آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سارا عالم گوش بر آواز ہے
آج کن ہاتھوں میں دل کا ساز ہے
ہنس دئیے وہ میرے رونے پرمگر
ان کے ہنس دینے میں بھی اک راز ہے (مجاز)
سیاسی راز و نیاز کی باتیں اب آہستہ آہستہ کھل رہی ہیں۔ جوں جوں تھیلے کھلیں گے کئی راز کھل جائیں گے۔ الیکشن ٹریبونل نے تو بیگ کھولنے کا حکم دے دیا مگر دوسری پارٹی اب سپریم کورٹ گئی ہے کہ بیگ نہ کھولے جائیں۔ دیکھئے کیا حکم ہوتا ہے۔ ظاہری طور پر تو تھیلے کھول کر دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ شک دور ہوجائیگا بہرحال جیتی ہوئی سیٹ ہارنا بھی تو آسان نہیں۔ سندھ میں الیکشن ٹریبونل کے فیصلوں سے جناب لیاقت جتوئی صاحب اور جناب غوث علی شاہ صاحب منتخب قرار دئیے جا چکے ہیں اس سے پہلے مروت صاحب اپنی نشست سے محروم ہوچکے ہیں۔ بہرحال سیاسی فضا تو نئے انتخابات کی طرف جارہی ہے میں نے اپنے گزشتہ کالموں میں متواتر پیشگوئی کی تھی کہ دھرنے ناکام ہونے کے بعد خودبخود ختم ہوجائینگے اور فیس سیونگ کیلئے دھرنے جلسوں میں جلسے، جلوسوں میں اور جلوس پہیہ جام ہڑتالوں میں تبدیل ہوجائیں گے اور سیاسی تبدیلی کے آثار نظر آنے شروع ہوجائیں گے جو کہ شاید جنوری 2015ء سے مارچ 2015ء کے درمیان آنے کے قوی امکانات ہیں۔ فیصل آباد میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے عمران خان کے احتجاج کو اپنی اسٹریٹ پاور سے روکنا ایک بڑی سیاسی

غلطی تھی۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔کوئی بڑا تصادم بھی ہوسکتا تھا۔ مجھے 12مئی کے واقعات ابھی تک یاد ہیں جب چوہدریوں نے جناب پرویز مشرف سے اسلام آباد میں ایک بڑا جوابی جلسہ کروایا اور انہوں نے دونوں بازوئوں سے مکے بناکر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ادھر کراچی میں گھمسان کی جنگ ہوئی اور کتنی ہی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا اور پھر تیرہ مئی کو کاروبار زندگی رواں دواں ہوگیا۔ فیصل آباد کے بعد کراچی کی باری آئی۔ خدا کا شکر ہے کہ سندھ کے سیاستدانوں نے بردباری اور عقلمندی کا مظاہرہ کیا۔ جناب خورشید شاہ اور الطاف بھائی نے جمہوری حق اور احتجاج کے حق کی حمایت میں بیانات دئیے اور ماحول سازگار رہا۔ کراچی بہت بڑا شہر ہے اور یہاں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔ ذرا سی لغزش تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔کراچی کے بعد لاہور کی باری ہے۔ لاہور کی پولیس تو اندھوں کو نہیں بخشتی۔ خدا آنکھوں والوں کی خیر کرے۔ بقول غالب
فلک! نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
دراز دستی قاتل کے امتحان کے لئے
آج کل مختلف چینلز پر علامہ طاہر القادری صاحب کو وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے مختلف دوائیں کھاتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ خدا ان کو صحت دے۔ میرے اندازے کے مطابق وہ بھی جنوری کےدوسرے ہفتے تک رو بصحت ہوکردوبارہ میدان میں آ جائیں گے۔ کیونکہ اب فائنل رائونڈ کا وقت قریب آرہا ہے اوراس موقع پر تمام جمہوری طاقتیں یکجا ہوکر 1977ء کے نو ستاروں کا کردار ادا کریں گی اور پھر چاند نمودار ہونے کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔
1977ء میں بھی موومنٹ مارچ میں شروع ہوئی تھی اور شروع میں جمعے کے جمعے خواتین کے جلوس جماعت اسلامی کی طرف سے نکلتے تھے پھر کبھی وکلاء کے جلوس نکلتے تھے پھر نوبت پہیہ جام ہڑتالوں اور کرفیو پر آئی۔ ضیاء الحق فوج کے سربراہ تھے اور بھٹو کی حکومت کا ساتھ دینے کے بیانات دیتے تھے اور پھر مذاکرات کی میز پربھی بیٹھے تھے۔موومنٹ چارماہ چلتی رہی۔بے شمار لوگوں نے گرفتاریاں دیں۔جیلوں میں گئے۔ گولی بھی چلی اور بالآخر 4جولائی 1977ء کو پی این اےکی آخری میٹنگ بھٹو صاحب کے ساتھ ہوئی اور معاملات طے پا گئے اسی رات جب بھٹو صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنی مذاکرات کی کامیابی کا جشن منا رہے تھے آپریشن فیئر پلے ہوگیا۔ بھٹو صاحب کے ساتھ جو مہمان بھی تاریخ بدلنے کے بعد اپنے گھر پہنچا وہیںمحصور کرلیا گیا اور پھر 5جولائی کو سب مہمان بھٹو صاحب کے مری کے مہمان ہوگئے۔ پرانے زمانے میں کہاوت تھی کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ خیر یہ کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ تاریخ خود کو دھرائے گی یا کسی نئے باب کا اضافہ کرے گی۔ بین الاقوامی طاقتیں بھی ہمارے اندرونی سیاسی حالات کا بغور جائزہ لے رہی ہیں اور بظاہر جمہوریت کا راگ الاپ رہی ہیں اور جمہوریت پر آنچ نہ آنے دینے کی باتیں کررہی ہیں۔ بالکل ایسی ہی باتیں 12اکتوبر 1999ء کو بھی بیرونی طاقتور نے کی تھیں جس سے میاں صاحب بہت مطمئن اور خوش ہوگئے تھے اور اسی اطمینان میں انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف ہی بدل ڈالا تھا جس نے بعد میں سب کچھ ہی بدل ڈالا۔ آنے والے سیاسی حالات بہت گمبھیر ہیں اس لئے اس وقت کوئی بھی پیش گوئی وثوق کے ساتھ کرنا ممکن نہیں ہے مگر جس طرح پرانے زمانے میں خط لکھنے والا آخر میں لکھتا تھا کہ تھوڑے لکھے کو زیادہ جانیں اور سب خط سننے والوں اور پڑھنے والوں کو سلام۔ اسی طرح فی الحال میں بھی تھوڑا لکھنے پر اکتفا کرتا ہوں اور تمام پڑھنے والوں کی خدمت میں سلام پیش کرتا ہوں۔ گزشتہ روز الطاف بھائی نے بھی بڑی پرمغز اور معنی خیز تقریر کی ہے۔ اس کے دور رس اثرات ہوں گے۔ بائو انور کا قتل ان سیاسی حالات میں اور ایسے موقع پر بذات خود ایک سوالیہ نشاں ہے اور بقول مصطفیٰ زیدی…
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں