونٹ کو تقریباً 3 روز تک بیشتر کارروائیاں روکنا پڑیں، جن میں روسی کمانڈ پوسٹس اور ایندھن کے مراکز کو نشانہ بنانے کے آپریشن بھی شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق یوکرینی فوج روسی پیش قدمی سست کرنے اور اگلے محاذ پر اپنے فوجیوں کے تحفظ کے لیے ان ڈرون حملوں پر انحصار کرتی ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق ابتدائی طور پر ڈرونز کا رابطہ تقریباً 40 میل فی گھنٹہ کی رفتار پر بھی منقطع ہونے لگا تھا پھر صورتِ حال میں کچھ بہتری آئی لیکن 100 میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر رابطے میں مسائل برقرار رہے۔
یوکرینی بریگیڈیئر جنرل آندری بیلیتسکی کے مطابق اس سے پہلے اسٹار شیلڈ استعمال کرنے والے ڈرون تقریباً 250 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی رابطہ برقرار رکھ سکتے تھے۔
اُنہوں نے خبردار کیا کہ رفتار کی پابندی روسی ڈرونز کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے یوکرین کے دفاعی نظام کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
اسٹار شیلڈ، ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی تیار کردہ فوجی اور سرکاری استعمال کی سیٹلائٹ سروس ہے، جو اسٹار لنک ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔ اس کا مقصد محفوظ مواصلاتی رابطے اور قومی سلامتی سے متعلق ضروریات پوری کرنا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج اسے ڈرونز کے رابطے، ویڈیو فیڈز اور میدانِ جنگ میں مواصلات کے لیے استعمال کرتی ہے۔ رابطہ منقطع ہونے کی صورت میں ڈرون آپریٹرز کے لیے پرواز کے دوران طیاروں کو کنٹرول کرنا اور اہداف کی نگرانی کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
یوکرینی حکام کو شبہ ہے کہ یہ پابندیاں روسی تیل صاف کرنے والے کارخانوں پر یوکرین کے حملوں کو روکنے اور کیف پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کا حصہ ہوسکتی ہیں لیکن اس مقصد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
اس حوالے سے ایلون مسک نے کہا کہ اسٹار شیلڈ امریکی حکومت کی ملکیت اور کنٹرول میں ہے اور اس کے استعمال یا رفتار سے متعلق پابندیوں کا فیصلہ امریکی فوج اور صدر کرتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 21 اکتوبر کو کہا کہ یوکرین کو اسٹار لنک تک رسائی سے متعلق تمام فیصلے اسپیس ایکس اور اس کے سربراہ ایلون مسک کے اختیار میں ہیں، وائٹ ہاؤس کے نہیں۔
امریکی حکام نے جان بوجھ کر سروس بند کرنے کے الزامات کی تردید بھی کی ہے۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس حوالے سے امریکی حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ رابطوں میں تبدیلیوں کے باعث ڈرون آپریشنز، میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت اور روسی حملوں سے خبردار کرنے والے نظام متاثر ہوئے ہیں۔