• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دنیا میں اگر پاکستان کے کوئی سچے دوست ممالک ہیں تو ان میں سرِ فہرست ترکی اور چین ہی آتے ہیں۔ ترکی کو چین پر اس لئے برتری حاصل ہے کہ ان دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بڑے گہرے ، تاریخی ، ثقافتی، سیاسی، مذہبی اور سماجی تعلقات استوار ہیں جن کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے.دونوں ممالک کے درمیان یہ تعلقات قیام پاکستان سے قبل ہندوستان میں مغلیہ سلطنت اور ترکی میں خلافت عثمانیہ کے دور سے چلے آرہے ہیں۔ ہندوستان میں مغلیہ سلطنت دراصل وسطی ایشیا سے آئے ہوئے ترکوں (مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کا تعلق بھی فرخانہ کے ایک ترک گھرانے ہی سے تھا ) ہی کی جانب سے ہندوستان میں قائم کی گئی تھی۔ ان دونوں عظیم سلطنتوں کے حکمران گھرانوں کے درمیان بڑے گہرے مراسم موجود تھے اور ان گھرانوں کے اہلِ خانہ شادی بیاہ کے بندھن میں بھی بند ھے ہوئے تھے ۔ انگریزوں کے ہندوستان پر قبضے اور مغلیہ سلطنت کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں نے خلافت عثمانیہ ہی کو اپنی معنوی سلطنت سمجھا اور جب ترکی میں سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تو ہندوستان کے مسلمانوں نے شدید ردِ عمل ظاہر کیا اور انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں کی جانب سے ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کے حق میں قائم کردہ تحریک خلافت سیلابِ بیکراں کی طرح پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لئے چلی جا رہی تھی۔ انگریزوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے جذبات کوٹھنڈا کرنے کے لئے حکومتِ ترکی کی جانب سے خلافت کے خاتمے کے اعلان پر مشتمل خبروں کو بڑے پیمانے پر نشر کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اخبارات میں شائع بھی کیا تاکہ مسلمانوں کو باور کرایا جاسکے کہ خلافت کے خاتمے میں انگریزوں کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے بعد انگریز ہندوستان میں مزید کچھ عرصے تک اپنی حاکمیت جاری رکھنے میں کامیاب رہے لیکن ترکی میں خلافت کے خاتمے کے باوجود ہندوستان کے مسلمانوں میں ترکی اور ترکوں سے انسیت اور محبت میں کمی نہ آئی بلکہ یہ محبت بڑھتی ہی چلی گئی اور انہوں نے ترکوں کی بقا اور آزادی کے لئے مالی امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ انہوں نے ترکی کی جنگِ نجات کے قائد اور کمانڈر غازی مصطفیٰ کمال اتاترک کی مالی امداد کے لئے اپنا تن من سب کچھ لٹادیا ۔ مسلمان خواتین نے اپنے زیورات بیچ کر جس طریقے سے ترکوں کی مدد کی اور دولت کے انبار لگادیے تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف سے جمع کردہ اس رقم اور زیورات کو افغانستان اور روس کے راستے ترکی میں غازی مصطفیٰ کمال اتاترک تک پہنچادیا گیا۔ جنہوں نے اس رقم کو مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے اسلحے کے لئے استعمال کیا اور باقی رقم کو ترکی میں اِ ش بینک( اِش بینک آج ترکی کا سب سے بڑا بینک ہے) میں بنیادی سرمایے کے طور پر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ انقرہ ہی میں " اتاترک جنگل اور فارم سینٹر" کی وسیع اراضی کو بھی خریدا جس میں موجود ہ دور میں ترکی کے صدر کے لئے نیا صدارتی محل بھی تعمیر کیا گیا ہے۔اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ترکی کے نئے صدارتی محل کی بنیادیں دراصل ہندوستان کے مسلمانوں( قیام پاکستان سے قبل کے مسلمانوں) کے سرمایے سے خریدی جانے والی سرزمین پر رکھی گئی ہیں جو دونوں ممالک کی دوستی کو مزید مضبوط اور گہرا کرتی ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں یا پھر موجودہ پاکستانی باشندوں کی بے لوث محبت کے بدلے ترک بھی پاکستانیوں پر اپنی جان نثار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں ۔ ترک مسئلہ کشمیر کے حل میں جس طرح پاکستان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک نے پاکستان کی یوں حمایت کی ہو۔ اسی طرح قبرصی ترک جو 1974 ء کی قبرص جنگ میں تنہا رہ گئے تھے کی مدد کو صرف پاکستان ہی دوڑا تھا اور پاکستان کے جنگی طیاروں نے اس جنگ میں شرکت کرتے ہوئے ترکی کی عملی طور پر مدد کی تھی ۔ جنگ کے بعد پاکستان نے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کا بیورو (سفارت خانے کی سطح کا دفتر) کھولتے ہوئے اپنی دوستی کا جو حق نبھایا ہے اس کو بھلا کونسا ترک فراموش کرسکتا ہے؟ ترکی میں سترکی دہائی سے جاری دہشت گردی پر قابو پانے اور ترکی کا ساتھ دینے کے لئے اگر کوئی ملک آگے بڑھا ہے تو بلا شبہ یہ ملک پاکستان ہی ہے۔ ترک مسلح افواج کو علاقے میں دہشت گردی پر قابو پانے اور امن و امان کے قیام کے لئے جس اسلحے اور فوجی سازو سامان کی ضرورت تھی اور مغربی ممالک نے ترکی دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے اسلحہ دینے سے انکار کردیا تھا تو پاکستان ہی نے اپنی بساط کے مطابق ترکی کو گولہ بارود فراہم کیا تھا ۔ یہ دونوں ممالک ہمیشہ ہی کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کی مدد کرتے چلے آئے ہیں اور آج بھی ان کے درمیان محبت کا یہ رشتہ قائم و دائم ہے بلکہ اس رشتے میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس وقت ترکی میں صدر رجب طیب ایردوان اور وزیراعظم احمد داؤد اولو اور پاکستان کے رہنماؤں وزیراعظم میاں نواز شریف،وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اور صدر ممنون حسین کے خیالات اور سوچ میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس وقت ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اولو کا دورہ بھی دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ترکی نے حالیہ بارہ برسوں کے دوران جس شاندار طریقے سے ترقی کی ہے اور اقتصادی لحاظ سے استحکام حاصل ہوا ہے اسی قسم کی ترقی اور اقتصادی استحکام میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف بھی پاکستان میں قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران بھی حکومت ترکی کے ساتھ بڑے قریبی مراسم قائم کرنے میں کامیاب رہے اور انہوں نے اپنے کئی منصوبوں کو پیپلز پارٹی کے دور ہی میں مکمل کیا اور اب بھی ترکی کے ساتھ نئے منصوبوں کو شروع کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس وقت پاکستان اور ترکی دونوں ممالک میں ایسی حکومتیں موجود ہیں جو صدقِ دل سے اپنے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں ۔ اب ان دونوں حکومتوں کا یہ فرض ہے کہ تاریخی تعلقات کو مستقبل کی جانب لے جانے اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے لئے تعاون کے نئے سمجھوتوں پر دستخط کیے جائیں اور ان پر عمل درآمد کے نظام کو بھی وضع کرلیا جائے،بلکہ دونوں ممالک کے عوام ان سے مستفید ہوسکیں۔ ترکی اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے تک تجارتی حجم ایک بلین ڈالر سے کم رہا ہے لیکن ترکی کے وزیراعظم کے گزشتہ سال ماہ اکتوبر میں دورہ پاکستان کے دوران تجارتی حجم کے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا اور پانچ سالوں کے دورا ن یعنی سن 2015 تک تجارتی حجم پانچ بلین ڈالرتک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام ہائی لیول کواپریشن کونسل (HLCC) کے اجلاس میں اس موضوع کی جانب لازمی طور پرغور کریں گے اور ہدف پر نظر ثانی کرنے یا پھر ہدف کو حاصل کرنے کے نئے نئے طریقہ کار پر بات چیت کرسکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اس سے قبل تین HLCCکے اجلاس منعقد ہوچکے ہیں .
آخر میں قارئین اور اپنے صحافی دوستوں سے درخواست ہے کہ وہ ترکی کی اعلیٰ سرکاری اورسیاسی شخصیات کا نام تحریر کرتے وقت انگریزی اخبارات کا سہارا لینے کی بجائے ترکی ریڈیو اور ٹیلی ویژن (TRT) کی سرکاری ویب سائٹ www.trt.net.tr/urdu سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ صرف ترکی زبان میں استعمال کیے جانے والےاسپیشل لفظ کو’’Ğ‘‘ جس پر خصوصی نشان لگا ہوا ہوتا ہے انگریزی زبان کے لفظ’’G‘‘ سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی کوئی آواز نہیں ہوتی یا پھر دو حروفِ علت کو طول دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اولو (Davutoglu) کو اردو میں اوگلو ، اوغلو یا پھر اوعلو تحریر کرنے سے گریز کیا جائے (کیونکہ ترکی زبان میں ع اور غ جیسے الفاظ بھی استعمال نہیں ہوتے ہیں) بلکہ ’’ اولو‘‘ کے طور پر تحریر کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
تازہ ترین