مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو مصر کی فوجی مدد کا مقصد مملکت کی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع ہے، یمن پر حملے کرنا نہیں۔
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے خط کے ذریعے سعودی ولی عہد کو آگاہ کر دیا۔
اس سے پہلے قاہرہ میں ایک تقریب سے خطاب میں عبدالفتاح السیسی کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہونا باہمی عرب قومی سلامتی کا فطری تسلسل ہے۔
السیسی نے واضح کیا کہ مصر کی فوجی کوششیں سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہیں اور ان میں یمن پر حملے شامل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر کسی بھی دوسرے عرب ملک کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع میں بھی مدد کر سکتا ہے، بشرطیکہ متعلقہ ملک اس کی درخواست کرے۔
مصری صدر نے زور دیا کہ مصر کی فوجی کارروائیاں اپنی سرحدوں سے باہر یا اس عرب ملک کی حدود سے آگے نہیں بڑھیں گی جس کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے قاہرہ مدد فراہم کر رہا ہو۔
دوسری طرف مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کا کہنا ہے کہ مصر یمن تنازع کے ہر ممکن سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے، جس کے تحت سیاسی حل کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے اور باب المندب کے نزدیک قبضہ کیے گئے علاقوں سے حوثیوں کا انخلا بھی ضروری ہے۔